عبدالعزیز بوتفلیکا: الجزائر کے 82 سالہ علیل صدر کا پانچویں بار صدارتی انتخابات نہ لڑنے کا اعلان

صدر عبد العزیز بوتفلیکا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2013 میں صدر عبد العزیز بوتفلیکا کو فالج کا دورا پڑا جس کے بعد انھوں نے عوامی اجتماعات میں حصہ لینا چھوڑ دیا

الجزائر کے صدر عبدالعزیز بوتفلیکا نے 18 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ پانچویں مدت کے لیے اس بار انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

گذشتہ ہفتے صدر بوتفلیکا کی جانب سے انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کے خلاف الجزائر کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ مظاہروں کا سلسلہ صدر بوتفلیکا کے انتخابات میں حصہ لینے سے دستبرداری کے اعلان کے بعد بھی جاری ہے۔

صدر بوتفلیکا 20 سال سے الجزائر میں بر سرِ اقتدار ہیں۔ سنہ 2013 میں انھیں فالج کا دورہ پڑا جس کے بعد انھوں نے عوامی اجتماعات میں حصہ لینا بند کر دیا تھا۔

مظاہرین کے مطابق انھیں صدر بوتفلیکا کے فیصلے پر اعتماد نہیں اور ان کے بقول یہ سب ان کی اقتدار سے جڑے رہنے کی ایک سازش ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عرب سپرنگ سے خطے کو 600 ارب سے زائد کا نقصان: اقوام متحدہ

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو رہا کر دیا گیا

جب فالج نے ایک ’سپرمین‘ کی زندگی تبدیل کر دی

صدر بوتفلیکا سے منصوب ایک بیان میں کہا گیا کہ انتخابات کی نئی تاریخ کا اب تک تعین نہیں کیا گیا اور اس بیان کے مطابق کابینہ میں جلد رد و بدل دیکھنے میں آئے گا۔

اس بیان میں ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا کہ صدر بوتفلیکا انتخابات سے قبل اقتدار چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب الجزائر کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس کے مطابق الجزائر کے وزیرِ اعظم احمد اویحییٰ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جس کے بعد یہ عہدہ وزیرِ داخلہ نور الدین بدوی نے سنبھال لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر عبد العزیز بوتفلیکا نے 20 سال الجزائر پر حکومت کی ہے

صدر بوتفلیکا کے خلاف احتجاج

گذشتہ ہفتے تک خیال کیا جا رہا تھا کہ 82 برس کے عبدالعزیز بوتفلیکا ریٹائرمنٹ کے لیے تیار نہیں ہیں۔

گذشتہ جمعے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بیمار صدر کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلے تھے۔ یہ احتجاج اتوار تک جاری رہا اور اس میں زیادہ تر نوجوانوں نے حصہ لیا۔

الجزائر کے دارالحکومت میں پولیس نے احتجاج میں شرکت کرنے والے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا۔

لیکن اس کے باوجود احتجاج کا شور صدر کے کانوں تک نہیں پہنچ سکا کیونکہ وہ اُس وقت سوئٹزر لینڈ میں اپنا علاج کروا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ ہفتے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بیمار صدر کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلے تھے ان میں زیادہ تر نوجوان افراد نے حصہ لیا

بوتفلیکا انتخابات سے دستبردار کیوں ہوئے؟

صدر بوتفلیکا پر انتخابات سے دستبرداری کا دباؤ تب بڑھا جب ایک ہزار سے زائد ججوں نے سوموار کو اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی نگرانی کرنے سے انکار کر دیا۔

اس کے بعد الجزائر کی فوج کے رہنما احمد قايد صالح نے ایک بیان دیا جس سے یہ عندیہ ملا کہ فوج مظاہرین سے ہمدردی رکھتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ فوج اور عوام مستقبل کے لیے ایک ہی سوچ رکھتے ہیں۔

ملک کے علما نے پہلے ہی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کیونکہ ان علما پر دباؤ تھا کہ وہ حکومت کی حمایت میں خطبے دیں۔

غیر جانبدار علما کے گروہ کے رہنما امام جامل گول نے کہا کہ 'ہمیں اپنا کام کرنے دیں، مداخلت مت کریں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بوتفلیکا پر انتخابات سے دستبرداری کا دباؤ تب بڑھا جب ایک ہزار سے زائد ججوں نے سوموار کو اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی نگرانی کرنے سے انکار کر دیا

’زندہ لاش‘

عبدالعزیز کو ان کے ناقدین ’زندہ لاش‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

شمالی افریقہ کے سیاسی معاملات کی ماہر کرسٹینا ماس کہتی ہیں کہ ان کے نرم دل حریف انھیں ’فریم‘ بلاتے ہیں۔ چونکہ وہ کمزور ہیں اور عوامی اجتماعات میں حصہ نہیں لیتے، ان کی جگہ ان کی فریم کی ہوئی تصویر استعمال ہوتی ہے۔

کرسٹینا ماس نے کہا کہ ’صدر عبدالعزیز کی خراب صحت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیرس میں الجزائر کے سفیر کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ صدر اب بھی حیات ہیں۔‘

اگر صدر بوتفلیکا کی صحت کا یہ عالم رہا ہے تو ملک کے روز مرہ کے معاملات کون چلاتا رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرسٹینا ماس 'لوپووا' کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’(یہ) وہ لوگ ہیں جنہوں نے گزشتہ دہائیوں میں قومی صنعت کو اپنے قابو میں کیا اور اب اسے اس طرح چلا رہے ہیں جیسے وہ ان کا ذاتی کاروبار ہو۔‘

’لو پووا'

بی بی سی کے صحافی محمد یحییٰ کہتے ہیں کہ دیکھنے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الجزائر ایک جمہوری ملک ہے ’لیکن ملک کو اعلیٰ فوجی قیادت اور غیر منتخب کاروباری افراد چلارہے ہیں وہ (ملک کے) بڑے فیصلے کرتے ہیں انھیں ’لو پووا‘ (طاقت) کہتے ہیں۔‘

انھوں نے آہستہ آہستہ اقتدار پر قبضہ کر لیا جبکہ کمزور صدر بوتفلیکا اب کونے میں کھڑے ہیں۔

کرسٹینا ماس ان کی اس رائے سے متفق ہیں وہ کہتی ہیں کہ ’لو پووا‘ وہ لوگ ہیں جنھوں نے گذشتہ دہائیوں میں قومی صنعت کو اپنے قابو میں کیا اور اب اسے اس طرح چلا رہے ہیں جیسے وہ ان کا ذاتی کاروبار ہو۔ یہ بیمار صدر کے گرد ایک دائرہ ہے جس کے سربراہ ان کے بھائی سعید بوتفلیکا اور ان کی فوج کے سربراہ احمد قايد صالح ہیں۔

مارک مارگنداس 1990 سے الجزائر میں بطور صحافی کام کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ 'لو پووا' ایک سیاسی اور فوجی مافیا ہے سنہ 1990 کی خانہ جنگی کے بعد صدر عبد العزیز نے اقتدار میں آنے کے بعد اس کو بنایا اور اس کی نگرانی کی۔

محمد یحییٰ کہتے ہیں کہ اس وقت سے 'لو پووا' نے ملکی معیشت کا جھکاؤ فری مارکیٹ کی طرف کر دیا ہے۔

بوتفلیکا اقتدار میں کیسے آئے؟

محمد یحییٰ کہتے ہیں کہ ’آج کے الجزائر کو سمجھنے کے لیے آپ کو دیکھنا پڑے گا کہ سنہ 1990 میں کیا ہوا تھا۔‘

سنہ 1960 کی دہائی میں الجزائر نے فرانس سے طویل جنگ کے بعد آزادی حاصل کی۔ اس کے بعد ایک کمزور جمہوریت ملک میں آئی ’لیکن جب ایک اسلامی جماعت 1990 کے انتخاب جیتنے والی تھی تب فوج نے مداخلت کردی۔‘

محمد یحییٰ کہتے ہیں کہ ’اس دہائی میں بہت خون خرابہ ہوا، دو لاکھ لوگ دس سال میں ہلاک ہوئے۔‘

مارگنداس جنھوں نے وہ وقت دیکھا تھا اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اُن کے مطابق ’وہ الجزائر کے تاریک ترین دن تھے۔‘

سنہ 1999 میں صدر عبد العزیز اقتدار میں آئے ’انہوں نے اپنے آپ کو جرنیلوں اور حساس اداروں سمیت اسلامی جماعت کے تابع رکھا۔ یہ ایک لین دین تھا: ایک کمزور جمہوریت کے بدلے استحکام اور خوشحالی، یہ (نظام) دو دہائیوں تک کام کرتا رہا۔‘

محمد یحییٰ کا کہنا تھا کہ ’الجزائر میں اس پر اتفاق تھا کہ سیاست کے بدلے استحکام۔ لیکن اس امن نے بد عنوانی کو بھی راستہ دیا۔‘

کرسٹینا ماس صدر عبد العزیز کی امیدواری کے گذشتہ فیصلے کو اس نظر سے دیکھتی ہیں کہ صدر کی بیماری کے بعد وہ کمزور ہو گئے ہیں اور ان کے ارد گرد موجود لوگ آپس میں اتفاق نہ کر سکے کہ ان کا جانشین کون بنے گا لہذا انھوں نے دوبارہ علیل صدر کو انتخابات میں لڑانے کا فیصلہ کیا۔

اسی بارے میں