شمالی کوریا: الیکشن ہوگیا لیکن کم جونگ ان کا نام بیلٹ پر نہیں

شمالی کوریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شمالی کوریا کے انتخابات میں پہلی مرتبہ سپریم لیڈد کم جونگ ان کا نام بیلٹ میں شامل نہیں

شمالی کوریا میں ہونے والے انتخابات کے نتیجہ میں اس کی حاکمانہ قیادت کو متوقع بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم پہلی مرتبہ کم جونگ ان کا نام بیلٹ پر دکھائی نہیں دیا۔

اگر اس بات کی تصدیق ہو جائے تو یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر نے اپنی نام نہاد پارلیمان کے لیے انتخاب نہیں لڑا۔

البتہ ووٹنگ میں ان کی بہن کم یو جونگ پارلیمان میں منتخب ہوئی ہیں اور آہستہ آہستہ وہ ایک بااثر کردار بن کر سامنے آرہی ہیں۔

کم خاندان شمالی کوریا کے پارلیمانی انتخاب کو اپنے اقتدار کو جائز بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے، تاہم بین الاقوامی دنیا اس کی مذمت کرتے ہوئے اس کو ایک بے معنی مشق قرار دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شمالی کوریا میں کم جونگ ان کا درجہ ’تقریباً خدا کے برابر‘

شمالی کوریا کا فوجی بھاگ کر جنوبی کوریا پہنچ گیا

دنیا کے خفیہ ترین ملک کے اندر زندگی

سرکاری میڈیا نے منگل کو سپریم پیپلز اسمبلی (ایس پی اے) میں منتخب ہونے والے 687 ممبران کے ناموں کا اعلان کیا تھا مگر ان میں کم جونگ کا نام نہیں پڑھا گیا۔

شمالی کوریا کی ویب سائٹ این کے نیوز سے وابستہ تجزیہ کار ریچل من یانگ لی نے بی بی سی کو بتایا کہ منتخب ممبران کی فہرست میں ان کے نام کا نہ ہونا اقتدار پر ان کی کمزور گرفت کو ظاہر نہیں کرتا۔

ریچل کا کہنا تھا کہ 'یہ شمالی کوریا کے جانب سے اسے ایک 'عام ریاست' سمجھے جانے کے لیے جاری کوشیشوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ زیادہ تر جمہوری ممالک میں صدر کے پاس پارلیمان میں متوازی نشت نہیں ہوتی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سپریم لیڈر کم جونگ کی چھوٹی بہن کم یو جونگ ایک بااثر کردار بن کر سامنے آرہی ہیں

جہاں تک سپریم لیڈد کی بہن کا تعلق ہے، اس پر تجزیہ کار ریچل لی کا کہنا تھا کہ کم یو جونگ سنہ 2014 کے انتخابات میں منتخب نہیں ہوئیں تھیں۔

تاہم وہ تب سے ممکنہ طور پر کسی رکن کی موت کے بعد ضمنی انتخاب کے ذریعے سپریم پیپلز اسمبلی کی رکن بن گئیں تھیں۔

سنہ 2014 سے کم یو جونگ کے سیاسی کردار میں اس وقت سے اضافہ ہوا جب انھیں پارٹی کے اہم پراپیگینڈا اور ایجیٹیشن محکمہ کی وائس ڈائریکٹر بنایا گیا تھا۔

وہ اپنے بھائی کے ساتھ بیرونی دوروں پر بھی متواتر دکھائی دیتی رہی ہیں جیسا کہ ہنوئی میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونی والی حالیہ ملاقات میں بھی وہ شامل تھیں۔ جو ان کی کم جونگ کے لیے بطور ایک قریبی ساتھی اہمیت واضح کرتی ہے۔

شمالی کوریا میں حکومت کو ووٹ دینا لازمی؟

شمالی کوریا کے شہریوں نے ملک کی نام نہاد پارلیمنٹ کا انتخاب کرنے کے لیے ووٹ دیا۔

جب سے کم جونگ نے اقتدار سنبھالا ہے، یہ ملک میں ایسا دوسرا الیکشن ہے۔

شمالی کوریا میں پیپلز سپریم اسمبلی کے لیے ووٹنگ لازم ہے، لیکن ووٹروں کے پاس امیدواروں کے انتخاب کا کوئی حق نہیں ہے اور کسی قسم کی اختلاف رائے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں ہے

ووٹنگ کی شرح ہمیشہ 100 فیصد کے قریب ہوتی ہے اور حکومتی اتحاد کے لیے منظوری پر اتفاق ہوتا ہے۔

شمالی کوریا ایک تنہا ریاست ہے جس پر کِم خاندان کا اقتدار چل رہا ہے۔ شہریوں کے لیے لازم ہے کہ وہ کم خاندان کے لیے مکمل عقیدت ظاہر کریں۔

تو یہ کیسے کام کرتا ہے؟

الیکشن کے دن 17 یا اس سے زیادہ عمر کی تمام آبادی کو باہر آکر ووٹ ڈالنا لازم ہوتا ہے۔

شمالی کوریا کے تجزیہ کار فیوڈور ٹرٹِٹسکی جو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’وفاداری کے اظہار کے لیے آپ سے امید کی جاتی ہے کہ آپ صبح جلدی اٹھ کر باہر آئیں، جس کا مطلب ہے کہ لمبی قطاریں۔‘

جب آپ کی باری آتی ہے تو آپ کو صرف ایک بیلٹ پیپر ملتا ہے جس پر صرف ایک نام ہوتا ہے۔ آپ نے کچھ پُر نہیں کرنا اور نہ ہی کسی باکس پر نشان لگانا ہے۔آپ وہ پیپر لے کر بیلٹ باکس میں ڈالتے ہیں جو کھلے میں پڑا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہر قسم کے اہم مواقع پر خوشی کا اظہار شمالی کوریا میں لازمی ہے

ایک ووٹنگ بوتھ بھی ہوتا ہے جہاں آپ تنہائی میں ووٹ ڈال سکتے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں ایسا کرنا فوری طور پر شک کا باعث بن جائے گا۔

نظریاتی طور پر آپ اُس ایک امیدوار کو کراس کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ لیکن فیوڈور ٹرٹِٹسکی کے مطابق ایسا کرنے کا یقینی طور پر یہ مطلب ہوگا کہ خفیہ پولیس آپ کے پیچھے جائے اور آپ کو پاگل قرار دیا جائے گا۔

شمالی کوریا کی خاص نیوز ویب سائٹ این کے نیوز کے ساتھ منسلک ایک تجزیہ کار مینیونگ لی بتاتے ہیں ’ریاستی میڈیا پر الیکشن کے دن کو ایک تہوار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جہاں پولنگ سٹیشن کے باہر لوگ جشن منا رہے ہوتے ہیں۔‘

چونکہ ووٹ ڈالنا لازم ہے، اس لیے الیکشن حکام کے لیے ایک طرح سے مردم شماری کا کام کرتا ہے جس میں وہ کسی انتخابی حلقے کی آبادی کی نگرانی کر سکتے ہیں اور چین بھاگ جانے والے غداروں کا سراغ بھی لگا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نظریاتی طور پر پارلیمنٹ کم جونگ کو اقتدار سے ہٹا سکتی ہے

پارلیمنٹ کے پاس کیا اختیارات ہیں؟

سپریم پیپلز اسمبلی (ایس پی اے) ایک نام نہاد ادارے کی طرح ہے جس کے پاس کوئی اختیارات نہیں۔

شمالی کوریا میں پارلیمنٹ قانون سازی کا واحد ادارہ ہے جس کا انتخاب ہر پانچ سال بعد کیا جاتا ہے۔

فیوڈور ٹرٹِٹسکی کہتے ہیں ’میں جانتا ہوں کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ تھوڑی محدود ہوتی ہے اور وہ ایسا رپورٹ کرتے ہیں کہ ایس پی اے کے پاس کم اختیارات یا اثرورسوخ ہے، لیکن یہ درست نہیں۔ اصل میں ان کے پاس صفر اختیارات ہیں۔‘

دراصل قوانین پارٹی عہدے داران کی طرف سے لکھے جاتے ہیں اور بعد میں رسمی طور پر ایس پی اے ان کی منظوری دیتی ہے۔

نظریاتی طور پر تو یہ ممکن ہے لیکن اصل میں ایسا ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ آئین کو تبدیل کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کافی ہو گی اور ایک سادہ اکثریت کم جونگ کو اقتدار سے ہٹا سکتی ہے۔

دراصل ایس پی اے کی میٹنگز باقاعدگی سے ہوتی بھی نہیں۔ پہلی میٹنگ میں وہ اپنے حصے کا کام کرنے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی کا انتخاب کرتے ہیں اور حقیقی اسمبلی صرف خاص مواقع پر ہی اکھٹی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شمالی کوریا میں 17 سال سے زیادہ عمر کی تمام آبادی کے لیے ووٹ ڈالنا لازم ہے

کیا وہاں مختلف سیاسی پارٹیاں ہیں؟

شاید آپ کا خیال ہوگا کہ شمالی کوریا میں صرف ایک پارٹی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر پارلیمنٹ میں تین مختلف گروہ ہیں۔

ورکرز پارٹی جس کے چئیرمین کم جونگ اُن ہیں، اب تک سب سے بڑی پارٹی ہے لیکن عام طور پر چند نشستیں دو دیگر جماعتوں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور چونڈسٹ چونگو پارٹی کے پاس ہیں۔

درحقیقت ان تینوں پارٹیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں اور یہ تینوں کوریا کے الحلاق کے لیے ایک جمہوری اتحاد بناتی ہیں۔

اسی بارے میں