خواتین کے لیے علیحدہ جِم نے زیادہ خواتین کو اپنی جانب راغب کیا ہے

خواتین کا جِم
،تصویر کا کیپشن

یہاں خواتین جو چاہیں پہن سکتی ہیں

بدریہ یولیہ نے عورتوں کے لیے ترکی کا ایسا سب سے بڑا جم بنایا جسکی بے شمار شاخیں ہیں۔ اس جم کے عملے میں صرف عورتیں ہیں، مالک بھی اور گاہک بھی صرف خواتین ہیں ۔ تو کیا عورتوں کا علیحدہ جِم عورتوں کے لیے مددگار ثابت ہو رہا ہے بی بی سی کی ترک سروس کی نائرن ایلڈن نے جم کا دورہ کیا۔

ترکی کے شہر استنبول کے عمرانیہ علاقے میں بی فِٹ جم کے باہر ایک پوسٹر پر لکھا تھا ’جم جاؤ ، صحت بناؤ اور خوش رہو‘

دروازے پر ہاتھ سے لکھی عبارت کہتی ہے مردوں کا داخلہ ممنوع ہے۔

یہ ترکی میں بی فِٹ کے 220 مراکز میں سے ایک ہے۔ ترکی میں اس جم کی سب سے زیادہ شاخیں ہیں اور اس کے تقریباً ساڑھے چھ لاکھ ممبر ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

بدریہ یولیہ اپنے دفتر میں

یولیہ نے محسوس کیا کہ ترکی میں زیادہ تر بلیئرڈز کلب، فٹبال کلب اور باڈی بلڈنگ جم ہیں اور یہ سب صرف مردوں کے لیے ہے۔ انہوں نے سینکڑوں عورتوں سے بات کی اور یہ بات سامنے آئی کہ انہیں کسرت سے صرف تین چیزیں روکتی ہیں ایک تو وقت کی کمی، پیسے کی کمی اور ایسی جگہیں جہاں وہ جا سکیں۔

یولیہ نے ایک ایسا ماڈل تیار کیا جس سے یہ تینوں رکاوٹیں دور ہو گئیں۔ انہوں نے جم کی فیس بہت کم یا سستی رکھی، کسرت کے لیے صرف تیس منٹ کا معمول طے کیا اور ہر محلے میں ایک برانچ کھولی۔

،تصویر کا کیپشن

جم میں ہائٹڈرولک مشینوں کا استعمال ہوتا ہے

اس جم کی زیادہ تر رکن خواتین نے اس سے پہلے کبھی کوئی کسرت نہیں کی تھی اور کئی برسوں میں اس جم کے اراکان نے مجموعی طور پر چھ لاکھ کلوگرام وزن کم کیا ہے۔

بدریہ یولیہ نے امریکہ میں خواتین کے ایک جم کا دورہ کرنے کے بعد 2006 میں یہ جم شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امریکہ کا وہ جم بہت پسند آیا اور انہیں محسوس ہوا ترکی میں اس طرح کے جم کی شدید ضرورت ہے۔

ابتدا میں لوگوں نے ان سے کہا کہ ’یہاں یہ کام نہیں چلے گا‘، ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ترکی میں عورتیں کسرت کرتی ہی نہیں لیکن یولیہ کہتی ہیں کہ میں اسے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

اس جم کی فرینچائز دی جاتی ہے

یہ جم فرینچائز دیتا ہے اور اس کے عملے میں بھی صرف عورتیں ہی ہیں اور یہ ایک اہم بات ہے کیونکہ ترکی ایک ایسا ملک ہے جہاں صرف 34 فیصد عورتیں ہی کام کرتی ہیں۔

ترکی کی ایک یونیورسٹی میں سوشولجِسٹ نیلوفر نارلی کہتی ہیں کہ ترکی میں بہت سی خواتین تنہائی کی زندگی گذارتی ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ انکا زیادہ وقت ٹی وی کے سامنے گذرتا ہے اور وہ باہر نہیں جاتیں ۔لیکن انہیں کچھ کرنے کی ضرورت ہے سپورٹس صحت کے لیے بہت ضروری ہے اور اس دوران دوسرے کوگوں کے ساتھ میل جول بھی اہم ہے۔

اس جم میں عورتیں جو چاہیں پہن سکتی ہیں جیسے چاہیں کسرت کر سکتی ہیں۔

ترکی میں آج بھی عورتیں مذہب اور روایات کی کے بندھن میں بندھی ہیں جہاں اناکا شوہر، باپ یا بھائی انہیں بتاتا ہے کہ انکے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ اور کئی عورتوں کے پاس سپورٹس یا دیگر سرگرمیوں میں شرکت کے وسائل بھی نہیں ہوتے۔

موٹاپا ترکی میں ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے وزارتِ صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مردوں کے مقابلے عورتوں میں موٹاپا دو گنا زیادہ ہے۔

یولیہ چاہتی ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ خواتین تک رسائی حاصل کریں اس لیے انہوں نے صرف خواتین کا جم کھولنے کا فیصلہ کیا۔

،تصویر کا کیپشن

کلصم کیو کا خیال ہے کہ عورت مرد دونوں کو ساتھ کسرت کرنی چاہیے

سعیدہ کوک پہلے اس کی ممبر بنی تھیں لیکن اب انکے پاس تین جمز کی فرنچائز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی فٹ رہنا چاہتی تھیں لیکن جم نہیں جا سکتی تھیں کیونکہ مرد اپنی عورتوں کی اسی جگہ نہیں بھیجانا چاہتے جہاں مرد عورت ساتھ ہوں اور میرے شوہر بھی ایسے ہی ہیں۔

یہ جِم بلکل مختلف ہے اس میں نہ تو ٹی وی ہے نہ ٹرڈ مل ہے اور نہ ہی مشینیں بلکہ ایسی کوئی بھی چیز نہیں جو بجلی سے چلتی ہو اس سے خرچا بہت کم ہوتا ہے۔

یہاں مختلف پٹھوں کے لیے ہائیڈرالک مشینیں ہیں اور ایک رہنما کتابچہ ہے یہاں کچھ عورتیں اپنے بچے بھی ساتھ لاتی ہیں جن کے لیے کتابیں اور کھلونے بھی رکھے گئے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

جِم میں زمبا کلاسیز بھی ہوتی ہیں

لیکن ہر کوئی صرف خواتین کے لیے بنائے جانے والے جم کے حق میں نہیں ہے۔ کلصم کاؤ کہتی ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے لیے علیحدہ علیحدہ سرگرمیاں ٹھیک نہیں اس کا الٹا اثر ہو سکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اس طرح ہم مردوں کے رویے کو تبدیل نہیں کر پائیں گے

تاہم یولیہ کہتی ہیں کہ یہ بھی عورتوں کو با اختیار بنانے کا ایک راستہ ہے کیونکہ جب عورتیں صرف اور صرف اپنے لیے کچھ کرتی ہیں ، اپنی صحت ، اپنے جسم اور اپنی ذہنی صحت کے بارے میں سوچتی ہیں تو انکا نظریہ بدلتا ہے اور وہ چیزوں کو مختلف انداز میں دیکھنا شروع کرتی ہیں۔

یولیہ کا کہنا ہے کہ کئی برسوں میں انہوں نے محسوس کیا ہے کہ کسرت انسان کی دماغی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ کئی لوگوں نے ہمارا جم جوائن کیا تو وہ بہت مایوس تھے لیکن یہاں آکر انکی مایوسی دور ہپو جاتی ہے۔