سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خواتین کارکنوں کی عارضی رہائی

Amnesty International urges Saudi authorities to release activists Loujain al-Hathloul, Eman al-Nafjan and Aziza al-Yousef, outside the Saudi Arabian embassy in Paris, March 8, 2019 تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان خواتین کی قید گذشتہ سال مئی کو شروع ہوئی جب خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کا خاتمہ ہوا

سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کاموں اور غیر ملکیوں سے رابطوں کے الزام میں سزا کاٹنے والی تین خواتین کارکنان کو عارضی طور پر رہا کیا گیا ہے۔

دو مختلف ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اتوار کو مزید کی رہائی میں متوقع ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور برطانیہ میں قائم سعودی انسانی حقوق کی تنظیم اے ایل کیو ایس ٹی کے مطابق سزا یافتہ خواتین کارکنان ایمان الفجان، عزیزہ الیوسف اور رقیہ المحارب کو عارضی رہائی دی گئی ہے۔

یہ تینوں ان گیارہ خواتین میں شامل ہیں جنہیں ملک کے سائبر قوانین کے تحت سزا دی گئی ہے جس کی سزا پانچ سال تک کی قید ہے۔

ایمنسٹی نے اس رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رہائی عارضی نہیں ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی خواتین کونسل میں خواتین کہاں ہیں؟

سعودی خواتین کے حقوق کے لیے خفیہ ریڈیو سٹیشن

سعودی عرب: خواتین کے حقوق کی کارکن دوبارہ گرفتار

سعودی خواتین کا انوکھا احتجاج، ’عبایہ الٹا پہنوں گی‘

ایمنٹسی کی اہلکار لین مالوف کا کہنا تھا کہ ’ان خواتین کو محض پر امن طریقے سے خواتین کے حقوق کا مطالبہ کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر ان کے پیاروں سے دور کیا گیا اور تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ایمنسٹی سعوی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان کے خلاف تمام الزمات ختم کیے جائیں اور دیگر کارکنوں کو بھی غیر مشروط رہائی دی جائے۔‘

ان خواتین کی قید گذشتہ سال مئی کو شروع ہوئی جب خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کا خاتمہ ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رہا ہونے والوں میں عزیزہ الیوسف بھی شامل ہیں

قید ہونے والے کارکنان میں سعودی امریکی کارکن ثمر بداوی بھی شامل ہیں جو کے قید بلاگر رعف بداوی کی بہن ہیں۔

بداوی کو سعودی عرب کے مردانہ نظام سرپرستی کو چیلنج کرنے پر امریکی انٹرنیشنل کریج ایوارڈ 2012 بھی دیا گیا۔

جبکہ رعف بداوی کو اسلام کا مذاق اڑانے پر سنہ 2014 میں 10 سال کی قید اور 1000 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی اہلیہ انصاف حید کینڈا میں رہتی ہیں اور کینیڈین شہری ہیں۔

اسی بارے میں