مغربی ممالک میں انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسندی کے رجحان میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟

دہشت گردی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں فائرنگ کے نتیجے میں 50 افرد کی ہلاکت اور درجن زخمیوں نے انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی سے متلعق نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

برطانیہ کے سیکورٹی وزیر نے کہا ہے کہ ’بالکل ممکن‘ ہے کہ برطانیہ میں بھی انتہائی دائیں بازو کا حملہ ہو سکتا ہے اور انھوں نے آن لائن افراد کی بنیاد پرستی پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

تو اس قسم کی پرتشدد شدت پسندی کس حد تک پھیل چکی ہے؟

یہ بھی پڑھیے

’سفید فام انتہا پسندی پوری دنیا کا مسئلہ ہے‘

دہشت گردی کو کسی ایک ملک سے نہیں جوڑا جا سکتا: چین

دہشتگردی میں اضافے کے پیچھے کون؟

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ

کرائسٹ چرچ میں ہونے والے حالیہ حملے سے قبل نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا دونوں نے کہا تھا کہ ان کی سکیورٹی کو اصل خطرہ اسلام کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی سے ہے۔

اور نیوزی لینڈ سکیورٹی انٹیلیجنس سروس کی حالیہ رپورٹ میں بھی انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔

سال 2017 میں آسٹریلیا کی سکیورٹی انٹیلیجنس آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ ملک میں فرقہ ورانہ تشدد انتہائی کم سطح پر موجود ہے تاہم 2016 میں صرف ایک شخص پر انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی کا الزام تھا۔

رپورٹ میں حملوں کے امکانات کو مسترد نہیں کیا گیا تھا لیکن یہ کہا گیا تھا کہ انتہائی دائیں بازو کے شدت پسند مسلمانوں یا بائیں بازو کی برادری کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اور یہ حملے کسی اکیلے شخص یا منظم گروہوں سے منسلک چھوٹے گروپس کی جانب سے کیے جا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مغربی ممالک میں انتہائی دائیں بازو کی انتہاپسندی میں اضافے کے خلاف امریکی شہر نیو یارک میں احتجاج ہو رہا ہے

یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی

یورپی یونین کے قانون نافذ کرنے والے ادارے یوروپول نے سنہ 2017 میں دائیں بازو کے پانچ دہشت گردی کے منصوبوں کو ریکارڈ کیا، جو سب برطانیہ میں تھے۔

یہ پانچ حملے یورپین انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے ریکارڈ کردہ 205 ممکنہ یا کامیاب حملوں میں سے تھے، جن میں 137 ’علیحدگی پسند‘، 24 ’بائیں بازو‘ اور 33 ’جہادیوں‘ کے منصوبے بھی شامل تھے۔

سنہ 2017 میں دہشت گردی کے الزام میں مجموعی طور پر 1219 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جن میں سے 20 انتہائی دائیں بازو کے شدت پسند جبکہ 705 جہادی تھے۔

دہشتگردی کی عالمی فہرست، ایک سالانہ رپورٹ جسے آزاد ذرائع کے ایک ڈیٹا بیس سے یونیورسٹی آف میری لینڈ میں مرتب کیا گیا، مغربی یورپ کے انتہائی دائیں بازو سے متعلق واقعات کی بھی نگرانی کرتا ہے۔

اس ڈیٹابیس کے مطابق 2017 میں مغربی یورپ میں دہشتگردی کے 28 واقعات ہوئے جبکہ 2007 میں صرف ایک ایسا واقعہ رونما ہوا تھا۔

برطانیہ

برطانیہ میں انسداد دہشتگردی کی کمشنر سارہ خان نے برطانوی اخبار آبزرور کو بتایا کہ برطانیہ میں مقیم انتہائی دائیں بازو کے کارکن "منظم، پیشہ ورانہ اور فعال طور پر بھرتی کیے جاتے ہیں‘، تاہم ان کی تعداد ابھی تک جاری نہی کی گئی ہے۔

تاہم انٹیلی جنس ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ مارچ 2017 تک برطانیہ میں 18 حملوں کو ناکام بنایا گیا جن میں سے چار کی منصوبہ بندی انتہائی دائیں بازو کے شدت پسندوں نے کی تھی۔

حکومت کے انسداد انتہا پسندی پروگرام ’پریوینٹ‘ کے حوالہ جات کے مطابق اس قسم کی شدت پسندی میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2017-18 کے درمیان ملک بھر میں ایسے 7318 کیسز سامنے آئے جن میں سے 1312 کا تعلق انتہائی دائیں بازو سے تھا۔

سنہ 2012-13 کی درمیان انتہائی دائیں بازو کے گروپ کو ملنے والی حمایت میں 300 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اسلام کے نام پر انتہا پسندی میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جرمنی اور ہالینڈ

جرمنی میں حکومت نے ’سیاسی حوصلہ افزائی‘ والے جرائم کو ریکارڈ کیا ہے۔

سنہ 2017 میں اس طرح کے 39505 جرائم ریکارڈ کیے گئے جن میں سے آدھے کیسز کا تعلق دائیں بازو کے نظریات سے تھا، ان میں 1130 پرتشدد کارروائیاں بھی شامل تھیں تاہم زیادہ تر پر تشدد کارروائیوں کا تعلق انتہائی بائیں بازو سے تھا۔

2017 میں دائیں بازو کے افراد نے پناہ گزینوں کے مراکز پر 300 حملے کیے جو کہ گزشتہ برس سے دو تہائی کم تھے۔

ہالینڈ کے وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ: ’انتہائی دائیں بازو کے منشور میں عدم تشدد یا معمولی تباہی شامل ہے۔تاہم دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو بہت کم تعداد میں تشدد کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔‘

وزارت داخلہ کے ساتھ تحقیق کرنے والی تنظیم اینے فرینک کے مطابق اس نے دائیں بازو کے انتہا پسند گروہوں میں تیزی سے اضافے کی نشاندہی کی ہے جو کہ 2011 میں 90 سے بڑھ کر 2016 کے اختتام تک 250 تک پہنچ چکی ہے۔

امریکہ

دہشت گردی کی عالمی فہرست کے مطابق 2002 سے 2017 کے درمیان شمالی امریکہ میں دائیں بازو کی دہشتگردی کے 86 واقعات ہوئے جن میں 62 ہلاکتیں ہوئیں۔

ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں گزشتہ تین برسوں میں ہوئیں، جن میں سے نو ہلاکتیں 2015 میں جنوبی کیرولینا کے علاقے چارلسٹن میں ایمینوئیل افریقی میتھوسٹسٹ ایپیسکال چرچ میں ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے ہوئیں جبکہ 11 ہلاکتیں 2018 میں پٹسبرگ کی ایک عبادت گاہ پر فائرنگ سے ہوئیں۔

تمام قسم کی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی محکمہ داخلہ سیکورٹی نے 2011 میں ایک قومی حکمت عملی جسے ’انسداد انتہا پسندی‘ کہا جاتا ہے، کا اعلان کیا جس کے لیے ایک کروڑ گرانٹ کا اعلان بھی کیا گیا۔

سنہ 2018 کے اختتام پر، پٹسبرگ کے قتل عام کے گیارہ دن بعد اس پروگرام کے لیے فنڈز کو منسوخ کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسندی کا سراغ لگانا

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں انٹرنیسنل سیکورٹی سروسز کے ڈائریکٹر رفیلیلو پینٹکی کے مطابق تاریخی اعتبار سے مغرب میں دائیں بازو کی دہشت گردی اس قدر منتشر نوعیت کی ہے کہ اس کا سراغ لگانا مشکل ہے۔

ان کی تنظیم کی تحقیق نے یورپ میں دائیں بازو کے دہشت گردوں کے لئے ’تنہا ذمہ دار‘ ہونے کے رجحان پر روشنی ڈالی ہے جس میں اسلامی انتہاپسندوں کے مقابلے دائیں بازو کی دہشت گردی میں رویے میں قابل ذکر تبدیلیوں کو ظاہر کرنا یا اپنے دوستوں اور خاندان والوں کے ساتھ منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنے کا امکان نہیں ہے.

اعدادوشمار کے مطابق دائیں بازو کے 40 فیصد ’تنہا ذمہ دار‘ اتفاقاً پکڑے گئے جبکہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے افراد کی اتفاقیہ نشاندہی کی تعداد 12 فیصد ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم آن لائن کمیونٹی کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرنے والے افراد کو دیکھ رہے ہیں جس سے انٹیلیجنس ایجنسیوں کو انتہائی دائیں بازو کی دہشت گردی کی نشاندہی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے: ’(انٹیلیجنس ایجنسیاں) ابھی بھی اسلام کے نام پر انتہا پسندی کے مقابلے میں اسے کم خطرہ سمجھتی ہیں۔‘

اسی بارے میں