سعودی شہزادے نے حکومت مخالف تنظیم بنا لی

شہزادہ خالد بن فرحان السعود

جرمنی میں مقیم سعودی عرب کے شاہی خاندان کے فرد شہزادہ خالد بن فرحان السعود نے سعودی عرب کے موجودہ بادشاہی نظام کے خلاف تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔

شہزادہ خالد پچھلی ایک دہائی سے خود ساختہ جلا وطنی میں ہیں۔

انھوں نے برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ بے پناہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ناانصافی کو روکنے کے لیے سعودی عرب میں دستوری بادشاہت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ جہاں انتخابات کے ذریعے وزیر اعظم اور کابینہ کی مقرری ہو۔

یہ بھی پڑھیے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول سے لاپتہ

سعودی عرب کے لاپتہ شہزادے

’سعودی ولی عہد کو پڑھانے کا میرا عجیب تجربہ‘

’میں نے سعودی عرب میں اپنے خاندان کو کیوں چھوڑا؟‘

انھوں نے کہا کہ 'سعودی عرب میں ہمیں باقی جمہوریتوں کی طرح نیا نظام چاہیے، (ایسا نظام) جس میں لوگ حکومت کو منتخب کرنے اور نئے سعودی عرب بنانے کا حق رکھتے ہوں۔'

انٹرویو میں انھوں نے سمجھایا کہ سعودی عرب میں برطانیہ کی طرح بادشاہت موجود رہے گی، لیکن اصلی طاقت عوام کے پاس ہو گی۔

انھوں نے اپنی تنظیم کا نام 'دی فریڈم موومنٹ آف عریبین پیننسولا پیپل' رکھا ہے۔ وہ سعودی عرب سے فرار ہونے والے حکومت کے ناقدین کی مدد بھی کرنا چاہتے ہیں۔

شہزادہ خالد نے کہا کہ وہ سعودی عرب کے لیے انسانی حقوق، احتساب اور عدالتی نظام کا وژن رکھتے ہیں لیکن اس وقت وہ آئین اور یورپ میں مقیم سعودیوں کی مدد پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے والد اور ان کی بہن اس وقت سعودی عرب میں گھر میں نظر بند ہیں۔

شہزادہ خالد کون ہیں؟

شہزادہ خالد بن فرحان السعود، سعودی شاہی خاندان کے اس حصے میں شامل ہیں جو موجودہ بادشاہ اور ولی عہد کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ سنہ 2013 سے جرمنی میں مقیم ہیں اور کئی سالوں سے اپنے ملک میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

2017 میں بی بی سی کو انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’میرے خاندان کے چار افراد یورپ میں تھے۔ ہم نے (شاہی) خاندان اور اس کی سعودی عرب میں قائم حکومت پر تنقید کی۔ ہم میں سے تین اغوا ہو گئے۔ صرف میں رہ گیا ہوں۔‘

گذشتہ سال سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں شہزادہ خالد نے ڈی ڈبلیو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے سعودی حکام پر تنقید کی۔

گذشتہ سال انھوں نے انڈیپینڈنٹ اخبار سے بات کرتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ حاشقجی کی گمشدگی سے دس دن قبل سعودی حکام نے انھیں بھی اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ناقدین کو خاموش کروانے کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی کارروائیوں کا حصہ تھا۔

انھوں نے انڈیپینڈنٹ اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں الزام لگایا کہ سعودی حکام نے جمال خاشقچی کے قتل سے کچھ روز قبل ان کے گھر والوں کو کہا کہ اگر وہ قاہرہ میں سعودی قونسل خانے میں ان کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقات پر رضامند ہوئے تو انھیں اس کے بدلے لاکھوں ڈالر دیے جائیں گے۔

اسی بارے میں