نیوزی لینڈ: دو مساجد پر حملوں میں 49 ہلاک، متعدد زخمی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کرائسٹ چرچ میں ’دہشت گردی‘، دو مساجد پر حملے

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دو دہشتگرد حملوں میں 49 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور کے پاس پانچ بندوقیں تھیں اور ان کے پاس اس کا لائسنس بھی تھا۔

مزید پڑھیے

’میں دعا کر رہا تھا کہ اس کی گولیاں ختم ہو جائیں‘

نیوزی لینڈ: حملہ آور کون ہے؟

حملے کے ایک دن بعد کرائسٹ چرچ میں وزیراعظم نے کہا کہ ’اسلحہ سے متعلق ہمارا قانون تبدیل کیا جائے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ زیر حراست افراد میں سے کسی کا بھی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا۔

پولیس نے ابھی تک ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس اور امدادی عملہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے لے جا رہے ہیں

ہسپتال کے چیف سرجن گرگ رابرٹسن نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ 48 افراد حملے کے بعد ہسپتال میں داخل ہوئے۔ چار افراد کی موت راستے میں ہی واقع ہو گئی تھی جبکہ سات افراد کو طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق زیر نگہداشت افراد میں سے 11 کی حالت تشویشناک ہے جن میں ایک دو سال اور ایک تیرہ سالہ بچہ شامل ہیں۔

سرجن رابرٹسن نے بتایا کہ زیادہ تر مریض مرد ہیں جن کی عمریں 30 سے 40 برس کے درمیان ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ایک چار سالہ بچی کو بھی آکلینڈ کے ہسپتال میں داخل کیا گیا جن کی حالت خطرے میں بتائی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش، انڈیا اور انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ ان کے شہری ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی ریڈکراس نے لاپتہ افراد کی فہرست اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہے۔

نیوزی لینڈ میں مختلف ملکوں کے شہری اپنے لاپتہ ہونے والے ساتھیوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر اطلاعات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشتگردوں کے حملےمیں پانچ پاکستانی لاپتہ ہیں جبکہ چار زخمی ہو ئے ہیں جن کا علاج ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا مقامی حکام کی مدد سے لاپتہ افراد کی شناخت کی تصدیق کرنےکی کوشش کر رہےہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق نو بھارتی نژاد مسلمان ابھی تک لاپتہ ہیں جبکہ آٹھ بنگلہ دیشی نژاد افراد لاپتہ ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے مسجد پر فائرنگ کے واقعے کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آج کا دن نیوزی لینڈ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے۔ وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن

پولیس کمیشنر مائیک بُش کے مطابق دو اور افراد میں ایک عورت بھی شامل ہے جن کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ملا اور وہ حراست میں ہیں۔

پولیس کمشنر نے بتایا حراست میں لیے جانے والے تین افراد میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا جبکہ باقی سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

پولیس کمیشنر مائیک بُش کے مطابق حملے ڈین ایوینیو پر واقع مسجد النور اور لِن ووڈ مسجد میں پیش آئے۔

حملہ آور کون تھا؟

حملہ آور جس نے سر پر لگائے گئے کیمرے کی مدد سے النور مسجد میں نمازیوں پر حملے کو فیس بک پر لائیو دکھایا، اپنے آپ کو اٹھائیس سالہ آسٹریلین برینٹن ٹارنٹ بتایا۔ اس فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح النور مسجد کے اندر مرد، عورتوں اور بچوں پر اندھادھند فائرنگ کر رہا ہے۔۔

پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انتہائی دردناک فوٹیج کو فارورڈ کرنے سے گریز کریں۔ پولیس نے حملہ آور کا فیس بک اور انسٹاگرام اکاونٹ کو ختم کر دیا ہے اور وہ اس فوٹیج کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی دیکھیے

'خون دیکھا تو احساس ہوا کہ صورتحال گمبھیر ہے'

کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملے کے بعد کے مناظر

مسجد النور میں کیا ہوا؟

مسجد النور میں موجود عینی شاہد عوام علی نے حملے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے ریڈیو نیوزی لینڈ کو بتایا ’اس شخص نے فائر کرنا شروع کر دیا، ہم سب نے بس بچنے کے لیے پناہ لی۔‘

’جب ہمیں گولیاں چلنے کی آواز آنا رک گئی تو ہم کھڑے ہوئے اور ظاہر ہے کچھ لوگ مسجد سے باہر بھاگ گئے۔ جب وہ واپس آئے تو وہ خون سے لت پت تھے۔ ان میں سے چند لوگوں کو گولیاں لگیں تھیں اور تقریباً پانچ منٹ بعد پولیس موقعے پر پہنچ گئی اور وہ ہمیں باحفاظت باہر لے آئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’ہمارا شہر بدل گیا ہے‘

کرائسٹ چرچ شہر کی میئر لیئین ڈلزیل نے ’المناک‘ حملے کے بارے میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ’آج ہمارا شہر ہمیشہ کے لیے بدل گیا ہے۔‘

انھوں نے پولیس اور متاثرین کا خیال کرنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔‘

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق نیوزی لینڈ کی آبادی کا صرف 1.1 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ سنہ2013 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق نیوزی لینڈ میں 46000 مسلمان رہائش پزیر تھے، جبکہ 2006 میں یہ تعداد 36000 تھی۔ سات سالوں میں 28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حملے کی مبینہ ویڈیو

ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو اپنی سائٹ سے ہٹا رہے ہیں۔

ایک حملہ آور کی جانب سے فیس بک پر ڈالی جانے والی حملے کی لائیو ویڈیو کو اگرچہ ہٹا دیا گیا ہے، لیکن متعدد مختلف اکاؤنٹس سے دوبارہ اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ حملہ آور ایسے ہتھیار گاڑی سے نکالتا ہے جن پر مختلف عبارتیں لکھی ہیں اور اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کرتا ہے۔

حملہ آور نے یقینی بنایا کے کوئی بھی مسجد سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اس دوران وہ بھاگنے والے نمازیوں کا پیچھا کرتے ہوئے باہر پارکنگ تک نکل جاتا ہے اور ان پر گولیاں چلا کر دوبارہ مسجد میں آ کر بھاگنے کی کوشش کرنے والے زخمیوں پر دوبارہ گولیاں چلاتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور تین مرتبہ مسجد میں آیا اور آخری چکر میں اس نے ایک ایک شخص کے قریب جا کر ان پر متعدد بار گولیاں چلا کر ان کی موت کو یقینی بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption مسجد النور کرائسٹ چرچ کے ہیگلی پارک کے قریب ڈین ایونیو پر واقع ہے

’ہم بہت بڑی مصیبت کا شکار ہیں، کوئی فائرنگ کر رہا ہے‘

نیوزی لینڈ کے دورہ پر آئی بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تمیم اقبال نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پوری ٹیم جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔

جب حملہ ہوا تو بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی النور مسجد کے قریب تھے۔ بنگلہ دیش میں ویب سائٹ کرک انفو کے نامہ نگار محمد اسام نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کے وقت وہ کھلاڑیوں کے ہمراہ تھے۔

اسام کہتے ہیں: ’میں نے انھیں پارکنگ سے باہر نکلتے دیکھا، پانچ منٹ کے اندر ایک کھلاڑی (اقبال) نے مجھے مدد کے لیے بلایا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بچاؤ، ہم بہت مصیبت میں ہیں، کوئی فائرنگ کر رہا ہے۔‘

’پہلے میں نے انھیں سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن پھر ان کی آواز کپکپا رہی تھی تو میں بس دوڑ پڑا۔ میں جائے وقوعہ تک دوڑ کر جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پھر مجھے کسی سے لفٹ مِل گئی اور میں اس جگہ تک پہنچ گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/MohammadIsam

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس کا کہنا ہے کہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس کے ذریعے سے مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔

انھوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’وہ محفوظ ہیں، لیکن وہ صدمے میں ہیں۔ ہم نے ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ہوٹل میں ہی رہیں۔‘

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے آفیشیل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق حملے کے پیشِ نظر بنگلہ دیش کی ٹیم کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان ہیگلی اوول میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ بھی اب نہیں ہوگا۔

عالمی ردعمل

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا: ’کرائسٹ چرچ میں ہونے والے ہیبت ناک دہشت گردی کے حملے کے بعد میں پورے برطانیہ کی طرف سے نیوزی لینڈ کے عوام سے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اس پر تشدد حملے میں متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔‘

پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ میں مسجد پر دہشت گرد حملہ نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ یہ حملہ ہمارے اس مؤقف کی تصدیق کرتا ہے جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ ’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں‘۔ ہماری ہمدردی اور دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا ’اسلاموفوبیا‘ کارفرما ہے جس کے تحت دہشت گردی کی ہرواردات کی ذمہ داری مجموعی طور پر اسلام اور سوا ارب مسلمانوں کے سر ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مسلمانوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی یہ حربہ آزمایا گیا۔‘

اسی بارے میں