خفیہ کیمروں سے ہوٹلوں میں پورن بنانے کے جرم میں چار افراد گرفتار

Two examples of hidden cameras, in a wall outlet and hair dryer holder تصویر کے کاپی رائٹ South Korea National Police Agency

جنوبی کوریا میں چار افراد کو ہوٹل کے کمروں میں 1600 مہمانوں کی خفیہ طور پر فلمیں بنا کر انھیں انٹرنیٹ پر بیچنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں ملزمان نے کمروں کے ٹی وی، ہیئر ڈرائر، اور دیوار پر ساکٹ جیسی جگہوں پر کیمرے نصب کر رکھے تھے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر 6200 ڈالر کمائے۔

اگر انھیں سزا ہوئی تو ان کو 25000 ڈالر سے زیادہ جرمانہ اور 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

جنوبی کوریا میں خفیہ طور پر لوگوں کی فحش فلمیں بنانے کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جا چکا ہے اور اس حوالے سے ملک میں مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔

اس تازہ ترین واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مقامی پولیس نے بتایا کہ ملزمان نے گذشتہ اگست میں ملک کے متعدد شہروں میں 30 مختلف ہوٹلوں ایک ملی میٹر لینز کے کیمرے نصب کیے تھے۔

اس کے بعد نومبر میں ایک ویب سائٹ بنائی گئی تھی جس میں صارفین 30 سیکنڈ کے کلپ مفت میں دیکھ سکتے تھے یا پھر فیس ادا کر کے مکمل ویڈئوز دیکھ سکتے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ملزمان نے 803 ویڈیوز جاری کی تھیں اور قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے انھوں نے ویب سائٹ کے سرور ملک سے باہر حاصل کیے تھے۔

حالیہ ماہ میں بند کی گئی اس ویب سائٹ کے 97 صارف تھے جنھوں نے فیس ادا کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دارالحکومت سیول کے ایک اخبار نے مقامی پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ ’غیر قانونی ویڈیوز اور انسانی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے ایسے مجرموں سے پولیس سختی سے پیش آتی ہے۔‘

جنوبی کوریا میں پورنوگرافی بنانا یا شائع کرنا جرم ہے۔ یہ پابندی اور ملک کے تیز انٹرنیٹ کو اس مسئلے کی بنیادی وجہ کہا جاتا ہے۔

بہت ساری ویڈیوز خفیہ طور پر باتھ روم یا دکانوں میں کپڑے بدلنے کے مقامات پر بنائی جاتی ہیں یا کبھی ماضی کے بوائی فرینڈ یا شوہر انتقامی طور پر شائع کر دیتے ہیں۔

2017 میں ملک میں ایسے 6000 کیسز کی رپورٹ کی گئی جبکہ 2012 میں یہ تعداد 2400 تھی۔

2017 میں 5400 افراد کو خفیہ کیمروں سے متعلق جرائم کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تاہم دو فیصد سے بھی کم کو قید کی سزا دی گئی۔

اسی بارے میں