سعودی عرب: حقوق نسواں کی کارکنان پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پچھلے ہفتے پیرس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے حقوق نسوان کی کارکنان کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا گیا

سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے والی کارکنان پر مقدموں کی وجہ سے ملک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

مقدمے میں پیش ہونے والی خواتین میں لجين الھذلول شامل ہیں جو سعودی خواتین کو گاڑی چلانے کا حق دلوانے کی مہم میں پیش پیش رہیں۔ اُنہیں پچھلے سال مئی میں حراست میں لیا گیا۔

ان کے خلاف دشمن عناصر کی حمایت کرنے کا الزام شامل ہے جس پر لمبی قید کی سزا مل سکتی ہے۔

اِن خواتین کو رہا کرنے کے مطالبات دنیا بھر سے آ رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے 30 سے زیادہ ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں سعودی عرب پر ان خواتین کو حراست میں لینے پر تنقید کی گئی۔

استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مزید توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔

بدھ کو 10 کے قریب خواتین نے ریاض کی ایک عدالت میں پیش ہونا تھا۔ زیر حراست کارکن الھذلول کے علاوہ عزیزہ ال یوسف، ایمان النجفان اور ہطون الفاسی شامل ہیں۔ صحافیوں اور سفارت کاروں کو عدالتی کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

کئی دہائیوں پر محیط انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ

سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی کئی دہائیوں سے مسئلہ رہی ہے۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو پکڑ لیا جاتا ہے اور وکلا تک رسائی نہیں دی جاتی۔ انہیں یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ ان پر الزام کیا ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ تفتیش کے دوران ان کے ساتھ زیادتیاں کی جاتی ہیں اور زبردستی اقبال جرم کروا لیا جاتا ہے۔

سعودی حکومت کا رویہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ وہ تشدد کے تمام الزامات کو رد کر دیتے ہیں اور ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی تنقید کو ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی قرار دے کر رد کر دیتے ہیں۔

سعودی عرب کے سکیورٹی کے بارے میں کچھ خدشات بجا ہیں لیکن حقوق نسواں کی کارکنان جو خواتین کے گاڑی چلانے کی مہم کا حصہ رہی ہیں ان پر مقدمہ ملک کے بارے میں عالمی سطح پر قائم رائے کے لیے دھچکہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قدامت پسند سعودی عرب میں پچھلے سال خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی ختم کی گئی

خواتین کو حراست میں لینے کا سلسلہ پچھلے سال مئی میں ڈرائیونگ پر پابندی اُٹھنے سے ذرا پہلے شروع ہوا۔

وکیل استغاثہ کے دفتر نے ان خواتین کے خلاف الزامات کی تفصیلات نہیں بتائیں مگر ان کے مطابق ان کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو ملک کی سکیورٹی، استحکام اور عوامی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہے۔

گلف سینٹر فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان خواتین کے خلاف مقدمہ شفاف نہیں ہوگا اور وہ ان کی بہبود کے بارے میں سخت فکرمند ہیں۔

نومبر میں انسانی حقوق کے اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ چار خواتین نے یہ الزام لگایا کہ تفتیش کاروں نے اُن پر تشدد کیا جس میں بجلی کا کرنٹ، کوڑے مارنا اور جنسی طور پر ہراساں اور حملہ کیا جانا شامل ہے۔ سعودی عرب کے نائب وکیل استغاثہ نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔

اسی بارے میں