گولان کی پہاڑیاں: صدر ٹرمپ کے بیان سے کیا بدلے گا؟

اسرائیل تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیواور نتن یاہو

جس وقت صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ آئی، جس میں انہوں نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی حاکمیت تسلیم کرنے کی بات کی تھی، ہم لوگ اسرائیلی وزیراعظم کے گھر پر تھے یہ ایک بڑا سرپرائیز تھا۔ ہم یروشلم کے مقدس مقامات کے دورے پر امریکی وزیر ِخارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ تھے اور دن کے آخر میں کام ختم کرنے سے پہلے ان کے اور نتن یاہو کے بیان کے منتظر تھے۔

(بی بی سی کی نمائندہ برائے امریکی محکمۂ خارجہ باربرا پلیٹ اشر کا تجزیہ)

ان دونوں نے پریس کانفرنس میں آنے میں خاصی دیر لگا دی جس پر ہم سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ آیا صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ نے انہیں بھی بری طرح چونکا دیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ مسٹر نتن یاہو کے لیے ایک خوشخبری تھی اور ہم سے بات کرتے ہوئے انکا پہلا جملہ تھا 'میں بہت خوش ہوں'۔

یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

ایران اور اسرائیل کا مسئلہ ہے کیا؟

اسرائیل کے عربوں سے بڑھتے تعلقات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں لڑائی کے بعد سے گولان کی پہاڑیوں پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا

نتن یاہو اس فیصلے سے نہیں بلکہ اس کی ٹائمِنگ سے حیران ہوئے ہونگے کیونکہ گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں پر اسرائیل کے حق کو تسلیم کرنے کا معاملہ ٹرمپ انتظامیہ میں کافی عرصے سے زیر غور تھا اور حالیہ مہینوں میں اسرائیل اہلکار اس کی منظوری کی پُر زور کوششیں کر رہے تھے۔

بہت بڑی تبدیلی

دہائیوں سے امریکہ اور دنیا کے زیادہ تر ممالکے گولان پر اسرائیل کے قبضے کو مسترد کرتے آ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے قارٹر میں درج اصول کے مطابق کو ملک کسی علاقے پر قبضے کر کے اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتا بلکہ اس کا مستقبل مذاکرات سے طے ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے یہ صورتحال بدل دی ہے۔

اس فیصلے سے کس طرح کے سوال پیدا ہوتے ہیں؟

سب سے پہلے اور اہم ہے عالمی قوانین کا سوال۔

گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا حق تسلیم کر کے دراصل مسٹر ٹرمپ علاقے پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کر رہے ہیں اس کے بعد دوسرے ممالک کو ایسا کرنے سے روکنے کا ان کے پاس کیا جواز ہوگا مثلاً کرائمیا پر روس کا قبضہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات میں امریکہ اب غیر جانبدار ثالث نہیں ہو سکتا

دوسرا یہ کہ انہوں نے کہا ہے کہ وہ یہ فیصلہ سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے کر رہے یہاں انکا مطلب ایران سے ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ایران اسرائیل کو ہدف بنانے کے لیے شام کا استعمال کر رہا ہے اور گولان کی پہاڑیاں فرنٹ لائن پر ہیں۔

وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے کچھ اراکان کی یہی دلیل ہے اور اسرائیل بھی یہی دلیل دیتا آیا ہے۔

لیکن گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کیے جانے سے حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑیگا کیونکہ اسرائیل پہلے سے ہی وہاں فوجی قبضہ جمائے ہوئے ہے۔

یہاں اور واشنگٹن میں مبصرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ اعلان انتخابات میں نتن یاہو کی حمایت میں اضافہ کرنے کے مقصد سے کیا ہے۔

شام میں جاری جنگ اس سے کیسے متاثر ہو سکتی ہے؟

اسرائیل شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بناتا رہتا ہے۔

ایک طرف شام خانہ جنگی کے سبب کمزور پڑ چکا ہے اور ایران امریکی پابندیوں سے متاثر ہوا ہے جس کے بعد اسرائیل کو امریکہ میں اپنے دوستوں کی حمایت سے اپنی دھونس جمانے کا موقع مل رہا ہے۔

دوسری جانب گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے پر کھلے عام کوئی تنازع بھی نہیں ہے۔ اس معاملے کو اچھالا جائے تواسرائیل کے ساتھ ایران اور اسکے علاقائی اتحادی حزب اللہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

روس بھی اس ساری صورتحال سے خوش نہیں ہوگا۔

غربِ اردن پر کیا اثر پڑے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گولان کے بارے میں صدر ٹرمپ کے اس فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انکی انتظامیہ امریکی پالیسی اسرائیل کے حق میں بدل رہی ہے

مقبوضہ غربِ اردن گولان کی پہاڑیوں سے مختلف ہے۔ اس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا لیکن یہاں فلسطینیوں کی بڑی آبادی ہےجو حقِ خود ارادیت کا مطالبہ کر رہی ہے۔

بیس سال سے اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور ان مذاکرات کے حامیوں کو تشویش ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی حق کے تسلیم سے غربِ اردن کے اسرائیل سے سے الحاق کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔

یہ تشویش بے بنیاد نہیں ہے کیونکہ وزیراعظم نتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کے اراکان اس الحاق پر زور دے رہے ہیں۔ خود نتن یاہو کی سیاسی جماعت میں انتیس میں سے اٹھائیس ارکان اس الحاق کی حمایت کرتے ہوئے دوبارہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔

نیتن یاہو ان اسٹھائیس ارکان میں شامل نہیں لیکن انہیں اپوزیشن کی جانب سے بدعنوانی کے الزامات اور سخت مقابلے کا سامنا ہے اور انہوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ طاقت میں رہنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

اس سے ٹرمپ کے قیامِ امن کے عمل پر کیا اثرات پڑیں گے؟

گولان کے بارے میں صدر ٹرمپ کے اس فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انکی انتظامیہ امریکی پالیسی اسرائیل کے حق میں بدل رہی ہے۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر چکے ہیں اور انہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے کی فنڈنگ کم کر دی ہے۔ انتظامیہ نے فلسطینی اتھارٹی کو ہر طرح کی امداد روک دی ہے۔

انھوں نے فلسطینی اتھارٹی کو تقریبا تمام معاونت روک دی ہے اور ان پر دہشت گردوں کی مالی مدد اور امن کی کوششوں کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اگر فلسطینی اتھارٹی پیش کی جانے والی تجاویز کو مسترد کرتی رہی تو ممکن ہے اس سے اسرائیل کے موقف کو مذید تقویت ملے گی۔

تاہم اس منصوبے کے لیے عرب ممالک کی تائید ضروری ہوگی جو کافی عرصی سے اسرائیل کے زیرِ تسلط علاقوں کی واپسی کے خواشمند ہیں۔

بہت سے ممالک نے مسئلہ فلسطین کے بجائے ایران سے مبینہ خطرے کے پیشِ نظر ٹرمپ کے امن معاہدے کی حمایت ظاہر کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ کے گولان کے بارے میں بیان کے باعث وہ عوامی سطح پر مشکل صورتحال کا شکار ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں