بوئنگ 737 میکس طیارے کن ایئر لائنز کے زیرِ استعمال ہیں اور کن ممالک نے ان پر پابندی عائد کی ہے؟

بوئنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا، ان ممالک کی طویل ہوتی فہرست میں ایک نیا اضافہ ہے جنھوں نے بوئنگ 737 میکس طیاروں پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

انڈیا کی وزارتِ سول ایوی ایشن نے کہا ہے کہ بوئنگ 737 میکس طیاروں کو ’فی الفور‘ گراؤنڈ کیا جا رہا ہے۔ ’یہ طیارے اس وقت تک گراؤنڈ رہیں گے جب تک ان میں مناسب تبدیلیاں اور حفاظتی اقدامات نہ کر لیے جائیں۔‘

اگرچہ امریکہ نے ان طیاروں کو سفر کے لیے محفوظ قرار دیا ہے تاہم امریکہ کی ایسوسی ایشن آف فلائیٹ اٹنڈنٹس نے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن سے اپیل کی ہے کہ ’خطرے کے پیشِ نظر امریکہ میکس 737 کے فضائی بیڑے کو عارضی طور پر گراؤنڈ کر دے۔‘

یہ بھی پڑھیے

5 مہینوں میں دوسرا حادثہ، بوئنگ کو سخت سوالات کا سامنا

انڈونیشیا: سرچ آپریشن میں ڈرون اور سونار کا استعمال

روس: مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، 71 افراد ہلاک

گذشتہ اتوار کو ایتھوپیا میں پیش آئے فضائی حادثے کے بعد سے اب تک درجنوں ممالک بشمول برطانیہ، چین اور آسٹریلیا نے بوئنگ کے اس ماڈل کے طیارے جس کو حادثہ پیش آیا تھا پر پابندی عائد کی ہے۔ اس حادثے میں 157 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جبکہ دیگر ممالک نے اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات کا ’بغور جائزہ‘ لینے کے بعد ان طیاروں کو مزید استعمال کرنے یہ نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ دیگر ممالک اس کا استعمال بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گذشتہ پانچ ماہ کے دوران بوئنگ کے اس ماڈل کے طیارے کو یہ دوسرا حادثہ پیش آیا تھا جس نے مختلف ممالک میں اس کے استعمال کے حوالے سے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

اس سے قبل یورپی یونین ان طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کی چکی ہے۔

یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ ’ان طیاروں کو حفظِ ماتقدم کے طور پر معطل کر رہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NORWEGIAN

امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ طیارہ اب بھی سفر کے لیے محفوظ ہے جبکہ برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے پاس حالیہ حادثے کے حوالے سے مناسب معلومات نہیں جس کے باعث انھیں احتیاطاً پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

آیئے اس فہرست پر نظر ڈالتے ہیں جس میں ان ایئر لائنز کا ذکر ہے جو 737 میکس 8 طیاروں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس فہرست میں واضح کیا گیا ہے کہ ریگولیٹر یا انفرادی طور پر ایئر لائنز نے اس حادثے کے بعد کس طرح کے اقدامات اٹھائیں ہیں۔

حکومتیں اور ریگولیٹرز

سنگاپور کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بوئنگ 737 میکس 8 طیاروں کے تمام ماڈلز کے ہوائی آپریشن اپنے ملک کی فضائی حدود میں معطل کر دیے ہیں۔

چین کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندرون ملک پروازوں کے لیے بوئنگ 737 میکس 8 طیاروں کا استعمال معطل کردیا ہے جبکہ انڈونیشیا نے جانچ پڑتال کی غرض سے اس ماڈل کے طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANADOLU AGENCY

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے ایک علامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق 737 میکس 8 طیاروں کو ہوائی سفر کے لیے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔

ایئر لائنز جنھوں نے طیارے گراؤنڈ کر دیے ہیں

  • شینزین ایئر لائنز
  • چائنا ایسٹرن ایئر لائنز
  • ایئر چائنا
  • اوکے ایئر ویز
  • کُنمنگ ایئر لائنز
  • ایتھیوپین ایئر لائنز
  • کے مین ایئر ویز
  • گرودا انڈونیشیا
  • لائن ایئر
  • کوم ایئر
  • گول ایئر ویز
  • ایئرولینیاس ارجنٹیناس
  • سِلک ایئر

ایئرلائنز کا موقف جو ان طیاروں کا بدستور استعمال کررہی ہیں

  • نارویجیئن ایئر شٹل- ’بوئنگ کمپنی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔‘
  • فلائی دبئی- ’مانیٹرنگ جاری ہے‘
  • ٹی یو آئی گروپ- ’طیارہ ساز کمپنی کے ساتھ رابطے میں ہیں‘
  • ایئر اٹلی- ’حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں‘
  • آئس لینڈ ایئر- ’ہم ہونے والی تمام پیش رفت کا بغور جائزہ لیں گے‘
  • ایس 7 ایئر لائن- ’طیارہ ساز کمپنی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں‘
  • ساؤتھ ویسٹ ایئر لائنز- ’بوئنگ کمپنی سے رابطے میں ہیں‘
  • فیجی ایئر ویز- ’تربیت۔۔۔ اعلیٰ حفاظتی معیار کو پورا کرتی ہے‘
  • ویسٹ جیٹ- ’صورتحال کو بغور دیکھا جا رہا ہے‘
  • ایل او ٹی پولش ایئر لائنز- ’صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے‘
  • امیریکن ایئر لائنز- ’طیارے پر مکمل اعتماد ہے۔۔۔ تحقیقات کی مکمل نگرانی ہوگی‘

ایئر لائنز جو 737 میکس 8 طیارے استعمال کر رہی ہیں

  • سپائس جیٹ- کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا
  • جیٹ ایئر ویز- کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا
  • کورینڈن ایئر لائنز
  • مائیکرو نیشیا ایئر لائنز
  • مالنڈو ایئر
  • سنونگ ایئرلائنز
  • ایوی ایشن کیپیٹل گروپ
  • جی کس ٹریول سروسز
تصویر کے کاپی رائٹ BOEING

اومان ایئر بھی ان طیاروں کا استعمال کرتا ہے تاہم بوئنگ نے ان کو طیاروں کی فراہمی کی تاریخ کا تعین نہیں کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں