کرائسٹ چرچ حملوں کے ہلاک شدگان کی یاد میں تعزیتی تقریب میں 20 ہزار افراد کی شرکت

حملے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو دو مساجد میں ہونے والے حملوں کے بعد ملک بھر میں واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تعزیتی پروگرام کا انعقاد ہوا جسے ملک بھر میں نشر کیا گیا۔

ملک کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن کے علاوہ اس تقریب سے مسلم رہنماؤں اور اس حملے میں بچ جانے والے ایک شخص نے بھی خطاب کیا۔

کرائسٹ چرچ کے ہیگلے پارک میں منعقد ہونے والی تقریب میں 20000 سے زائد افراد نے شرکت کی اور 70 کی دہائی میں اسلام قبول کرنے والے ماضی کے معروف برطانوی گلوکار کیٹ سٹیوینز(جو یوسف اسلام کے نام سے بھی جانے جاتے تھے) نے وہاں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

حملے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حملے کا نشانہ بننے والی النور مسجد کے قریب واقعے اس پارک میں سامعین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آرڈرن نے کہا کہ ہم پر ذمہ داری ہے کہ ہم ایک ایسی جگہ بنیں جیسی ہماری خواہش ہے۔

'ایسا نہیں ہے کہ ہم نفرت، خوف اور دوسروں سے ڈر کے وائرس سے متاثر نہ ہوں۔ لیکن ہم ایک ایسا ملک بن سکتے ہیں جو اس بیماری کا علاج ڈھونڈ سکے۔'

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل 15 مارچ کو ہونے والے واقعے میں ایک سفید فام برتری کے خواہشمند شخص برینٹن ٹیرینٹ نے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور یہ حملہ اس نے فیس بک پر لائیو نشر بھی کیا تھا۔'

حملے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وزیر اعظم آرڈرن نے کہا کہ دنیا ایک ایسے 'ہولناک چکر میں پھنس گئی جس میں انتہا پسندی مزید انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہے لیکن اس کا مقابلہ ہماری انسانیت سے ممکن ہے۔'

روایتی ماؤری لباس پہنے ہوئے وزیر اعظم آرڈرن کے ہمراہ دنیا بھر کے دیگر رہنما بھی تھے۔

وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن کے علاوہ اس مجمع سے حملے میں بچ جانے والے فرید احمد نے بھی خطاب کیا جن کی اہلیہ حسنہ اس حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

حملے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فرید احمد نے اپنی تقریر میں امن کی اپیل کی اور کہا کہ انھوں نے حملہ آور ٹرینٹن برانٹ کو معاف کر دیا ہے۔

'میرا ایسا دل نہیں جو آتش فشاں کی طرح پھٹنے کے لیے بے چین ہو۔ مجھے ایسا دل چاہیے جو پیار، محبت، نرمی اور خیال رکھنے والا ہو۔'

یملے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مسلم کونسل آف کینٹربری کے صدر شگاف خان نے خطاب میں نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے دیے گئے رد عمل پر خیالات کا اظہار کیا اور ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دل میں امید کی کرن ہے۔

'اس نفرت آمیز قدم سے کتنی محبت بٹی ہے۔ اس تاریکی سے کتنی روشنی پھیلی ہے۔'

حملے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہیگلے پارک میں موجود عوام سے بات کرتے ہوئے گلوکار کیٹ سٹیونیز نے کہا کہ 'جب اچھے لوگ خاموش رہتے ہیں تو شیطان کو شے ملتی ہے۔ لیکن اس ملک میں ہم نے دیکھا کہ اچھے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔'

تقریب میں حملے میں ہلاک ہونے والوں کے نام پڑھے گئے اور بتایا گیا کہ مرنے والوں میں سب سے کم عمر بچہ صرف تین سال کا تھا۔

حملے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

واقعے کے بعد نیوزی لینڈ نے ملک بھر میں نیم خودکار اسلحے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں