نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جاسنڈا آرڈرن: ’ہمدرد قیادت کی شبیہ‘

جاسنڈا آرڈرن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعے کے روز دو مساجد پر ہونے والے ’دہشت گرد‘ حملوں کے بعد ملک کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن کو ان کے ہمدردانہ رویے کے لیے بہت سراہا جا رہا ہے۔

اس کی تازہ مثال وہ حالیہ تصویر ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم آرڈرن نے اتوار کو نیوزی لینڈ کے دارالحکومت ویلینگٹن کی کِلبِرنی مسجد میں نمازیوں سے تعزیت کی۔

اس موقع پر انھوں نے سیاہ رنگ کا سکارف زیب تن کیا ہوا تھا اور وہ مردوں اور خواتین پر مشتمل لواحقین کے ہجوم میں کھڑے ایک ایک شخص کے ساتھ گلے لگ کر ان سے ذاتی طور پر افسوس کر رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہ ’دہشت گردی‘ ہے یا ’قتلِ عام‘؟

’کریڈٹ کارڈ مشین سے حملہ آور کا مقابلہ کیا‘

کرائسٹ چرچ حملے کا نشانہ بننے والے کون تھے؟

جاسنڈا آرڈرن کون ہیں؟

جاسنڈا کیٹ لورل آرڈرن 26 جولائی 1980 کو نیوزی لینڈ کے شہر ہیملٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پولیس افسر تھے جبکہ ان کی والدہ سکول میں کیٹرنگ اسسٹنٹ کا کام کرتی تھیں۔

یونیورسٹی آف وائے کاٹو سے سیاست اور تعلقات عامہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ پالیسی مشیر کے طور پر کام کرنے کے لیے جاسنڈا لندن منتقل ہو گئیں۔

ان کی پرورش ایک مورمن عیسائی کے طور پر کی گئی، لیکن ہم جنس پرستوں کے حقوق کی حمایت کرنے کے لیے انھوں نے 2005 میں مذہب سے علیحدگی اختیار کر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نیوزی لینڈ کی 150 سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر رہنما

انھوں نے نوجوانی میں ہی نیوزی لینڈ کی لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 2008 میں نیوزی لینڈ کی سب سے کم عمر پارلیمانی رکن بن گئیں۔ پھر اگست 2017 میں انھوں نے قائد حزب اختلاف کا عہدہ سنبھالا۔

جاسنڈا آرڈرن 26 اکتوبر 2017 کو نیوزی لینڈ فرسٹ اور لیبر پارٹی کے اتحاد سے بننے والی مخلوط حکومت کی وزیر اعظم ٹھہریں اور اسی طرح وہ نیوزی لینڈ کی تیسری خاتون وزیر اعظم بنیں۔

38 سالہ آرڈرن نیوزی لینڈ کی 150 سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر رہنما ہیں۔

’میں ماں ہوں، سُپر ومین نہیں‘

وہ جون 2018 میں اپنے دور حکومت میں بچے کو جنم دینے والی دوسری حکمران خاتون بن گئیں۔ اس سے پہلے یہ اعزاز پاکستان کی بینظیر بھٹو کے پاس تھا، جن کی بیٹی بختاور کی پیدائش اس وقت ہوئی جب وہ پاکستان کی وزیراعظم تھیں۔

جاسنڈا آرڈن کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے تین ماہ کے بچے کے ساتھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والی پہلی رہنما تھیں۔

کہا جاتا ہے کہ جاسنڈا کا سیاسی نقطۂ نظر ترقی پسند، سوشل ڈیموکریٹک اور فیمینسٹ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سوشل میڈیا پر ردِعمل

ویلینگٹن کی کِلبِرنی مسجد میں نمازیوں سے تعزیت کرتے ہوئے ان کی وائرل ہونے والی تصاویر میں وہ فکر سے اپنی بھنویں اچکاتی نظر آتی ہیں اور انھوں نے اپنے ہاتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ وہ بات کر نہیں رہیں بلکہ صرف سن رہی ہیں۔ ان تصاویر کو لے کر سوشل میڈیا پر کافی مثبت ردِ عمل دیکھنے میں آیا۔

گلوکار سیف سمیجو نے جاسنڈا کو بینظیر بھٹو سے تشبیہ دینے ہوئے ٹوئیٹ کی: ’جب خواتین حکومت میں ہوتی ہیں تو وہ ماں کی طرح، محافظ کی طرح پیش آتی ہیں اور ان کے ایک بار گلے لگنے سے جتنا بھی گہرا درد یا تکلیف کیوں نہ ہو، دور ہو جاتا ہے۔‘

برطانوی سیاست دان اور لندن کے میئر صادق خان اپنی ٹوئیٹ میں کہتے ہیں ’جب جاسنڈا پچھلے سال سٹی ہال آئیں تھیں تو ہم نے معاشرے میں شمولیت اور مساوات پر پُر جوش بات چیت کی۔ اس طرح کے واقعات ہمارے جیسے کھلے اور متنوع ممالک کو صدمہ پہنچاتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ لندن کے شہری کرائسٹ چرچ کے لوگوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘

انڈین اداکار جاوید جعفری کہتے ہیں ’نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن کرائسٹ چرچ کے دہشت گرد حملے کے ایک دن بعد (متاثرین کے) خاندان والوں اور دوستوں سے مل رہی ہیں۔ ان کی عاجزی اور فکرمندی دیکھیں۔‘

ٹوئٹر صارف اسد رحمان کا کہنا ہے کہ جاسنڈا دوپٹہ پہن کر مسلم برادری سے یکجہتی کا اظہار کر رہی ہیں اور دہشت گردی کی مذمت کر کے اور لواحقین سے مل کر ان کے زخم بھر رہی ہیں۔

اداکارہ ارمینا خان جاسنڈا کی تعریف کرتے ہوئے کہتی ہیں ’آپ نے دل جیت لیے۔ دنیا کو ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے۔ آپ کی ہمدردی اور خیال کے لیے شکریہ۔‘

انسٹاگرام صارف الیکسانڈرا نے جاسنڈا کی ایک تصویر بنائی اور اسے ’ہمدردی کی شبیہ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’کاش دنیا کے باقی رہنما بھی ان کی طرح ہوتے۔‘

صحافی ثنا سعید اپنی فیس بُک پوسٹ میں لکھتی ہیں: ’یہ بہت اچھی بات ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ حکومت تدفین کے اخراجات اٹھائے گی اور کرائسٹ چرچ میں قتل عام کی وجہ سے آمدنی کا ذریعہ گنوا دینے والے افراد کو سالوں تک مالی مدد فراہم کرے گی۔‘

فیس بُک پر مصنفہ جمیلہ رضوی کہتی ہیں ’اس ہفتے دنیا نے ایک عورت، نئی ماں اور وزیراعظم کو رسمی طور پر خواتین سے منسوب کیے جانے والے ’نسوانی‘ رویے سے پیش آتے دیکھا۔ انھوں نے ثابت کیا کہ یہ کتنا پُراثر ہو سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Jamila Rizvi

اسی بارے میں