کرائسٹ چرچ: وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے مساجد حملوں کی اعلی سطحیٰ انکوائری کا حکم دے دیا

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر ہونے والے حملوں کی اعلی سطحی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

ان حملوں میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں نو پاکستانی بھی تھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رائل کمیشن اس انکوائری کے ذریعے اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا پولیس اور حساس ادارے 15 مارچ کو ہونے والے واقعہ کو روکنے کے لیے مزید کچھ کر سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

نیوزی لینڈ: خود کار ہتھیاروں پر پابندی کا اعلان

کرائسٹ چرچ: 'نیوزی لینڈ آپ کے ساتھ سوگوار ہے، ہم ایک ہیں'

’یقین ہی نہیں آرہا کہ اریب اس دنیا میں نہیں رہا‘

نیوزی لینڈ کے قوانین کے تحت رائل کمیشن ملک میں غیر جانبدار انکوائری کے حوالے سے سب سے اعلی سطحی فورم ہے۔

جاسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ کمیشن 'جامع' رپورٹ پیش کرے گا۔

سوموار کے روز انھوں نے ویلنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ 'یہ اہم ہے کہ یہ بات جاننے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی جائے کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ کیسے پیش آیا اور اس کو کیسے روکا جا سکتا تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک سوال جس کا جواب ہمیں دینا چاہیے (وہ یہ ہے) کہ ہمیں کیا پتا ہونا چاہیے تھا اور مزید کیا پتا ہونا چاہیے۔'

جاسنڈا آرڈرن کا مزید کہنا تھا کہ اس باقاعدہ انکوائری کے ذریعے نیم خودکار ہتھیاروں تک رسائی اور سوشل میڈیا کے ان حملوں میں کردار سے متعلق سوالات کے جوابات بھی ڈھونڈے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY ABDUL RAHEEM SHAH
Image caption کرائسٹ چرچ میں ہلاک ہونے والے نو پاکستانیوں میں سے ایک سید اریب کی میت آج پاکستان لائی جا رہی ہے۔ انھیں کراچی کے قبرستان میں دفنایا جائے گا

اس سے قبل نیوزی لینڈ کی وزیراعظم ہر قسم کے نیم خود کار ہتھیاروں، خود کار رائفلز اور زیادہ گنجائش والے میگزینز پر پابندی عائد کر چکی ہیں اور ایسا کرائسٹ چرچ حملوں کے بعد کی جانے والی گن ریفارمز کے تحت کیا گیا ہے۔

انھوں نے اعلان کیا تھا کہ اس حوالے سے نئی قانون سازی 11 اپریل تک ہو جائے گی۔ 

یاد رہے کہ 28 سالہ سفید فام برتری کے حامی آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ پر قتل کے الزام کی فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے اور ان پر مزید چارجز لگنے کی امید ہے۔

تاہم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے اس ٹرائل میں موت کی سزا کے قانون کے دوبارہ اطلاق کو یکسر مسترد کیا ہے۔

ان حملوں میں ہلاک ہونے والے نو پاکستانیوں میں سے ایک سید اریب کی میت آج پاکستان کے شہر کراچی لائی جائے گی اور ان کو وہاں مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں