یانس بحرآکس: دنیا کے سب سے خطرناک علاقوں میں تصاویر لینے والے فوٹوگرافر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پناہ گزینوں کے بحران کی کوریج پر یانس بحرآکس اور ان کی ٹیم کو بہت سراہا گیا۔ یہ شامی پناہ گزین خاندان کی تصویر ان میں سے ایک ہے جن پر انھیں فوٹوگرافی کے سب سے بڑے اعزاز پولیٹزر پرائز سے نوازا گیا

پیولٹزر پرائیز جیتنے والے فوٹوگرافر یانس بحرآکس کینسر سے طویل لڑائی کے بعد 58 سال کی عمر میں فوت ہو چکے ہیں۔

یانس 1960 میں یونان کے دارالحکومت ایتھینز میں پیدا ہوئے۔ اپنے 30 سالہ کیرئیر کے دوران انھوں نے دنیا بھر کے قدرتی آفات اور لوگوں کی مشکلات کو اپنے کیمرے میں قید کیا۔

سنہ 2016 میں پناہ گزینوں کی کوریج پر ان کی ٹیم کو فوٹوگرافی کے سب سے بڑے اعزاز پولیٹزر پرائز سے نوازا گیا۔

آئیے آپ کو ان کی چند تصاویر دکھاتے ہیں۔

بحریاکیس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ تصویر کُرد پناہ گزینوں کی ہے جو 1990 کی دہائی میں عراق اور ترکی کے سرحدی علاقوں سے جان بچا کر نکلے
صومالیہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ تصویر 1992 کی ہے جب صومالیہ میں امریکہ نے 'ریسٹور ہوپ' نامی کیمپین شروع کی تھی
بحریاکیس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ تصویر یانس بحرآکس نے بالکن جنگ کے دوران لی
بحریاکیس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ تصویر 1995 کی ہے جس میں چیچن باغیوں کو روسی فوج پر گولیاں چلاتے دیکھا جا سکتا ہے
بحریاکیس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بحریاکیس نے اس لمحے کی تصویر کھینچی جب سیئرا لیون میں حکومتی فوجیوں نے ایک 18 سالہ باغی کو گرفتار کیا
بحریاکیس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسی سال یانس بحرآکس نے سیئرا لیون میں اپنی یہ تصویر باغیوں کی قید سے بچ نکلنے کے بعد لی۔ اس حملے میں دو اور صحافی ہلاک ہو گئے تھے
غزہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption غزہ کی پٹی پر کھیتوں میں کھڑے ایک اسرائیلی فوجی کی یہ تصویر 2018 میں لی گئی
افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بحریاکیس نے طالبان کے خلاف جنگ کی بھی کوریج کی۔ امریکی فوجیوں کی یہ تصویر انھوں نے 2010 میں افغانستان میں لی
قاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2011 میں قاہرہ میں مظاہرین، جن پر پولیس پانی اور آنسو گیس پھینک رہی ہے
بحریاکیس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یانس بحرآکس نے تحریر سکوائر، قاہرہ میں مظاہروں کی کوریج بھی کی۔ یہاں پر حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد ایک خاردار تار کے پیچھے کھڑے ہیں
گریس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسی سال انھوں نے یونان میں پرتشدد مظاہروں کی کوریج بھی کی
یوکرین تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 2004 کے اولمپک کھیلوں سے پہلے انھوں نے یوکرینی تیراکوں کی تصاویر بھی کھینچیں

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں