کرائسٹ چرچ حملے میں سامنے آنے والی بہادری کی کہانیاں

نیوزی لینڈ کی قدیم زبان ماؤری کے الفاظ 'کیا کاہا' یعنی ہمت نہ ہاریں تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیوزی لینڈ کی قدیم زبان ماؤری کے الفاظ 'کیا کاہا' یعنی ہمت نہ ہاریں

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملے کے دوران، جس میں 50 لوگ ہلاک ہو گئے تھے، لوگوں کی طرف سے بہادری کی کہانیاں سامنے آئی ہیں۔

ایک 48 سالہ افغان مرد نے بتایا کہ انھوں نے حملہ آور کا سامنا کیا اور اس پر کریڈٹ کارڈ والی مشین پھینکی۔

دیہاتی علاقے سے تعلق رکھنے والے دو پولیس افسران نے، جن میں سے ایک کے پاس صرف ہینڈ گن تھی، 28 سالہ حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ کا پیچھا کیا اور اسے گرفتار کیا۔

ملک کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے بتایا کہ حملہ آور کی گاڑی میں مزید اسلحہ بارود بھی تھا اور اس روز اس کا شہر میں مزید حملے کرنے کا ارادہ تھا۔ انھوں نے اس حملے کو ’دہشت گردی‘ قرار دیا۔

حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی میتیں بدھ تک لواحقین کے حوالے کر دی جائیں گی۔

مزید پڑھیے

کرائسٹ چرچ حملوں میں نو پاکستانی ہلاک: وزارت خارجہ

نعیم رشید نے حملہ آور کو روک کئی جانیں بچائیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عبدالعزیز کئی برس پہلے افغانستان سے نیوزی لینڈ آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ لِنووڈ مسجد میں تھے، جو حملہ آور کا دوسرا نشانہ تھی جب انھوں نے شور سنا کہ کسی نے حملہ کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب انھیں احساس ہوا کہ مسجد پر حملہ ہوا ہے تو کریڈٹ کارڈ والی مشین کے ساتھ حملہ آور کی طرف دوڑے جو اس وقت اپنی گاڑی میں مزید اسلحہ لینے جا رہا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ حملہ آور کی فائرنگ سے بچنے کے لیے وہ گاڑیوں کے درمیان چھپ گئے۔

عبدالعزیز نے، جو اپنے چار بچوں کے ساتھ مسجد میں موجود تھے، بتایا کہ انھوں نے حملہ آور کی پھینکی ہوئی بندوق اٹھا کر چلانے کی کوشش کی لیکن وہ خالی تھی۔ حملہ آور جب دوبارہ مسجد میں داخل ہوا تو وہ اس کے پیچھے گئے اور اس کا سامنا کیا۔

انھوں نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ حملہ آور نے ان کی ہاتھ میں شاٹ گن دیکھی تو وہ اپنی بندوق پھینک کر گاڑی کی طرف دوڑا اور وہ بھی اس کے پیچھے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ جب حملہ آور گاڑی میں بیٹھا تو انھوں نے شاٹ گن نیزے کی طرح اس کی طرف پھینکی لیکن وہ گالیاں دیتا ہوا گاڑی پر وہاں سے نکل گیا۔

لنووڈ مسجد کی امام نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ اگر عبدالعزیز مداخلت نہ کرتے تو مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔

دیہاتی علاقے کی پولیس کے دو افسران نے، جو قریب ہی موجود تھے، حملہ آور کا پیچھا کر کے اس کی کار روکی اور اسے گرفتار کیا۔

’بہت تکلیف دہ ہے‘

نصیرالدین پولیس کی طرف سے لگائے گئے ناکوں کے پار ایک پارک میں کھڑے درختوں کی بیچ سے مسجد کے سنہری گنبد کو آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ بہت افسردہ ہیں۔ 37 سالہ نصیرالدین کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔

نصیرالدین باقاعدگی سے مسجد جاتے ہیں اور اگر جمعہ کے روز وہ کام پر نہ ہوتے تو وہ بھی حملے کے وقت مسجد میں موجود ہوتے۔ حملے کا سن کر انھوں نے بہت سے لوگوں کو فون کیا لیکن کسی نے ان کا فون نہیں اٹھایا۔ ان کے دو دوست اس حملے میں ہلاک ہوئے۔

حملہ آور نے پہلے النور مسجد کو نشانہ بنایا تھا جہاں لوگ جمعہ کی نماز کے لیے جمع تھے۔ اس نے پورے واقعے کی لائیو وڈیو بھی بنائی اس میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ نعیم رشید کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے نیتجے میں ان کی جان بھی چلی جاتی ہے۔ اس واقعے میں نعیم رشید کے 21 سالہ بیٹے طلحہ بھی ہلاک ہو گئے۔ ان کا خاندان سنہ 2010 سے نیوزی لینڈ میں قیام پذیر تھا۔

حُسن آرا

اطلاعات کے مطابق 42 سالہ حسن آرا بھی حملے کے وقت النور مسجد میں موجود تھیں۔ وہ اپنے خاوند کو تلاش کرتے ہوئے ہلاک ہو گئیں جو وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں اور حملے میں بچ گئے۔

فریدالدین نے بتایا کہ ان کی اہلیہ نے کئی عورتوں اور بچوں کی عمارت سے بحفاظت نکلنے میں مدد کی۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ان پر فخر ہے‘۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اہلیہ ’وہی کر رہی تھیں جو انھیں اچھا لگتا تھا اور جو مجھے اچھا لگتا ہے۔‘

’میں نے اپنی بیوی کھو دی لیکن میں حملہ آور سے نفرت نہیں کرتا۔ بحیثیت انسان میں اس سے پیار کرتا ہوں۔ میں اسے معاف کرتا ہوں اس کے لیے دعا گو ہوں۔‘

پولیس ایمرجنسی کال کے چھ منٹ کے بعد حملے نشانہ بننے والی مسجد میں پہنچی۔ پولیس کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ حملہ آور کو 36 منٹ میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کمشنر کے مطابق اس واقعے میں صرف ایک ہی شخص کو چارج کیا گیا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کام اس نے اکیلے ہی کیا۔

حملہ آور کون تھا؟

آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے نیوزی لینڈ کی مسجد پر حملہ کرنے والے شخص برینٹن ٹیرینٹ کو دائیں بازو کا ایک دہشت گرد قرار دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے پولیس کمشنر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلوی پولیس یا سکیورٹی اداروں کے پاس اس شخص کے بارے میں کوئی تفصیلات یا اطلاعات نہیں تھیں۔

حملہ آور جس نے سر پر لگائے گئے کیمرے کی مدد سے النور مسجد میں نمازیوں پر حملے کو فیس بک پر لائیو دیکھایا، اس نے اپنے آپ کو 28 سالہ آسٹریلین برینٹن ٹیرینٹ بتایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ال نور مسجد میں بڑی تعداد میں نمازیوں کی ہلاکت ہوئی

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے بتایا کہ حملہ آور نے ہتھیار کو مخصوص طریقے سے تبدیل کیا ہوا تھا اور اس کے پاس گاڑی میں مزید اسلحہ موجود تھا اور اس کا ارادہ تھا کہ وہ یہ حملہ جاری رکھے گا۔

ملک کی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر ایک دہشت گرد حملہ ہے۔ اپنی ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں جو بھی ہوا ہے وہ ایک نا قابلِ قبول عمل ہے اور ایسے واقعات کی نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں