کرائسٹ چرچ حملے کی ویڈیو دکھانے پر ترکی کے صدر اردوغان پر تنقید

سترہ مارچ کو ترک صدر کا ایک ریلی سے خطاب تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ترکی کی صدر نے ایک ریلی کےدوران بڑی سکرین پر کرائسٹ چرچ میں حملے کی وڈیو دکھائی

نیوزی لینڈ میں ایک مسجد میں حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی اور اسے سوشل میڈیا کی ویب سائٹوں سے ہٹا دیا گیا۔

لیکن ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کو اس ماہ کے آخر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل ہونے والی انتخابی ریلی کے دوران اس ویڈیو کو بڑی سکرین پر دکھانے میں کچھ غلط نہیں لگا۔

اتورا کو ہونے والی ریلی کے دوران صدر اردوغان نے اپنی تقریر روک کر مسجد کے اندر ہونے والی ہلاکتوں کی تصاویر کو ایک بہت بڑی سکرین پر دکھایا۔

انہوں نے کہا ’دنیا بھر میں لیڈر، اقوام متحدہ سمیت تمام تنظیمیں اسے اسلام اور مسلمانوں پر حملہ تسلیم کرتے ہیں، لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ ’عیسائی دہشت گرد ہے‘۔

ترک صدر نے مزید کہا کہ ’اگر یہ کوئی مسلمان ہوتا تو وہ اسے اسلامی دہشت گرد کہتے۔‘

مزید پڑھیے

کرائسٹ چرچ قتل عام پر بعض انڈین افراد کا جشن

’نیوزی لینڈ تو ذیشان کے خوابوں کی سرزمین تھی‘

’کریڈٹ کارڈ مشین سے حملہ آور کا مقابلہ کیا‘

گھناؤنے مناظر

ریلی میں دکھائی گئی ویڈیو میں حملہ آور کو مسجد میں داخل ہوتے ہوئے اور فائرنگ شروع کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ حملے میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

حملہ آور نے گو پرو کیمرے کے ذریعے اس واقعے کے تمام مناظر فیس بک پر لائیو نشر کیے تھے۔ لیکن جلد ہی صارفین کے دباؤ کی وجہ سے سوشل میڈیا کمپنیاں اس ویڈیو کو ہٹانے پر مجور ہو گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر اردوغان نے کہا کہ حملہ آور نے تمام مسلمانوں کو نشانہ بنایا

فیس بک نے کہا کہ اس نے پہلے 24 گھنٹوں میں کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملے کی کم سے کم 15 لاکھ ویڈیوز اپنی سائٹ سے ہٹائیں۔ فیس بک کے مطابق اس واقعے کی ایڈٹ کی ہوئی ویڈیوز کو، جن میں گھناؤنے مناظر کاٹ دیے گئے تھے، بھی ہٹایا جا رہا ہے۔

صدر اردوغان اس وقت 31 مارچ کو ہونے والے بلیداتی انتخابات کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔

انتخابی حمایت کی کوشش

بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوین کا کہنا ہے کہ انتخابی ریلی میں اس ویڈیو کو دکھانے کا مقصد اپنی حامیوں کو متحرک کرنا ہے۔

صدر اردوغان نے اپنی تقریر میں کہا کہ دائیں بازو کے انتہا پسند حملہ آور 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ نے آن لائن اپنے منشور میں خاص طور پر ترکی اور استنبول کے مشہور تاریخی مقام ’ہایا صوفیا‘ کا ذکر بھی کیا ہے، جو سلطنت عثمانیہ کے دور میں مسجد میں تبدیل کیے جانے سے پہلے ’گریک آرتھوڈوکس‘ چرچ تھا اور اب ایک عجائب گھر ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آور نے سن 2016 میں دو بار ترکی کا دورہ کیا اور وہاں 40 دن گزارے۔ ترکی کے صدر نے کہا برینٹن ٹیرنٹ کے ترکی میں رابطوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملہ آور کے منشور میں ترکی کا ذکر تھا

ترکی کے صدر نے کہا کہ اگر ’مسلمان متحد ہوں تو کوئی بھی ہم پر اس طرح کے حملے نہیں کر سکتا۔ اگر مسلمانوں نے اپنے آپ کو منظم نہ کیا تو وہ ہم پر اس طرح کے حملے کر سکتے ہیں جیسے انہوں نے کیا۔ اس لیے ہم متحد رہیں گے، ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے۔‘

انہوں نے اپنی سیاسی مخالف کمال کریدارولو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’وہ ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو اسلام سے نفرت کرتے ہیں‘۔ ان کے سیکولر مخالفین اس طرح کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

حزب اختلاف کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’اردوغان حملے کی ویڈیو کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ انہوں نے ترکی کے حکام سے اس ویڈیو کے دکھائے جانے پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔

ترکی ’اسلاموفوبیا‘ کے خلاف

مارک لوین کا کہنا ہے کہ ترک میڈیا نے، جو عموماً حکومت کا حامی ہے، اس واقعے کو اس طرح پیش کیا ہے جیسے ترکی کا لیڈر مسلمانوں کو ’اسلاموفوبیا‘ سے بچا رہا ہے۔

ایک اخبار کی سرخی تھی ’ہم نیوزی لینڈ حملے کے متاثرین کے ساتھ ہیں جبکہ مغرب خاموش ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر اردوغان 31 مارچ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے مہم چلا رہے ہپیں

ایک اور اخبار کے مطابق ’مغربی انٹیلیجنس ایجنسیاں اس حملے کی سازش میں شامل ہیں‘۔

بی بی سی کے مارک لوین کے مطابق ’ملک میں دائیں بازو کے رجحانات والے طبقات میں اس طرح کی باتوں کی بہت کشش حاصل ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی صدر اردوغان کو انتخابات میں ضرورت ہے۔ اور ہمیشہ کی طرح ملک میں سیکولر اور مغرب پسند لوگوں کے لیے مایوسی بڑھ رہی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں