’لگتا ہے کہ حملہ آور پاکستان بھی گیا تھا‘

برینٹن ٹارنٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرائسٹ چرچ مسجد میں حملہ کرنے والےدہشتگرد نے متعدد بار ترکی کا دورہ کیا: ترک اہلکار

نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں 49 افراد کے قتل عام کرنے والا برینٹن ٹارنٹ، دیہی آسٹریلیا سے تعلق رکھتا ہے جو کبھی ایک جم ٹیرینر تھا اور یورپ کے دورہ کے بعد نیو فاشزم کے نظریے کا شکار بنا۔

برینٹن ٹارنٹ خود کو ایک عام 'سفید فام' کہلاتا ہے۔

کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں 49 افراد کو قتل کرنے والے برینٹن نے سنیچر کو مقامی عدالت میں مختصر پیشی کے دوران سفید فام کی طاقت کا نشان بنایا۔ تاہم وہ کسی بھی دہشت گردوں کی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا نہ ہی اس کا نام کسی جرائم پیشہ افراد کی فہرست میں سامنے آیا ہے۔

28 سالہ برینٹن ٹارنٹ نے ساؤتھ ویلز کے چھوٹے سے قصبے گرافٹن میں پرورش پائی جہاں اس نے ہائی سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد فٹنس کورس کے چند ڈپلومے حاصل کیے اور سنہ 2009 میں ایک مقامی جم میں نوکری کی۔

مقامی جم کی مالک ٹریسی گرے کا کہنا ہے کہ وہ ایک محنتی ٹرینر تھا تاہم یورپ اور ایشیا کے دوروں کے بعد اس میں تبدیلی آئیں۔ اس کی سوشل میڈیا پوسٹس ظاہر کرتیں ہیں کہ اس نے پاکستان اور شمالی کوریا کا بھی دورہ کیا تھا۔

گرے نے سرکاری نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا 'میرے خیال میں بیرون ممالک دوروں کے دوران اس میں کچھ تبدیلی آئی تھی۔' وہ کہتی ہیں کہ' کہیں کسی تجربے، واقعہ یا کسی گروہ نے اس پر اپنا اثر چھوڑا تھا۔'

یہ بھی پڑھیے!

کرائسٹ چرچ حملہ: چھ پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق

کرائسٹ چرچ: حملہ آور کو روکنے والا پاکستانی کون تھا؟

نیوزی لینڈ: حملہ آور کون ہے؟

’میں دعا کر رہا تھا کہ اس کی گولیاں ختم ہو جائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

گرے کے مفروضے کو اس بے ربط اور نفرت انگیر منشور سے تقویت ملتی ہے جو ٹرینٹ نے کرائسٹ چرچ میں قتل عام کرنے سے پہلے اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا۔

اپنے 74 صفحات پر مبنی بیان میں اس کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے سنہ 2017 کے اپریل اور مئی کے ماہ میں حملہ کرنے کا سوچا جب وہ فرانس اور جنوبی یورپ کے دورے پر تھا۔

ٹرینٹ نے اس بیان میں ذکر کیا ہے کہ فرانسیسی شہروں میں تارکین وطن کی جانب سے بڑی تعداد میں اضافے سے انھیں دھچکا لگا اور اسی سال فرانس کے صدارتی اتخاب میں بھی ایمانوئل میکرون کی جانب سے اپنے حریف میرین لی پین کو ہرانے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

جمعہ کو جاری بیان میں ترکی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ٹرینٹ کے ترکی میں متعدد دورے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اس بات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں کہ وہ ان دوروں میں کن کن مقامی افراد سے ملا تھا۔

ترک اہلکار نے ٹرینٹ کے دوروں کی تاریخیں نہ بتاتے ہوئے کہا کہ امکان ہے کہ 28 سالہ آسٹریلین نوجوان نے متعدد بار ترکی کا دورہ کیا اور یہاں طویل قیام بھی کیا تھا۔

اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اہلکار کا کہنا تھا کہ ' ہم سمجھتے ہیں کہ ملزم نے یہاں (ترکی) سے یورپ، ایشیا اور افریقہ کہ دیگر ممالک کا دورہ بھی کیا تھا، ہم ان ممالک میں اس کے دوروں اور تعلقات کے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں۔'

بلغاریہ کی حکومت نے بھی کہا ہے کہ وہ بھی گزشتہ سال ٹرینٹ کے دورے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس سے پہلے سربیا، کروشیا، مونٹی نیگرو، بوسنیا اور ہرزگونیا کے دوروں کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔

اپنے مختصر ذاتی تعارف اور منشور میں ٹرینٹ نے خود کو آسٹریلیا میں پیدا ہونے والا ایک عام سفید فام بتایا جو ایک کم آمدنی والے گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کا بچپن عام اور سادہ تھا، وہ بمشکل ہی سکول سے پاس ہوا اور اسے اعلیٰ تعلیم کا کبھی شوق نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ساؤتھ ویلز کے چھوٹے سے قصبے گرافٹن میں دہشتگرد برینٹن ٹارنٹ کا گھر

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے والد کا انتقال سنہ 2010 میں کینسر کے باعث ہوا اور جم کی مالگ گرے کا کہنا ہے کہ اس کی بہن اور والدہ اب بھی گرافٹن میں رہتی ہیں۔

ٹرینٹ نے سنہ 2011 میں جم چھوڑ دیا اور اس نے بیرون ملک دوروں کے اخراجات بٹ کنکٹ نامی کمپنی میں سرمایہ لگا کر پورے کیے تھے۔

جمعہ کو خونی واقعہ میں استعمال ہونے والے اسلحے میں دو سیمی آٹو میٹک رائفلز اور ایک شاٹ گن شامل تھیں جن پر مخصوص عبارتیں لکھی گئی تھی اور اس کو سوشل میڈیا پر بھی اس واقعہ سے چند دن پہلے پوسٹ کیا گیا تھا۔

انگریزی اور مختلف مشرقی یورپیائی زبانی میں تحریر اس عبارتوں میں چند تاریخی عسکری شخصیات کے نام درج تھے جس میں سے زیادہ تر وہ یورپی تھے جنھوں نے 15 ویں اور 16ویں صدی میں عہد عثمانیہ کے خلاف لڑائی لڑی تھی اور چند جنھوں نے صدیوں پہلے صلیبی جنگوں میں حصہ لیا تھا۔

اسی بارے میں