نیوزی لینڈ حملہ: بنگلہ دیشی ٹیم بال بال بچ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بنگلہ دیشی ٹیم مسجد سے بچاس گز کے فاصلے پر تھی

بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے مینیجر خالِد مسعود کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد پر حملے کے دوران بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم مسجد سے چند منٹ کے فاصلے پر تھی۔

مسجد حملہ: مشتبہ حملہ آور پر قتل کے الزامات عائد

کابل: مسجد میں بم حملہ، 20 افراد ہلاک

شیعہ مسلک کی مسجد پر خودکش حملہ، 25 ہلاک

کینیڈا: ’حملہ آور کا نام فیصل حسین ہے‘

انہوں نے بتایا کہ جب فائرنگ شروع ہوئی تو کھلاڑیوں کی بس مسجد النور سے پچاس گز کے فاصلے پر تھی اور کھلاڑی مسجد جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پانچ منٹ پہلے وہاں پہنچ جاتے تو پتہ نہیں کیا ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیم کی پریس کانفرنس کافی دیر تک چلی اور تاخیر کے بعد ٹیم مسجد جا رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Diederik van Heyningen/Anadolu Agency/Getty Images
Image caption حملہ آور نےلوگوں پر اندھا دھن فائرنگ کی

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس کا کہنا ہے کہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس میں مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MARTY MELVILLE/AFP/Getty Images
Image caption دنیا بھر سے لوگوں کی تعزیتی پیغامات آ رہے ہیں

انھوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا 'وہ محفوظ ہیں، لیکن وہ صدمے میں ہیں۔ ہم نے ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ہوٹل میں ہی رہیں۔'

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے آفیشیل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق حملے کے پیشِ نظر بنگلہ دیش کی ٹیم کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان ہیگلی اوول میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ بھی اب نہیں ہوگا۔

ای ایس پی این کے لیے کام کرنے والے بنگلہ دیشی نامہ نگار محمد اسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ شوٹنگ کے وقت وہ کھلاڑیوں کے ساتھ تھے۔

میں نے انہیں مسجد کی پارکنگ میں بس سے اترتے دیکھا اور پانچ منٹ بعد ایک کھلاڑی نے فون کیا اور کہا کہ 'ہمیں بچا لیں کوئئ فائرنگ کر رہا ہے'۔ پہلے میں نے اس کال کو سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن اس کی آواز ڈوبنے لگی اس کے بعد میں ان کی جانب بھاگا۔ وہاں شوٹنگ ہو رہی تھی نزدیک پہنچ کر میں نے ایک لاش دیکھی اور خون میں لت پت ایک زخمی شخص میری جانب بھاگا آ رہا تھا۔

جب میں پارک کے نزدیک پہنچا تو کھلاڑی میری جانب بھاگ کر آ رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہاں سے نکل جاؤ۔

ہم نے پارک سے بھاگ کر گراؤنڈ میں پناہ لی جہاں ہم ایک گھنٹے رہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کھلاڑیوں نے ان پندرہ منٹوں میں کافی کچھ دیکھ لیا تھا وہاں فائرنگ ہو رہی تھی، لوگ جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے اور کوئی سکیورٹی نہیں تھی وہ بری طرح رو رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات