ٹرمپ: گٹھ جوڑ سے کیا گیا فریب اپنے انجام کو پہنچا

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے خصوصی مشیر رابرٹ ملر کی جانب سے صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کے بارے میں تحقیقات کو غیرقانونی طریقے سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کے لیے استعمال کیا۔

تحقیقات ختم ہونے کے بعد جمعرات کی شب ریاست مشیگن میں اپنی پہلی سیاسی ریلی میں اپنے ہزاروں حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جو کہتے تھے کہ یہ گٹھ جوڑ سے کیا گیا فریب ہے وہ اب ثابت ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’تین برس تک جھوٹ، بہتان تراشی اور الزامات کے بعد روس کے نام دیا دیا گیا جھانسہ آخرِ کار ختم ہو گیا ہے۔ یہ گٹھ جوڑ سے پیش کیا گیا فریب اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔‘

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات میں خصوصی مشیر رابرٹ ملر کی جانب سے امریکی کانگریس میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے خلاصے کے مطابق ٹرمپ کی صدارتی مہم میں روسی گٹھ جوڑ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

یہ بھی پڑھیے!

’ٹرمپ نے روس کے ساتھ مل کر سازش نہیں کی‘

ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکی انٹیلی جنس پر برس پڑے

سی آئی اے کی مدد سے روس میں حملے کا منصوبہ ناکام

تاہم اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے معاملے میں بری نہیں کیا سکتا اور نہ ہی اس میں صدر کو بےگناہ قرار دیا گیا ہے۔

90 منٹ کی تقریر میں صدر ٹرمپ نے اپنی حریف جماعت ڈیموکریٹس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ جو تحقیقات کی حمایت کرتے تھے وہ دراصل انتخابی نتائج کو بدلنے اور غیر قانونی طریقے سے اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ نے خطاب میں اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی اور معاشی اقدامات کا مضبوط دفاع کیا

انھوں نے کہا کہ یہ تحقیقات ’انتخاب ہارنے والوں کی جانب سے ایک ایسا منصوبہ تھا جس میں وہ بےگناہ امریکیوں کو پھنسا کر غیرقانونی طریقے سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس سازش کے لیے ڈیموکریٹس کا احتساب ہونا چاہیے جبکہ انھیں ان الزامات سے مکمل بری قرار دیا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ رابرٹ ملر کی رپورٹ کا خلاصہ اٹارنی جنرل ولیم بار نے کانگریس کے لیے تیار کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جو اس انکوائری کو ابتدا سے ہی الزام تراشی قرار دے رہے تھے، اتوار کو یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد کہا کہ یہ شرمناک ہے کہ ملک کو اس سب سے گزرنا پڑا۔

انھوں نے کہا تھا کہ یہ تفتیش غیر قانونی تھی جو ناکام ہو گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں