تصاویر بتاتی ہیں کہ شمالی کوریا شاید راکٹ لانچ کی تیاری کر رہا ہے

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’مجھے بہت مایوسی ہوگی اگر میں نے میزائل تجربہ ہوتے دیکھا۔‘

پیانگ یانگ کے قریب ایک مرکز کی سیٹلائٹ تصاویر سے یہ اشارے ملے ہیں کہ شاید شمالی کوریا میزائل یا سیٹلائٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

سنم ڈانگ نامی مرکز کے قریب سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، یہ وہی علاقہ ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا نے زیادہ تر بلاسٹک میزائل اور راکٹس یہاں جمع کر رکھے ہیں۔

یہ خبر ایسی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا جارہا تھا کہ سوہو میں واقع شمالی کوریا کی مرکزی راکٹ لانچ سائٹ دوبارہ تعمیر کی گئی ہے۔

سوہو کو ختم کرنے کا کام گذشتہ سال شروع ہوا تھا لیکن جیسے ہی امریکہ کہ ساتھ بات چیت شروع ہوئی تو اسے روک دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’اکیسویں صدی کا سب سے اہم سیاسی جوا‘

کم ٹرمپ ملاقات ہنوئی میں ہی کیوں؟

شمالی کوریا کی جانب سے تازہ امریکی پابندیوں کی مذمت

جمعے کے روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے دوبارہ ہتھیاروں کے تجربے شروع کیے تو وہ بہت مایوس ہوں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں منفی انداز میں بہت حیران ہوں گا اگر انھوں نے کچھ ایسا کیا جو ہمارے سمجھوتے کے مطابق نہیں تھا۔ لیکن ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘

’مجھے بہت مایوسی ہوگی اگر میں نے میزائل تجربہ ہوتے دیکھا۔‘

تجزیہ کاروں کا خیال ہے اس مرحلے پر زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ پیانگ یانگ میزائل تجربے کے بجائے سیٹلائٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

تاہم امریکہ نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ یہ ان وعدوں کی خلاف ورزی ہوگی جو شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اُن نے صدر ٹرمپ کے ساتھ کیے تھے۔

سنم ڈانگ میں کیا ہو رہا ہے؟

سنم ڈانگ کے آس پاس بڑی گاڑیوں کی نقل و حرکت دیکھی جارہی ہے، ماضی میں ایسی سرگرمیوں کا مطلب تھا کہ شمالی کوریا کم از کم کسی قسم کے میزائل منتقل کرنے یا راکٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

سیٹلائٹ کی تصاویر امریکی ریڈیو نیٹ ورک این پی آر کی طرف سے شائع کی گئی تھیں۔

سیول میں بی بی سی کی نمائندہ لورا بیکر کہ کہنا ہے ہنوئی میں صدر ٹرمپ اور کم جانگ ان کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد شاید شمالی کوریا امریکہ کا امتحان لے رہا ہے، اس امید پر کہ امریکہ اس لانچ کو رکوانے کے لیے کوئی بہتر ڈیل آفر کرے گا۔

ہماری نمائندہ کا مذید یہ کہنا ہے کہ ماہرین کے مطابق جو راکٹ سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں عموماً لانگ رینج میزائل کے لیے ان کا استعمال نامناسب سمجھا جاتا ہے۔

ویتنام کے دارالحکومت میں دونوں رہنماوں کے درمیان ایک بہت متوقع ملاقات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔

سوہو کے مرکز میں کیا ہو رہا ہے؟

سوہو کے مرکز میں واقع ٹونگ چینگ سائٹ اس سے پہلے سیٹلائٹ لانچ اور انجن کی جانچ کے لیے استعمال کی گئی ہے لیکن کبھی بھی بیلسٹک میزائل لانچ کرنے کے لیے اس کا استعمال نہیں کیا گیا۔

اس ہفتے امریکی تھنک ٹینکس کی طرف سے جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر جن کی جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس سروس تصدیق بھی کر رہی ہے، یہ ظاہر کرتی ہیں کہ راکٹ لانچ پیڈ پر تعمیراتی ڈھانچوں کی تعمیر میں تیزی سے پیش رفت کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوہو، شمالی کوریا کے متنازعہ سیٹلائٹ لانچ کا مقام رہا ہے

امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹ کا کہنا تھا کہ اگر ڈی نیوکلرآئزیشن پر کوئی پیش رفت نہیں دیکھی گئی تو شمالی کوریا کو زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سنہ 2018 میں صدر ٹرمپ اور کم جانگ اُن کے درمیان سنگاپور میں ہونے والی پہلی تاریخی ملاقات میں ’ڈی نیوکلرآئزیشن‘ پر ایک غیر واضح معاہدہ ہوا تھا لیکن اس پر بہت کم پیش رفت ہوئی۔

اسی بارے میں