شامی جمہوری فورسز کا دعوی: 'دولت اسلامیہ کا آخری گڑھ بھی ختم'

باغور تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

امریکہ نواز شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کا کہنا ہے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی شکست کے بعد اس کی پانچ سالہ 'خلافت' کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

ایس ڈی ایف کے جنگجو دولت اسلامیہ کے آخری گڑھ کہے جانے والے باغور پر فتح کے پرچم لہرا رہے ہیں۔

اپنے بہترین دور میں دولت اسلامیہ شام و عراق کے تقریبا 88 ہزار مربع کلومیٹر پر قابض تھی۔

زمین پر کنٹرول گنوا دینے کے بعد بھی اس تنظیم کو عالمی سکیورٹی کے خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

دولت اسلامیہ کا ابھی بھی اس خطے میں وجود ہے جبکہ نائجیریا، یمن، افغانستان اور فلپائن جیسے ممالک میں اس کی ہمنوا تنظیمیں موجود ہیں۔

حتمی جنگ کیسیرہی؟

کردوں کی قیادت والے ایس ڈی ایف اتحاد نے مارچ کے ابتدا میں دولت اسلامیہ کے خلاف اس وقت آخری حملہ کیا جب دولت اسلامیہ کے باقی ماندہ جنگحو باغور نامی گاؤں میں محدود ہو گئے تھے۔

اتحاد کو اس انکشاف کے بعد مجبوراً رفتار کم کرنی پڑی کہ وہاں بڑی تعداد میں عام شہری بھی ہیں جو کہ عمارتوں، خیموں اور سرنگوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

جنگ اور اشیائے خوردنی کی قلت کے سبب ہزاروں کی تعداد میں خواتین، بچے اور غیرملکی شہریوں نے پناہ گزینوں کے لیے ایس ڈی ایف کے قائم کردہ کیمپوں میں پناہ کے لیے نکل آئے۔

اس کے علاوہ دولت اسلامیہ کے بہت سے جنگجوؤں نے بھی باغور چھوڑ دیا لیکن جو وہاں بچ رہے انھوں نے خودکش بمباروں اور کاربموں کے ذریعے سخت مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔

ایس ڈی ایف میڈیا آفس کے سربراہ نے ٹویٹ کیا کہ 'ایس ڈی ایف نے نام نہاد خلافت کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے اور دولت اسلامیہ کا صد فیصد زمینی کنٹرول ختم کر دیا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

کیا دولتِ اسلامیہ کا خاتمہ قریب ہے؟

’خلافت‘ کے خاتمے کا مطلب دولت اسلامیہ کا خاتمہ بھی ہے؟

'اس انوکھے دن کو ہم ہزاروں شہدا کے نام کرتے ہیں جن کی کاوشوں سے یہ فتح ممکن ہو سکی۔'

صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال کے اواخر میں ہی دولت اسلامیہ کی شکست کا اعلان کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کے انخلا کا منصوبہ پیش کیا تھا جس سے ان کے حلیف خوش نہیں ہوئے تھے اور ان کے اپنے سینیئر اہلکار مستعفی بھی ہو گئے۔ اس رد عمل کے بعد وائٹ ہاؤس نے کہا کہ کچھ امریکی فوجی خطے میں موجود رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

اب بھی دولت اسلامیہ کے متعلق تشویش کیوں ہے؟

دولت اسلامیہ سنہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے نتیجے میں القاعدہ کے بطن سے پیدا ہوئی۔

اس نے سنہ 2011 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت میں شرکت کی۔ سنہ 2014 تک اس نے دونوں ممالک میں ایک بڑے خطے پر قبضہ کر لیا اور 'خلافت' کا اعلان کر دیا۔

ایک وقت ایسا آيا جب دولت اسلامیہ کی عملداری میں 80 لاکھ افراد آتے تھے اور اس نے تیل، تاوان، ڈاکے اور اغوا سے اربوں ڈالر حاصل کیے اور اپنے خطے کو دوسرے علاقوں پر حملے کے لیے استعمال کیا۔

دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں باغور کی لڑائی اہم موڑ تھا۔ عراقی حکومت نے اس جنگجو تنظیم کے خلاف فتح کا سنہ 2017 میں ہی اعلان کر دیا تھا۔

لیکن یہ تنظیم شکست سے بہت دور تھی۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ 15 سے 20 ہزار سرگرم مسلح جنگجو ابھی بھی خطے میں ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے سلیپر سیل کے طور پر کہیں خاموشی سے زندگی بسر کر رہے ہوں گے اور وہ اس وقت باہر نکل کر آئيں گے جب یہ خود کو از سر نو منظم کرنا چاہیں گے۔

باغور کی شکست کو سامنے دیکھتے ہوئے دولت اسلامیہ نے ایک آڈیو ریکارڈنگ نشر کی جس میں یہ کہا گیا ہے کہ خلافت ختم نہیں ہوئی ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ آڈیو تنظیم کے ترجمان ابو الحسن المہاجر نے نشر کی ہے۔

دولت اسلامیہ کا عروج اور زوال

اکتوبر سنہ 2006 میں جہادیوں نے 'اسلامک سٹیٹ آف عراق'(آئی ایس آئی) یعنی دولت اسلامیہ عراق کی تشکیل کا اعلان کیا اور اپریل سنہ 2013 میں ابوبکر البغدادی اس کے سربراہ مقرر ہوئے۔

جنوری سنہ 2013 میں آئی ایس آئی نے رقہ سمیت شام کے مغتلف علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا اور اسی سال اپریل میں ابوبکر البغدادی نے تنظیم کا نام تبدیل کر کے 'اسلامک سٹیٹ ان عراق اینڈ لیونلٹ (آئی ایس آئی ایس)‘ رکھ دیا۔

جون سنہ 2014 تک آئی ایس آئی ایس نے موصل اور تکریت سمیت متعدد عراقی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا، انھوں نے شام کے صوبہ حمص میں موجود سب سے بڑے تیل کے ذخیرہ پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ جون کے مہینے میں ہی خلافت کے قیام کا اعلان کیا گیا جسے دولت اسلامیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اگست سنہ 2014 میں دولت اسلامیہ نے جنوبی عراق میں موجود یزیدی مذہب سے تعلق رکھنے والے اقلیتی برادری کا قتل عام شروع کر دیا ساتھ ہی پہلی دفعہ مغرب سے تعلق رکھنے والے امدادی کارکنان اور صحافیوں کے سر قلم() کرنے کی ویڈیوز بھی جاری کیں۔

ستمبر سنہ 2014 میں امریکہ نے دولت اسلامیہ کے دارلحکومت رقعہ() پر فضائی بمباری شروع کر دی۔

جنوری سنہ 2015 میں دولت اسلامیہ اپنے عروج پر تھی وہ 80 لاکھ لوگوں پر حکمرانی کر رہے تھے اور مغربی شام سے مشرقی عراق تک 88 ہزار سکوئر کلومیٹر کا علاقہ ان کے قبضے میں تھا۔ اس کے علاوہ وہ تیل، لوٹ کسوٹ اور اغوا برائے تاوان کے ذریعے اربوں ڈالر کما رہے تھے۔

مارچ سنہ 2016 تک شامی افواج نے پلمیرا کا تاریخی شہر کو والپس اپنے قبضے میں لیا لیکن دسمبر میں پھر یہ شہر دولت اسلامیہ کے قبضے میں آگیا اور آخر کار مارچ 2017 میں آخر کار شامی افواج نے تباہ ہوئے تاریخی شہر کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

جولائی سنہ 2017 میں عراقی فورسز نے دس مہینے کی خون خوار لڑائی کے بعد موصل کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس لڑائی میں ہزاروں عام شہری ہلاک ہوئے، آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے اور عراق کا دوسرا سب سے بڑے شہر کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا تھا۔

اکتوبر سنہ 2017 میں کردوں کی سربراہی میں 'سیرین ڈیموکریٹک گورسز' نے دولت اسلامیہ کو رقہ میں شکست دی۔

دسمبر سنہ 2017 میں عراق کی حکومت نے عراق اور شام کے بارڈر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد داعش کے خلاف جنگ میں اپنی فتح کا اعلان کیا۔

فروری سنہ 2019 میں عراق اور شام کی سرحد پر دولت اسلامیہ کے آخری علاقے میں کئی ہفتے کی لڑائی کے بعد امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جہادی تنظیم شکست کے قریب ہے۔

مارچ سنہ 2019 میں امریکہ کی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے اعلان کیا کہ شام میں عسکریت پسندوں کی شکست کے بعد دولت اسلامیہ کی پانچ سالہ 'خلافت' ختم ہو گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں