مسلمان خواتین و حضرات کے لیے رشتوں کی ایپ ’مُز میچ‘ کے بانی کے مطابق 'مسلمان ڈیٹ نہیں کرتے، شادی کرتے ہیں'

شہزاد یونس تصویر کے کاپی رائٹ MUZMATCH
Image caption شہزاد یونس کو اس ویب سائٹ کا خیال بینک میں کام کرتے ہوئے آیا تھا

بی بی سی کے ہفتہ وار پروگرام 'دی باس' میں دنیا بھر کی مختلف کاروباری شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس ہفتے ہم نے مسلمان ڈیٹنگ ویب سائیٹ اور ایپ ’مُز میچ‘ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو شہزاد یونس سے بات چیت کی۔

جب شہزاد یونس سٹیج پر آئے تو وہ کافی نروس تھے۔

یہ دو سال پہلے کی بات ہے جب اس وقت 32 سالہ ابھرتے ہوئے کاروباری شہزاد یونس امریکی شہر سان فرانسسکو میں شہرت یافتہ سرمایہ کاروں کے ایک گروپ کو مُز میچ کے منصوبے سے آگاہ کر رہے تھے۔

انھوں نے کمرے میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 'مسلمان ڈیٹ نہیں کرتے، ہم شادی کرتے ہیں۔'

شہزاد اور ان کے کاروباری شراکت دار رائن بروڈی وہاں منعقد کیے گئے مقابلے میں حصہ لینے پہنچے تھے تاکہ سیلیکون ویلی کی سرمایہ کار فرم 'وائے کامبینیٹر' کی مکمل حمایت حاصل کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MUZMATCH
Image caption یہ ایپ دنیا کہ 90 سے زیادہ ممالک میں استعمال کی جا رہی ہے

یہ امریکی کمپنی ہر سال چند نئی کپمنیوں یا سٹارٹ اپس کو مالی اور عملی مدد فراہم کرتی ہے۔ ان دنوں مُز میچ کے علاوہ 13000 سے زائد سٹارٹ اپس نے اپنے اپنے کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے درخواست دی تھی جن میں سے 800 لوگوں کو سرمایہ کاروں کے سامنے اپنے منصوبے پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔

شہزاد نے اپنی تقریر جاری رکھی اور ان کی بے تکلفانہ باتیں سن کر سرمایہ کار ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ سنہ2017 میں مُز میچ ان 100 سٹارٹ اپس میں سے ایک تھی جنھیں سرمایہ کاری ملی۔

مُز میچ کو 15 لاکھ ڈاکر کی سرمایہ کاری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی صارفین انٹرنیٹ پر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟

سکھ مرد طلاق یافتہ خواتین سے کیوں شادی نہیں کرتے؟

اور آج کمپنی کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور دیگر 90 ممالک میں ان کی ایپ کے دس لاکھ سے زائد صارف موجود ہیں۔

سنہ2013 میں شہزاد نے سرمایہ کاروں کے گروپ کو نہیں بلکہ خود کو قائل کرنا تھا۔

اس وقت وہ لندن کے ایک بینک میں کام کر رہے تھے۔ وہ اپنی نوکری سے خوش تھے لیکن انھیں محسوس ہوا کہ اپنی مذہبی برادری میں مناسب شریک حیات تلاش کرنے کے لیے ایک مسلمان ڈیٹنگ ایپ کی ضرورت ہے۔

مانچسٹر میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے شہزاد کہتے ہیں 'اُس وقت مسلمانوں کے لیے یا تو بہت سادہ سی ویب سائیٹس تھیں یا بہت مشہور ڈیٹنگ ایپس تھیں جنھیں ہماری ثقافت کی کوئی خاص سمجھ نہیں تھی۔'

'مسلمان برادری میں ہم سے بہت سے افراد رشتہ کروانے والوں پر انحصار کرتے ہیں۔ برادری میں ایسی 'آنٹیاں' ہوتی ہیں جو خاندانوں کو جانتی ہیں اور ایک بیٹے کا رشتہ دوسرے خاندان کی بیٹی کے ساتھ کرواتی ہیں۔'

شہزاد کا خیال تھا کہ 'مُز میچ' کی صورت میں وہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسی ڈیجیٹل رشتے کروانے والی ایپ بنائیں گے جس کی بدولت مسلمان شادی کے لیے موزوں رشتے ڈھونڈ سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مُز میچ میں یہ سہولت موجود ہے کہ آپ کے والدین بھی آپ کی پسند ناپسند میں شامل ہو سکتے ہیں

سنہ 2013 میں قسمت نے کروٹ لی اور شہزاد کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور انھوں نے ایپ پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ کہتے ہیں 'میں صبح سویرے چھ بجے اٹھتا تھا اور رات کو ایک دو بجے تک جاگتا رہتا تھا۔ میں اپنے بیڈروم سے کام کرتا تھا اور یہ کافی مشکل اور تھکا دیناے والا تجربہ تھا۔ میں نے (بغیر کسی مدد کے) شروع سے ایپ بنانا سیکھا۔'

'لیکن میں جانتا تھا کہ مجھے یہ کام کر کے دکھانا ہے۔ موقع کافی بڑا تھا، دنیا میں 1.8 ارب مسلمان ہیں اور بظاہر کوئی ان کے لیے کچھ نہیں کر رہا تھا۔'

سنہ 2014 میں شہزاد نے ایپ کی سوفٹ لانچ کی اور مشہور ڈیٹنگ ایپس کی بنسبت ان کے مارکیٹنگ کرنے کے طریقے کچھ مختلف تھے۔

شہزاد کا کہنا تھا 'میں جمعے کی نماز کے بعد بڑی مساجد میں جاتا تھا اور لوگوں کو ایپس سے متعلق کارڈز بانٹتا تھا۔ پھر میں مسلمان خاندان کی کسی بھی قسم کی تقریب میں جاتا تھا اور گاڑیوں کی ونڈ سکرین کے نیچے کارڈز اٹکا دیتا تھا۔'

شروع شروع میں شہزاد کو یہ سب کافی تکلیف دہ لگا۔

وہ کہتے ہیں 'مجھے یاد ہے کہ پہلے چند مہینے میں مسلسل گوگل اینالیٹکس کو دیکھتا رہتا تھا جس کی وجہ سے مجھے ریئل ٹائم میں پتا چلتا تھا کہ ایپ پر کتنے لوگ موجود ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ ویب سائٹ بنانے میں ریان بروڈی نے شہزاد کی مدد کی

ایک بار انھوں نے دیکھا کہ مُزمیچ ایپ پر صرف 10 لوگ تھے۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ صارفین کی تعداد بڑھتی گئی اور اس میں زبانی کلامی مارکیٹنگ کا بہت بڑا کردار ہے۔ جلد ہی لوگوں نے شہزاد کو بتانا شروع کر دیا کہ وہ اپنی بیوی یا شوہر کے ساتھ رشتے میں کیسے بندھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'جب میں نے پہلی کامیابی کی داستان سنی تو مجھے اس کے حقیقی ہونے کا احساس ہوا۔ اور مجھے پختہ یقین ہوا کہ ایپ بہتری کی طرف جا رہی ہے۔'

25 سالہ رائن ایک منجھے ہوئے ایپ بنانے والے تھے اور سنہ 2016 میں شہزاد کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوئے۔

صارفین کے ردِ عمل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان دونوں نے ساتھ مل کر مُزمیچ کو دوبارہ ڈیزائن کیا۔

انھوں نے لوگوں کی طرف سے پوچھے جانے والے 22 سوالات جو صارفین کے لیے اہمیت کے حامل ہیں، کا اضافہ کیا مثلاً کوئی شخص کتنا مذہبی ہے اور کتنی بار نماز پڑھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایپ میں آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کتنے مذہبی ہیں

مُز میچ صارفین کو تصویر نہ لگانے یا اس کو دھندلا کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ لوگ ایک ڈبے پر ٹِک کر سکتے ہیں جس کی بدولت وہ اپنے والدین یا سرپرست کو میسیجز کی کاپی بھیج سکتے ہیں۔

شہزاد کہتے ہیں کہ بے شک رائن مسلمان نہیں ہیں لیکن انھیں واقعی پتا ہے کہ 'ایپ کس بارے میں ہے۔'

ایڈن بلیک مین ’ووڈ لائیک ٹو میٹ' (کیا آپ مجھ سے ملنا پشند کریں گے) نامی ڈیٹنگ ایپ کے بانی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مُز میچ مخصوص ڈیٹنگ ایپس میں سر فہرست ہے۔

وہ کہتے ہیں 'حالیہ سالوں میں نسلی اور مذہبی ڈیٹنگ مخصوص پلیٹ فارم سے نکل کر مشہور پلیٹ فارم پر آ گئی ہے اور مُز میچ ان ایپس میں سر فہرست ہے۔'

مُزمیچ کا دوسرا دفتر بنگلہ دیش میں ہے اور ان کا بزنس ماڈل 'فریمیئم' ہے یعنی بغیر پیسے لیے فری سروس فراہم کرنا ہے۔ مُز میچ کی عمومی سروس بغیر پیسے ادا کیے استعمال کی جا سکتی ہے لیکن لاتعداد پروفائل دیکھنے یا اپنی پروفائل زیادہ لوگوں کو دکھانے جیسے اضافی فیچرز کو استعمال کرنے کے لیے تقریباً 12 ڈالر ماہانہ ادا کرنے پڑتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کمپنی کا دوسرا دفتر بنگلہ دیش میں ہے جو آبادی کے لحظ سے چوتھا بڑا مسلمان ملک ہے

کمپنی کے مطابق ان کی سالانہ آمدن 45 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔

جوں جوں ایپ کی شہرت میں اضافہ ہو رہا ہے، شہزاد کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ایپ کے تقریباً 400 ملین کنوارے مسلمان صارفین ہیں۔

وہ کہتے ہیں 'ہماری وجہ سے اب تک ہزاروں شادیاں اور بچے ہو چکے ہیں۔ روزانہ اس بارے میں سوچ کر لگتا ہے کہ ہم نے شروع میں جو اتنی محنت کی، آخر کا وہ ضائع نہیں گئی۔'

اسی بارے میں