اسرائیل میں حضرت لوط کے دور کے نمک کے غار کی دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسرائیل کے ماہرین نے نمک کی ایک کان دریافت کی ہے جو دنیا میں ’نمک کا طویل ترین غار‘ ہے۔

بحیرۂ مُردار کے ساحل کے قریب واقع غارِ ملہم کے اندر جو راستے نکلتے ہیں ان کی کل لمبائی دس کلومیٹر ہے۔

صحرا میں واقع یہ غار اسی جگہ پر دریافت ہوا ہے جس کے بارے میں انجیل میں کہا گیا ہے کہ یہاں حضرت لوط کی اہلیہ کو نمک کے ایک مینار میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

دس سال سے اس غار پر کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ بارشوں سے اس کی لمبائی میں اضافہ ہو جائے۔

ماہرین کے مطابق چونکہ بارش کا پانی غار کی سطح پر موجود دراڑوں سے اندر جاتا ہے، اس سے نمک تحلیل ہو جائے گا اور یوں غار کے اندر ایسے مزید راستے بن جائیں گے جن سے نمکین پانی بحیرۂ مُردار کی جانب بہتا رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

غار ملہم اصل میں کوہِ سدوم کا ہی حصہ ہے جو اسرائیل کا سب سے بڑا پہاڑ ہے اور اس غار کا سراغ پہلی مرتبہ 1980 کے عشرے میں ملا تھا۔

غاریں دریافت کرنے کے شوقین ’اسرائیل کیو ایکسپلورر کلب‘ سے تعلق رکھنے والے یاؤ نگیو نے غار ملہم کی پیمائش کرنے اور اس کا نقشہ بنانے کا فیصلہ دو برس پہلے کیا تھا جس کے بعد محققین اور غاروں کے ماہرین کی ایک تشکیل دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یروشلم میں واقع ہیبرو (عبرانی) یونیورسٹی کے پروفسر بوام کہتے ہیں کہ ایک دن جب ہم غار میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے تو ہمیں لگا کہ پاستا میں نمک کم ہے۔

’ہم نے غار کے اندر ایک چٹان سے کچھ نمک توڑا اور کھانے میں ڈال لیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

متعلقہ عنوانات