سیارہ شکن ہتھیار خلاء میں افراتفری کا باعث ہوسکتے ہیں: امریکی وزیردفاع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/getty images
Image caption خلا„ کے فوجی استعمال پر تشویش بڑھ رہی ہے

امریکی نگراں وزیر دفاع پیٹرک شینیہن نے خبردار کیا ہے کہ سیارہ شکن ہتھیاروں کے تجربات خلاء میں افراتفری پھیلا سکتے ہیں۔ اُن کا انتباہ انڈیا کی طرف سے بدھ کے روز اپنا ہی سیارہ تباہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

پیٹرک شینیہن کا کہنا تھا کہ امریکہ انڈین کے تجربے کا جائزہ لے رہا ہے۔ انڈیا کے بقول اُس نے زمین کے مدار میں کم اونچائی پر سیارے کو اِسی لیے نشانہ بنایا کہ اِس کا ملبہ نہ رہ جائے۔

یہ بھی پڑھیے

’خلا میں آنکھ‘، انڈیا نے جاسوس سیٹلائٹ روانہ کر دیا

کیا انڈیا واقعی دنیا کی چوتھی خلائی طاقت بن گیا ہے؟

انڈیا کا جوہری میزائل اگنی ون کا کامیاب تجربہ

انڈیا سیارہ شکن ہتھیار کا تجربہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہے۔ سن دو ہزار سات میں اِسی طرح کے چینی تجربے سے عالمی تشویش پیدا ہوئی تھی۔ امریکہ نے اِسی نوعیت کا اپنا پہلا تجربہ سن انیس سو انسٹھ میں کیا تھا۔

انڈیا کے ٹیسٹ کے بعد مسٹر شینیہن نے صحافیوں کو بتایا 'میرا پیغام یہ ہے کہ ہم سب خلاء میں رہتے ہیں تو اِسے برباد نہ کریں۔ خلاء میں ہمیں کاروبار کرناچاہیے۔ خلاء میں لوگوں کو کام کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔'

ایسے تجربات کا ملبہ سویلین اور فوجی استعمال کے سیارچوں کے لیے خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ یہ خلاء میں دوسری چیزوں سے بھی ٹکراسکتا ہے۔ لیکن انڈیا کے بقول اُس نے خلاء میں اسی لیے صرف تین سو کلومیٹر کی بلندی پر اپنے مصنوعی سیارے کو نشانہ بنایا کہ اِس طرح یا تو ملبہ بچے گا ہی نہیں یا پھر یہ ملبہ بوسیدہ ہوکر چند ہفتوں میں زمین پر جاگرے گا۔

انڈین ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے سربراہ ستیش ریڈی نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا 'اِسی لیے ہم نے کم اونچائی کا ہدف چنا اور یہ مختصر وقت میں غائب ہوجائے گا۔ یہ ملبہ اس وقت گردش میں ہے اور ہم اِس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن ہمارے حساب سے یہ ملبہ پینتالیس روز میں ختم ہوجائے گا۔'

یہ بھی پڑھیے

ایران کے ’میزائل تجربے‘ پر اسرائیل ناراض

شمالی کوریا کا تین ہفتوں میں تیسرا میزائل تجربہ

ٹاما ہاک کروز میزائل کیا ہے؟

لیکن کچھ ماہرین نے انڈین دعووں پر شک ظاہر کیا ہے کیونکہ ان کے بقول ملبے کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ امریکی فوج کے مطابق وہ انڈین تجربے سے پیدا ہونے والے ملبے کے ڈھائی سو ٹکڑوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

سن دو ہزار سات میں چین نے اپنے تجربے میں 865 کلومیٹر کی بلندی پر ایک موسمیاتی سیارچے کو نشانہ بنایا تھا جس سے ملبے کا ایک بڑا بادل سا بن گیا تھا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھی انڈین تجربے کے بعد ملبے کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

ناسا کے سربراہ جِم برائڈنسٹین نے گزشتہ روز کانگریس کوبتایا تھا کہ کچھ لوگ دانستہ طور پر سیارہ شکن صلاحیت کے تجربات کرتے ہیں جس سے خلائی مدار میں ملبے کے ڈھیر لگ جاتے ہیں اور اُن سے آج بھی نمٹا جارہا ہے۔

اُن کے مطابق پھر ایسے ہی لوگ خلائی ملبے سے نمٹنے کے طریقے سیکھنے امریکہ کے پاس آتے ہیں حالانکہ یہ ملبہ انھوں نے ہی چھوڑا ہوتا ہے۔

سن 2012 میں انڈین ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے اُس وقت کے سربراہ نے کہا تھا کہ گو انڈیا کے پاس سیارہ شکن ہتھیار بنانے کے تمام لوازمات تیار ہیں لیکن خلائی ملبے کے خدشے کی بناء پر ایسے ہتھیاروں کا تجربہ نہیں کیا جائے گا کہ اِس طرح دوسرے مصنوعی سیاروں کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز اچانک قوم سے اپنے خطاب میں انڈیا کے اِس سیارہ شکن ہتھیار کے تجربے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ انڈیا نے خود کو ایک عالمی خلائی طاقت کے طور پر منوا لیا ہے۔

تخفیفِ اسلہ کے ماہرین خلاء کے بڑھتے ہوئے فوجی استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ سیارہ شکن ٹیکنالوجی انڈیا کو کسی تصادم کی صورت میں دشمن کے مصنوعی سیاروں کو تباہ کرنے کے قابل بنادے گی اور خدشہ ہے کہ اِس کے نتیجہ میں علاقائی سطح پر چین کے ساتھ اُس کی رقابت بڑھے گی۔

انڈیا کے حریف پڑوسی پاکستان نے بھی پچھلے برس چین کی مدد سے دو مصنوعی سیارے خلاء میں بھیجے تھے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں تمام ملکوں سے کہا ہے کہ وہ خلاء کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے خلاف عالمی معاہدہ کریں۔ انڈیا کا نام لیے بغیر پاکستان کا کہنا تھا کہ تمام ملکوں کو خلاء کے فوجی استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

انڈیا کے دفترِ خارجہ نے اپنے ملک کے سیارہ شکن ہتھیار کے تجربے کو قطعی پرامن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خلاء میں ہتھیاروں کی کسی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔

لیکن وزیراعظم مودی کے اعلان پر اپوزیشن نے سخت تنقید کی تھی اور اِسے الیکشن مہم کا ایک ہتھکنڈہ بتایا تھا۔ انڈیا میں گیارہ اپریل سے الیکشن شروع ہورہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اُسے بھی اِس بارے میں شکایات موصول ہوئی ہیں اور کمیشن وزیراعظم مودی کی جانب سے الیکشن قوانین کی کسی ممکنہ خلاف ورزی کا جائزہ لے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں