پینٹاگون نے میکسیکو کی سرحدی دیوار کے لیے ایک ارب ڈالر کی منظوری دے دی

سرحد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے فوجی انجینئرز کو امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کے لیے ایک ارب امریکی ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی ایمرجنسی کے اعلان کے بعد یہ پہلے فنڈز ہیں جو کہ کانگرس کو نظر انداز کر کے ان کی الیکشن مہم کے وعدے کے مطابق اس دیوار پر لگائے جائیں گے۔

ڈیموکریٹ پارٹی نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

ان فنڈز سے تقریباً 91 کلومیٹر کی دیوار بنائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

غیر قانونی مہاجرین کے دو ہزار بچے والدین سے الگ

ٹرمپ کی پالیسیاں جو دنیا بدل سکتی ہیں

امریکہ:’غیر قانونی تارکینِ وطن کے بچے حراستی مراکز میں والدین کے ساتھ رہیں گے‘

صدر ٹرمپ نے اپنی جنوبی سرحد پر معاملے کو ایک ’بحران‘ قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ مجرموں کو امریکہ میں آنے سے روکنے کے لیے ایک دیوار کا بننا بہت ضروری ہے۔ ان کہ مخالفین کا کہنا ہے کہ انھوں نے بارڈر پر ہنگامی حالات خود ایجاد کیے ہیں۔

پینٹاگون کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری دفاع پیٹرک شیناہین نے ’ہو ایس آرمی کور آف انجینئرز کے کمانڈر کو اختیار دیا ہے کہ وہ ایک ارب امریکی ڈالر تک کے فنڈز اس مقصد کے لیے ڈپارمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی اور کسٹمز اینڈ بارڈر پٹرول کو متعین کیے جائیں۔

اس بیان میں ایک وفاقی قانون کا ذکر کیا گیا ہے جس کہ تحت ’ڈپارٹمنٹ آف ڈیفینس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ سڑکیں یا جنگلے بنائے اور روشنی کے انتظامات کرے تاکہ امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت میں بین الاقوامی سرحدوں پر منشیات کی آمد و رفت کو روکا جا سکے۔‘

امریکی میڈیا کے مطابق پیٹنا گون اور قانون سازوں کے درمیان ایسے فنڈز کے اختیارات کا معاملہ قانونی لڑائی کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔

ڈیمو کریٹ سینیٹرز نے بھی شکایت کی ہے کہ پینٹاگون نے فنڈز جاری کرنے سے قبل متعلقہ کمیٹیوں سے اجازت نہیں لی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 فروری کو ایمرجنسی نافذ کی تھی جب کانگرس نے ان کی جانب سے سے سرحدی دیوار کے لیے 5.7 ارب ڈالر مہیا کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

اس ایمرجنسی کے باعث اب کانگرس کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے اور عسکری فنڈز کے ساتھ دیوار تعمیر کی جا سکتی ہے۔

ڈیمو کریٹس نے اس ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں