جنوبی افریقہ کے صدر رامافوسا ٹرین میں پھنس گئے!

رامافوسا تصویر کے کاپی رائٹ ANC
Image caption یہ منصوبہ کامیاب رہا یا الٹا ان کے گلے پڑ گیا، اس کا انحصار اس بات پر ہے کے آپ اسے کیسے دیکھ رہے ہیں

جنوبی افریقہ کے صدر سرل رامافوسا نے شاید یہ امید کی ہو کہ صبح صبح مسافروں کی بھیڑ میں شامل ہونا مئی کے انتخابات سے پہلے انھیں ایک عوامی شخص کے طور پر سامنے لائے گا۔

یہ منصوبہ کامیاب رہا یا الٹا ان کے گلے پڑ گیا، اس کا انحصار اس بات پر ہے کے آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں۔

جنابِ صدر دوسرے مسافروں کے ساتھ چار گھنٹے تک ایک ایسی ٹرین میں پھنسے رہے جس کا سفر محض 45 منٹ کا ہونا چاہیے تھا۔

منزل پر پہنچتے ہی رامافوسا نے کہا: ’یہ ناقابلِ قبول ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کی ریل سروس کو کارکردگی بہتر کرنا ہوگی، ’ورنہ لوگوں کی نوکریاں جائیں گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

جنوبی افریقہ کی انٹرنیشنل کریمینل کورٹ سے علیحدگی

جنوبی افریقہ کی پارلیمان میں ہنگامہ آرائی

جنوبی افریقہ کی ونی منڈیلا چل بسیں

جوہانسبرگ میں بی بی سی کے نامہ نگار ملٹن نکوسی کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں ریلوے مسافروں کے لیے ٹرینوں میں تاخیر ایک روزمرہ کا مسئلہ ہے اور کام پر دیر سے پہنچنے کے سبب کچھ لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ہمارے رپورٹر کے مطابق ماضی میں مسافروں نے تنگ آکر ٹرینوں کو آگ تک لگا دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANC
Image caption رامافوسا چار گھنٹے تک ٹرین میں پھنسے رہے

ریل سروس کے ترجمان نے بتایا کہ گوٹینگ صوبے میں صدر رامافوسا جس ٹرین میں پھنسے رہے اس کا سبب ایک اور ٹرین تھی، جس کے ڈرائیور کو پتھر لگنے کے بعد ٹرین کو رکنا پڑا تھا۔

الزام لگاتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ٹھگوں کی جانب سے ریل کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل اور لگاتار حملے ہو رہے ہیں۔‘

صدر رامافوسا نے پہلے بہادری کا مظاہرہ کیا اور ٹرین میں مسکراتے ہوئے دکھائی دئیے۔

انتخابی مہم کے سفر پر ان کا پیچھا کرنے والے صحافیوں نے ایسے مناظر ٹویٹ کیے جن میں صدر کو مسافروں سے بات چیت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

صدر رامافوسا افریقن نیشنل کانگریس کے لیے ووٹ حاصل کرنے کی امید کر رہے تھے۔ گذشتہ سال جیکب زوما کو ہٹائے جانے کے بعد وہ اب اس پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔

پھنسی ہوئی ٹرین سے باہر دیکھتے صدر کی تصویر پر جوہانسبرگ میں مقیم ایک رپورٹر پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ’جنوبی افریقہ میں آج تک کا سب سے بڑا تماشا‘ ہے؟

حزبِ اختلاف کے ایک سیاستدان نے طنز کرتے ہوئے کہا ’نیا ڈرائیور، وہی ٹوٹی پرانی ٹرین۔‘

اسی بارے میں