کرائسٹ چرچ حملے کا نشانہ بننے والے کون تھے؟

نیوزی لینڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں جمعے کو ہونے والے حملوں میں 50 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں پاکستان کے نو باشندے بھی شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ کے حکام اب مرنے والوں کی شناخت کا مشکل مرحلہ سر انجام دینے کے لیے کوشاں ہیں لیکن ابھی تک ان کے نام سرکاری طور پرظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

پولیس کمشنر مائیک بش کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے نہیں کی جا رہیں کیونکہ حکام کو مرنے والے ہر شخص کی موت کی وجہ کا تعین کرنا ہے۔

لیکن اب یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک سے آئے تھے، ان میں سے متعدد پناہ گزین تھے جو نیوزی لینڈ میں محفوظ زندگی گذار رہے تھے۔

متعدد خاندان جن کا ابھی تک اپنے پیاروں سے رابطہ نہیں ہو سکا وہ ثابت قدمی سے خوفناک خبر کا انتظار کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کرائسٹ چرچ کی مساجد پر ہونے والے حملے کے بارے میں مزید پڑھیے

’بھائی کی موت کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا‘

نعیم رشید نے حملہ آور کو روک کئی جانیں بچائیں

’میں دعا کر رہا تھا کہ اس کی گولیاں ختم ہو جائیں‘

یہ ’دہشت گردی‘ ہے یا ’قتلِ عام‘؟

یہاں کچھ افراد جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اب تک ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

مساد ابراہیم (تین سال)

مساد ابراہیم کو ڈین ایونیو مسجد میں ہونے والی فائرنگ کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔

وہ اپنے بھائی ابدی اور والد کے ساتھ مسجد میں گئے تھے۔ ان کے بھائی اور والد حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تاہم مساد ابراہیم کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔

ابراہیم کے خاندان نے انھیں ہسپتالوں جہاں زخمی افراد کا علاج کیا جا رہا تھا میں تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں ملے۔

ابراہیم کے بھائی ابدی نے مقامی نیوز سائٹ سٹف کو بتایا ’ ہم سوچ رہے ہیں کہ مسجد میں ہلاک ہونے والوں میں (ابراہیم) بھی شامل ہیں۔ اب سب کہہ رہے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں۔ یہ ہمارے لیے بہت مشکل ہے۔ بہت سے لوگ مجھے فون کر کے پوچھ رہے ہیں کہ ہمیں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ ایک بہت مشکل گھڑی ہے۔ ہم نے زندگی میں اس طرح کا کچھ بھی نہیں دیکھا ہے۔‘

ابدی نے کہا ’مساد بہت توانا، زندہ دل، مسکراہٹ کو پسند کرنے اور بہت ہنسے والا بچہ تھا۔‘

نیوزی لینڈ کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں کم سے کم ایک بچہ ہلاک اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم پولیس حکام نے کسی کا نام نہیں بتایا ہے۔

دوسری جانب کرائسٹ چرچ کے ایک سکول نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے دو طلبہ اور ایک گریجویٹ لاپتہ ہیں۔ ایک طالب علم ہسپتال میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

داؤد نبی (71 سال)

کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہلاک ہونے والوں میں 71 سالہ داؤد نبی کو سب سے پہلے شناخت کیا گیا۔

افغانستان میں پیدا ہونے والے داؤد نبی کا خاندان سنہ 1980 کی دہائی میں سویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد بھاگ کر نیوزی لینڈ آ گیا تھا۔

داؤد نبی پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے اور اطلاعات کے مطابق وہ پرانی گاڑیوں کے شوقین تھے تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد وہ نیوزی لینڈی میں کمیونٹی رہنما کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ ایک مقامی افغان ایسوسی ایش کے صدر تھے اور تارکین وطن گروہوں کے حامی کے طور پر جانے جاتے تھے۔

داؤد نبی کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جب حملہ آور نے بندوق سے مسجد میں فائرنگ شروع کی تو انھوں نے دوسرے لوگوں کو بچانے کے لیے خود کو ان کے اوپر گرا لیا۔

داؤد نبی کے بیٹے عمر نے اپنے والد کی موت کی تصدیق کی۔

انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا ’آپ چاہے فلسطین سے ہوں، عراق یا شام سے ہوں، میرے والد ان کا ہاتھ تھامنے والے پہلے شخص ہوتے تھے۔‘

سید میلن (14 سال)

سید میلن بڑے ہو کر فٹبالر بننا چاہتے تھے۔ وہ جمعے کو اپنی والدہ کے ساتھ مسجد النور آئے تھے۔

ان کے والد نے سنیچر کو نیوزی لینڈ کے میڈیا کو بتایا ’مجھے سرکاری طور پر نہیں بتایا گیا کہ وہ (سید میلن) نہیں رہے لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ اب زندہ نہیں ہیں کیونکہ انھیں فائرنگ کے وقت دیکھا گیا تھا۔‘

سید کے والد نے کہا ’وہ بہادر سپاہی تھا۔ یہ دیکھنا بہت مشکل ہے کہ اسے کسی ایسے شخص نے گولی مار دی جو کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔‘

’میں جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے، وہ امن میں ہے۔‘

سید کی سوتیلی بہن بریڈی ہینری نے صحافی کو بتایا ’انھیں مسجد کے فرش پر لیٹے ہوئے دیکھا گیا اور ان کے جسم کے نچلے حصہ سے خون بہا رہا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FAMILY HANDOUT

نعیم رشید (50 سال)

نعیم رشید کا تعلق پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد سے ہے۔ وہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کے ایک سکول میں استاد کے طور پر کام کرتے تھے۔

ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نعیم رشید کو کرائسٹ چرچ کی مسجد میں حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرنے پر ان کی بہادری دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعے کی نماز کے موقع پر النور مسجد میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی ایک وائرل وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص حملہ آور کو روکتا ہے اور اس کوشش میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ حملہ آور کو روکنے کی کوشش کو ترک نہیں کرتا۔

نعیم رشید اس حملے میں بری طرح زخمی ہوئے۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے سنیچر کو نعیم رشید کے ہلاک ہونے کی تصدق کی ہے۔ انھیں دوسرے افراد کو بچانے کی کوشش کرنے پر ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

نعیم رشید کے بھائی خورشید عالم کا کہنا ہے کہ ویڈیو دیکھنے کے بعد انھیں اپنے بھائی کی دوسرے لوگوں کی بچانے کی کوشش کرنے پر فخر ہے۔

خورشید عالم نے بی بی سی کو بتایا ’وہ بہار انسان تھا، میں نے اس کے بارے میں کچھ لوگوں سے سنا ہے۔ وہاں کچھ عینی شایدین کا کہنا ہے کہ اس نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کے دوران چند لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔‘

انھوں نے بتایا ’ یہ ہمارے لیے ابھی تک ایک صدمہ ہے، یہاں تک کہ وہ ایک ہیرو بن گیا ، وہ اب ہمارا فخر ہے لیکن ہمارے لیے بہت بڑا نقصان ہے، ایسے لگتا ہے کہ جیسے کسی نے آپ کے جسم کا حصہ کاٹ دیا ہو۔‘

طلحہ رشید (21 سال)

طلحہ رشید نعیم رشید کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ وہ 11 سال کی عمر میں اپنے والد کے ہمراہ نیوزی لینڈ چلے گئے تھے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے طلحہ رشید کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔

طلحہ کے دوستوں کا کہنا ہے کہ انھیں نئی نوکری مل گئی تھی اور وہ جلد ہی شادی کرنے جا رہے تھے۔

لاہور میں رہنے والے طلحہ کے چچا نے بتایا ’کچھ دن قبل جب میں نے اپنے بھائی نعیم رشید سے بات کی تھی اور انھوں نے مجھے اپنے منصوبوں کے بارے میں بتایا کہ وہ پاکستان آنا چاہتا ہے اور اپنے بیٹے کی شادی کرنا چاہتا ہے۔‘

’لیکن اب ہم باپ اور بیٹے کی لاشوں کو پاکستان واپس لانے کا بندوبست کر رہے ہیں‘

فرحاج احسن (30 سال)

انڈیا سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ فرحاج احسن دس برس قبل حید آباد سے نیوزی لینڈ آئے تھے اور الیکٹریکل انجنئیر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

وہ شادی شدہ اور دو بچوں کے باپ تھے، ان کی ایک سالہ بیٹی اور چھ ماہ کا بیٹا تھا۔

ان کے بھائی کاشف نے بی بی سی کو بتایا ’نیوزی لینڈ کے حکام نے ہمارے خاندان کو ان کی موت کے بارے میں بتایا۔‘

فرحاج احسن کے والد نے بی بی سی تیلگو کو بتایا ’کسی نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نیوزی لینڈ جیسے امن پسند ملک میں ایسی صورت حال پیش آ سکتی ہے۔‘

حسن آرا (42 سال)

نیوزی لینڈ میں بنگلہ دیشی سفارت خانے کے حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں بنگلہ دیشی کے تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام نے اس بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی ہے۔

حسن آرا کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ جب انھوں نے فائرنگ کی آواز سنی تو وہ النور مسجد میں زنامہ حصے میں تھیں۔ ان کے خاوند فرید الدین ویل چیر استعمل کرتے ہیں، وہ مسجد کے مردانہ حصے میں تھے۔

حسن آرا کے بھتیجے نے بنگلہ دیش کی اخبار نیو ایج کو بتایا ’جب انھوں نے فائرنگ کی آواز سنی تو فوراً اپنے شوہر کو بچانے کی غرض سے ان کی جانب بھاگیں تاہم انھیں گولیاں لگیں جس سے وہ ہلاک ہو گیئں۔

کہا جا رہا ہے کہ ان کے شوہر کی زندگی بچ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SSNZ

خالد مصطفیٰ

نیوزی لینڈ کے سیرئین سالی ڈیرٹری گروپ کا کہنا ہے کہ خالد مصطفیٰ النور مسجد میں ہونے والی فائرنگ کے نیتجے میں مارے گئے ہیں۔

گروپ کے مطابق مصطفیٰ کا تعلق شام سے تھا اور ان کا خاندان سنہ 2018 میں شام سے نیوزی لینڈ منتقل ہوا تھا۔

مصطفی کے ایک نوجوان بیٹے کی شناخت نہیں ہوئی اور وہ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ان کے زخمی ہونے والے دوسرے بیٹے کی سرجری کی گئی ہے۔

امجد حامد (57 سال)

امجد حامد پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر ہیں۔ کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملے کے بعد سے انھیں اب تک دیکھا نہیں گیا۔ وہ وہاں ہر جمعے کو نماز پڑھنے کے لیے جاتے تھے۔

ان کے خاندان نے نیوزی لینڈ کے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے امجد حامد کو ہر جگہ تلاش کیا ہے تاہم وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے خاندان کا خیال ہے کہ امجد حامد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امجد حامد کی بیوی ہان نے نیوزی لینڈ ہیرالڈ کو بتایا ’یہ ہولناک ہے، ہم اپنے لیے ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں تھے اور اپنے بچوں کے لیے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔‘

خیال رہے کہ یہ جوڑا 23 سال قبل نیوزی لینڈ منتقل ہوا تھا اور ان کے دو بیٹے تھے۔

افغان شہری (نام اور عمر نامعلوم)

نیوزی لینڈ کی افغان ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے افغان شہری کی موت تصدیق ہو گئی ہے تاہم ان کا نام اور عمر کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔

حسین الا عماری (35 سال)

حسین الا عماری ہر جمعے کو مسجد جاتے تھے اور اس کے بعد اپنے والدین کے گھر جاتے اور رات کا کھانا کھاتے تھے۔

انھوں نے جمعرات کی رات اپنے والدین سے بات کی۔ وہ بہت پر جوش تھے کیونکہ ان کے والدین نے ان کے لیے ایک نئی گاڑی خریدی تھی۔

للیک عبدل حامد (عمر نامعلوم)

للیک عبدل حامد، محمد عبدالحمید کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ وہ پہلے انڈونیشین شہری جن کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

حملے کے وقت انڈونیشیا کے دیگر سات شہری بھی دو مساجد میں موجود تھے۔

نیوزی لینڈ میں انڈونیشیا کے سفیر کے مطابق انڈونیشیا کے سفارت خانے نے پانچ شہریوں کے بچ جانے کی اطلاع دی ہے۔

اسی بارے میں