‘ہم نے خواتین کےلیے کبھی کچھ بنایا ہی نہیں’

خواتین تصویر کے کاپی رائٹ THE WASHINGTON POST VIA GETTY IMAGES

جب امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے حال ہی میں خواتین پر مشتمل ایک ٹیم کی خلا میں چہل قدمی کا منصوبہ درست ناپ کا سپیس سوٹ نہ ہونے کی وجہ سے آخری لمحات میں منسوخ کیا تو اس نے ایک بڑی بحث کو جنم دیا کہ مردوں کے لیے بنائی گئی اس دنیا میں خواتین اپنے لیے راہ کیسے تلاش کریں؟

کیرولین کرائیڈو پیرز جو ایک صحافی اور 'ان وزبل وویمن: ایکسپوزنگ ڈیٹا بائس ان ورلڈ ڈیزائنڈ فور مین' کتاب کی مصنف ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو ناسا کی جانب سے سپیس سوٹ کے واقعے پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا 'یہ وہ ہی ہوا ہے جو بار بار ہوتا آیا ہے اور کیونکہ ہم نے اس کو ایسے ہی بنایا ہے۔' انھوں نے کہا 'ہم خودساختہ طور پر صرف مردوں کا سوچنے کے عادی ہو چکے ہیں اور خواتین کو مردوں کی ایک قسم کے طور پر دیکھتے ہیں۔'

مس کرائیڈو نے صنف تعصب پر اپنی تحقیق کا آغاز اس وقت کیا تھا جب انھیں معلوم ہوا کہ دل کے دورے کا طبی ڈیٹا صرف مردوں کی علامات کی بنیاد پرموجود ہے اور طبی ماہرین خواتین میں دل کے دوروں سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کرتے کیونکہ ان علامات کو وہ مثالی نہیں سمجھتے تھے۔

'یہ بالکل ویسی ہی سوچ ہے جس نے ناسا کو دو بڑے سائز کے سپیس سوٹس کو درمیانے درجے کا سوٹ قرار دیا جبکہ اصل میں وہ مردوں کے لیے درمیانے سائز کا سوٹ ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

لباس کے باعث خواتین کی خلا میں چہل قدمی منسوخ

خواتین کے ٹائلٹ میں ٹوٹتے بنتے رشتے

پولیس کی حفاظتی جیکٹوں سے لے کر جو خواتین کی چھاتیوں کے لحاظ سے نہیں بنتیں، حفاظتی عینکیں جو خواتین کے چہروں کے لیے بہت بڑی ہوتی ہیں اور وہ جوتے جو خواتین کے پیروں میں پورے نہیں آتے تک یہ فہرست بہت طویل ہے۔'

آئیے ہم ایسی سات چیزوں پر نظر ڈالتے ہیں جو دنیا نے خواتین کے لحاظ سے تیار ہی نہیں کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ NASA

خلائی لباس (سپیس سوٹ)

ناسا کو اس وقت ٹوئٹر پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے یہ اعلان کیا کہ درمیانے سائز کا خلائی لباس (سپیس سوٹ) نہ ہونے کے باعث خواتین کی خلا میں چہل قدمی (سپیس واک) کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خلائی مرکز میں صرف دو درمیانے سائز کے خلائی لباس موجود ہیں مگر ان میں ایک ہی سپیس واک کے لیے موزوں ہے جبکہ دوسرے کو اس معیار کے مطابق لانے میں گھنٹوں درکار ہیں۔

صحافی کرائیڈو پیرز کہتی ہیں کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سپیس سوٹ کے جو سائز دستیاب تھے وہ صرف درمیانے، بڑے اور بہت بڑے تھے۔

یاد رہے کہ امریکہ کے نیشنل پبلک ریڈیو کے مطابق ناسا کو اپنے چھوٹے سائز کے سپیس سوٹس کی تیاری کو سنہ 1990 میں بجٹ کٹوتی کے باعث روکنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ DAVID TURNLEY VIA GETTY IMAGES

فوجی سازوسامان

سنہ 2016 میں امریکی فوج نے خواتین کو بھی آرمی، میرین کورپس، اور نیوی سیل جیسے جنگی کرداروں میں بھرتی کرنا شروع کیا جہاں پہلے صرف مرد بھرتی کیے جاتے تھے لیکن اب بھی بیشتر جنگی لباس اور سازو سامان صرف مردوں کے لحاظ سے تیار کیا جاتا ہے۔

فوج نے اس سال خواتین کے لیے آٹھ چھوٹے سائز کے لباس تیار کروائے تھے لیکن دیگر سامان جیسے جوتے اور ہیلمٹ پر توجہ نہیں دی گئی تھی۔

ملٹری ڈاٹ کام کے مطابق ڈیموکریٹس سے تعلق رکھنے والی خاتون کانگرس رکن نکی سانگس نے اس وقت اس کو امریکی فوج کی جانب سے خواتین اہلکاروں کی ضروریات کے بارے میں بےحسی قرار دیا تھا۔ انھوں نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ خواتین ان دشواریوں کی وجہ سے مناسب طریقے سے اپنے ہتھیار بھی نہیں چلا پاتیں۔

اس سال متعدد خواتین فوجی اہلکاروں نے بزفیڈ نیوز کو بتایا کہ ان کو وہ جنگی لباس پہننے پر مجبور کیا جاتا تھا جو ان کے سائز کا نہیں تھا۔ حتی کے اس کے لیے انھیں اس لباس کے اطراف میں لگے حفاظتی پینل کو بھی اتارنا پڑتا تھا یا کبھی اس لباس کو اپنے جسم پر مناسب انداز میں ٹکانے کے لیے فوم رکھنا پڑتا تھا تاکہ ان کا جسم محفوظ رہے۔

گزشتہ برس امریکی فوج کے جوائنٹ چیف چیرمین جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا تھا کہ وہ خواتین کے لیے جنگی اور حفاظتی لباس کی فراہمی کے عمل کو جلد مکمل کرنے پر توجہ دیں گے لیکن اس کے باوجود خواتین کے لباس کی فراہمی اب تک نامکمل ہے۔

الیکس ایلاس جو خواتین کی فوج میں بھرتی کی سکالر ہیں، کا کہنا ہے کہ 'سنہ 2018 تک خواتین عراق اور افغانستان کے محاذ پر مردوں کے لیے بنائے گئے جنگی سازوسامان میں لڑ کر آئی ہیں۔'

تاہم فوج میں خواتین کی ان نئی ذمہ داریوں کے آغاز سے قبل بھی ان کو انتہائی خطرناک اور غیرمناسب لباس کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

الیکس کا کہنا ہے کہ جنگ عظیم دوئم کے دوران خواتین کو کبھی بھی دفتری کام کے علاوہ کسی کردار میں نہیں دیکھا گیا تھا لہذا فوج ان کے لیے کسی دوسرے کام جیسا کہ میکینک کے لیے یونیفارم تیار نہیں کر سکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANDY CROSS VIA GETTY IMAGES

کاروں کی تجربے میں استعمال ہونے والی ڈمی

امریکی حکومت نے سنہ 2012 تک کار تصادم کا تجربہ خواتین کی ڈمی پر نہیں کیا تھا۔ اس تجربے کے لیے دہائیوں سے جو ڈمیز استعمال ہوئیں ان کی 50 فیصد اوسط ساخت تقریباً مردانہ جسم کے مطابق تھی۔

سنہ 2011 میں ورجینیا یونیورسٹی کے شعبہ اپلائیڈ بائیو میکنکس کی ایک تحقیق کے مطابق حادثے کی صورت میں گاڑی چلانے والی خواتین کو گہری چوٹ آنے کا امکان مردوں کی نسبت 47 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ جبکہ درمیانی چوٹ کا امکان 71 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

صحافی کرائیڈو کا کہنا ہے کہ اب بھی بعض اوقات خاتون ڈمی مرد ڈمی کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہے جو کسی حادثے کی صورت میں ایک عورت کے جسم پر پڑنے والے اثرات کی مکمل معلومات فراہم نہیں کرتی۔

یورپی یونین میں بھی ایسی ہی کہانی ہے۔

'یورپی یونین میں کاروں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے پانچ تجربوں میں سے صرف ایک تجربے میں خاتون ڈمی کے استعمال کا کہا جاتا ہے اور وہ بھی مسافر سیٹ پر۔'

ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ کاروں کی صنعت اس سے آگاہ ہے اور وہ خواتین کے اس مسئلہ پر توجہ دیں۔ مگر 'انھوں نے اس پر مناسب انداز سے توجہ نہیں دی جبکہ درحقیقت خواتین کل آبادی کا 50 فیصد ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سمارٹ فونز

ایپلی کیشنز سے فون کے اصل سائز تک، کچھ ڈیزائنز میں ایسی خصوصیات موجود ہیں جن کے بارے میں کچھ خواتین کا کہنا ہے ک اسمارٹ فونز کو صرف مردوں کو ذہن میں رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

عموماً خواتین کے ہاتھ مردوں کی نسبت ایک انچ چھوٹے ہوتے ہیں اور سمارٹ فونز کی سکرین کے بڑھتے سائز کی وجہ سے خواتین کے لیے ان کو استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے۔

بارہ سینٹی میٹر یا اس سے بڑے سائز کے آئی فون پر ایک ہاتھ سے میسیج لکھنا بہت سی خواتین ( اور چھوٹے ہاتھوں والے مردوں) کے لیے مشکل سے ناممکن ہوتا ہے۔

کرائیڈو پیرز نے صحت کی ایپ اور سری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی خواتین کے خلاف غیر ارادی تعصب کا شکار ہیں۔

سنہ 2016 میں ایپل کمپنی نے سری میں موجود اس خامی کو درست کیا تھا جو اسقاط حمل کروانے والوں کو یتیم خانے بھجوا رہی تھی۔ یہ خامی سامنے آنے کے پانچ سال بعد درست کی گئی تھی۔

کرائیڈو پیرز کا کہنا ہے'آئی فون میں موجود صحت سے متعلق جامع ایپ میں ماہواری سے متعلق مواد موجود نہیں ہے، جس طرح سری ایپ ویاگرا بیچنے والوں کی معلومات فراہم کرتی ہے اس طرح اسقاط حمل کرنے والوں کی معلومات کیوں فراہم نہیں کرتی، اور یہ تب ہوتا ہے جب آپ فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو شامل نہیں کرتے۔'

'یہ کوئی سازش نہیں ہے۔ میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سمجھتی کہ ایپل بنانے والے خواتین کو تنگ کرنا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں ان کو اس کا اندازہ ہی نہیں۔'

کھیلوں کا لباس

جب امریکی باسکٹ بال کے سپر سٹار سٹیفن کری نے گذشتہ برس بچوں کے لیے نئے جوتے تیار کیے تھے توان میں صرف لڑکوں کے سائز ہی متعارف کروائے گئے تھے۔

اور آخر کار ایک نو سالہ بچی نے سٹیفن کری کو خط لکھ کر پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟

'میں جانتی ہوں کہ آپ لڑکیوں کے ایتھلیٹس بننے کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ آپ کی بھی دو بیٹیاں ہیں اور میں امید کرتی ہوں کہ آپ انڈر آرمر کے ساتھ یہ بات کریں گے کہ اس کو بدلیں کیونکہ لڑکیاں بھی 'کریز فائیو' کو پہننا چاہتی ہیں۔'

جس کے جواب میں کری نے اس بچی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ چھوٹے سائز میں بنائے گئے تمام جوتے ویب سائٹ پر صرف لڑکوں کے لیے رکھے گئے تھے۔

مارچ 2019 تک انڈر آرمر کری برانڈ میں لڑکوں کے لیے زیادہ چیزیں موجود ہیں تاہم زیادہ تر جوتے دونوں صنفوں کے لیے دستیاب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

سائنسی آلات

کنساس آلائنس برائے ویٹ لینڈز اینڈ سٹریمز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ماہر نباتیات جیسکا ماونٹس نے بی بی سی کے نامہ نگار کرس بیل کو بتایا کہ انھوں نے زیادہ تر آلات جو استعمال کیے وہ مردوں کے لیے بنائے گیے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'اس سے جو مشکلات پیش آئیں وہ محض غصہ نہیں دلاتی بلکہ اس سے ذاتی حفاظت بھی جڑی ہے۔ بہت کھلا لباس آلات کو استعمال کرتے ہوئے ان میں پھنس جاتا ہے اور بہت بڑے جوتوں سے لڑکھڑانے اور گرنے کا خطرہ رہتا ہے۔'

'اور اس کے متبادل لباس اور سازوسامان جو خواتین کے لیے تیار کیا جاتا ہے وہ عموماً مہنگا ہوتا ہے، لباس کی جیبیں تنگ ہوتی ہیں اور وہ غیر مناسب ہوتی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ THE WASHINGTON POST VIA GETTY IMAGES

دفترمیں کام کرنے کی جگہ

ڈیزائین کی خامیاں صرف ان چیزوں تک محدود نہیں جو پہنی جاتی ہیں یا استعمال کی جاتی ہیں بلکہ مردوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ماحول بھی خواتین کے لیے متعصب ہوتا ہے۔

سنہ 1960 میں ایک سٹینڈرڈ امریکی دفتر کے درجہ حرارت کا متعین کردہ فارمولا بھی ایک 40 سالہ مرد کے میٹابولزم مطابق بنایا گیا جس کا وزن 70 کلو ہو۔

سنہ 2015 میں ایک تحقیقی مکالے نیچر میں چھپنے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ خواتین کا میٹابولزم مردوں کی نسبت 35 فیصد کم ہو سکتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ان کے جسم کی حرارت میں پانچ ڈگری کا فرق ہو سکتا ہے۔

گزشتہ برس امریکی ٹیلی ویژن سیریز سیکس اینڈ سٹی کی اداکارہ سینتھیا نکسن یہ معاملہ نیویارک کے گورنراینڈریو کومو کے ساتھ ایک بنیادی بحث سے قبل شہ سرخیوں میں اس وقت لایا گیا جب سنتھیا کی ٹیم نے گورنر کومو کی جانب سے درجہ حرارت کم رکھنے کے مطالبے کو جنس پرستانہ مطالبہ قرار دیا تھا۔

تاریخ دان شرلی واجدہ کہتی ہیں' ٹیم ورک کے بارے میں تمام کارپوریٹ مکالمہ کی روشنی میں آپ کے لیے اس ٹیم کا حصہ بننا مشکل ہے جس میں آپ کے ارد گرد کا ماحول مناسب نہ ہو۔'

انھوں نے مزید کہا کہ مقبول دفاترمیں جالی دار کرسیاں سرد ماحول کو بڑھاتی ہیں جبکہ دیگر کرسیاں جو بار سٹول کی طرح اونچی ہوتی ہیں ان پر وہ خواتین جو سکرٹ یا ایسے لباسں میں ملبوس ہوتی ہیں، کے لیے بیٹھنا مشکل اور آرام دہ نہیں ہوتا۔

واجدہ کہتی ہیں کہ 'جب صنفی اعتبار سے سازو سامان کی تیاری یا ڈیزائن کی بات آتی ہے تو تاریخ دانوں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔' اور یہ کارکردگی کی بنیاد پر سازو سامان سب کے لیے ایک ہی ساخت پر بنایا جاتا ہے۔

کرائیڈو پیرز اپنی کتاب شائع ہونے کے بعد کہتی ہیں کہ یہ بہت اطمینان بخش ہے کہ اس حوالے سے اب آگاہی بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ناسا کے سپیس سوٹ کا معاملہ ایک دہائی پہلے ہوا ہوتا تو ان کو اس تنقید کا سامنا نہ کرتا پڑتا۔

'مگر مجھے ان خواتین پر بہت غصہ آتا ہے جو اپنی زندگیاں یہ سوچتے ہوئے گزار دیتی ہیں کہ ان میں کوئی کمی ہے، وہ بہت چھوٹی ہیں یا کسی لباس یا جوتے میں ان کا سائز نہیں ہے یا ایسا کچھ بھی، دراصل ہم نے کبھی خواتین کے لیے کچھ بنایا ہی نہیں۔'

اسی بارے میں