نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں حملہ ’دہشت گردی‘ ہے یا ’قتل عام‘؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

نیوزی لینڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملے میں 49 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں

نیوزی لینڈ میں دو مساجد پرحملوں کی جہاں دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے وہیں اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر بحث کر رہی ہے کہ جب حملہ آور سفید فام ہو تو اسے دہشت گرد کی بجائے مسلح حملہ آور کیوں کہا جاتا ہے؟ صارفین یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ سفید فام حملہ آور ہونے یا مسلمانوں کے مرنے کے صورت میں ایسے واقعات کو دہشت گردی کے بجائے قتل عام کیوں قرار دیا جاتا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

کرائسٹ چرچ: مساجد پر ’دہشت گرد‘ حملے، 49 ہلاک

یورپ میں دہشت گردی کے بڑے واقعات

'ڈیجیٹل دور میں دہشت گردی‘

دہشتگردی یا قتل عام

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملے 'دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔' آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ ماریسن نے بھی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ’دہشت گردی‘ ہی قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ حملہ آور چاہے سفید فام ہے لیکن اس نے جو کیا وہ دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔

کچھ صارفین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر لفظ دہشت گرد کی وضاحت شئیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور اس حملے کو دہشت گردی ہی کہا جائے۔

چند صارفین نے تو میڈیا کی جانب سے اس واقعے کی کوریج پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور مسلمان نہیں تھا، اس لیے عالمی میڈیا اس کے لیے دہشت گرد کی بجائے مسلح حملہ آور جیسے الفاظ کا استعمال کر رہا ہے جو کسی منافقت سے کم نہیں۔

ایک صارف نے نیوزی لینڈ حکومت اور سیکورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ اب مسلمانوں کے لیے محفوظ ملک نہیں رہا ہے۔

حملے کی ویڈیو

سوشل میڈیا پر کرائسٹ چرچ حملے کی ویڈیوز بھی گردش کررہی ہیں۔ نیوزی لینڈ میں فیس بک کی ترجمان نے سی این این کو بتایا ہے کہ اس حملے کی ویڈیوز کو فیس بک سے ہٹا دیا گیا ہے۔

کئی صارفین کا بھی یہ ہی خیال ہے کہ ایسی کسی بھی ویڈیو کو شئیر کرنے سے مرنے والوں کے لواحقین کی دل آزاری ہو گی۔ چند صارفین کے مطابق حملہ آور دراصل ان ویڈیوز کے ذریعے توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے لہذا حملے کی فوٹیج شئیر کر کے اس کے مقاصد کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔

نیوزی لینڈ پولیس نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر درخواست کی ہے کہ حملے کی فوٹیج کو شئیر نہ کیا جائے۔ نیوزی لینڈ پولیس کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی ویڈیوز کو ہٹانے کو کوشش بھی کر رہے ہیں۔

صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حملہ واضح کرتا ہے کہ دہشت گرد صرف مسلمان ہی نہیں،بلکہ سفید فام بھی دہشتگرد ہو سکتا ہے اور مسلمان بھی دنیا بھر میں دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایک صارف نے یہ بھی لکھا ہے کہ سفید فام حملہ آور کو ذہنی معذور کہنے کی بجائے دہشت گرد کہا جائے اور معصوم مسلمانوں کے قتل عام کو روکا جائے۔

ایک صارف نے کہا کہ اس حملے سے پہلے نیوزی لینڈ کا شمار دنیا کے محفوظ ترین ملکوں میں کیا جاتا تھا۔

اسی بارے میں