’ریڈ کراس کا بحران کے شکار وینزویلا کو دو ہفتوں میں امداد دے سکتا ہے‘

ریڈ کراس تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ریڈ کراس کے سربراہ فرانسسکو روکا نے کہا کہ ادارہ ابتدائی طور پر 650000 افراد کی مدد کر سکتا ہے

بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس (آئی ایف آر سی) کا کہنا ہے کہ ادارہ دو ہفتوں میں بحران زدہ وینزویلا کو اہم امداد فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر سکتا ہے۔

آئی ایف آر سی کے سربراہ فرانسسکو روکا نے کہا کہ ادارہ ابتدائی طور پرخوراک اور ادویات کی قلت کے شکار 650000 افراد کی مدد کر سکتا ہے۔

ملک میں جاری بجلی کے بحران کے پیش نظر مارچ میں بھی ملک کے زیادہ تر حصے میں بلیک آؤٹ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے۔

وینزویلا: اپوزیشن رہنما پر سفری پابندیاں عائد

’وینزویلا میں خانہ جنگی کا خطرہ نہیں ہے‘

وینزویلا: مدورو کو اقتدار چھوڑنے کے بدلے معافی کی پیشکش

حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ بلیک آؤٹ صدر نکولس مڈورو کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کرنے کا نتیجہ ہے۔

ہسپتال، پبلک ٹرانسپورٹ، پانی اور دیگر سہولیات بجلی بحران کی لپیٹ میں آ گئی ہیں جس کی وجہ سے قومی اقتصادی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

قائد حزب اختلاف ہوان گوائدو کا کہنا ہے کہ حکومت نے 'پیچیدہ انسانی ایمرجنسی کے وجود کا اقرار کر کے اپنی ناکامی کو تسلیم' کیا ہے۔

فروری میں صدر مڈورو نے فوج کا استعمال کر کے متنازعہ صدر گوائدو کی طرف سے امریکی معاون امدادی قافلوں کو ملک میں لانے کی کوشش کو ناکام کر دیا۔

جنوری میں حزف اختلاف کے زیر انتظام قومی اسمبلی کے سربراہ گوائدو نے اپنے عبوری صدر ہونے کا اعلان کر دیا اور امریکہ سمیت 50 ممالک کی حمایت بھی حاصل کر لی۔

مڈورو نے امدادی قافلوں کو امریکی حملہ تصور کیا۔

ریڈ کراس کا کیا کہنا ہے؟

کراکس میں ایک نیوز کانفرنس میں بات کرتے ہوئے فرانسسکو روکا کہتے ہیں 'ہمارے اندازے کے مطابق ہم تقریباً 15 دنوں میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ شروعات میں 650000 لوگوں کی مدد کریں۔'

فرانسسکو کا کہنا تھا کہ وینزویلا انسانی خدمات حاصل کرنے کی شرائط پر پورا اترتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایف آر سی کو بغیر کسی مداخلت کے غیرجانبدار اور آزاد طریقے سے کام کرنا ہو گا۔

گوائدو نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ آئی ایف آر سی کا اعلان 'ہماری جدوجہد کی عظیم فتح' ہے۔

مڈورو نے فی الحال کوئی جواب نہیں دیا لیکن بی بی سی کے وِل گرانٹ کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ (مڈورو) اسے واشنگٹن کی حمایت رکھنے والی اقتصادی جنگ کا نتیجہ کہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہوان گوائدو کا کہنا ہے کہ حکومت نے 'پیچیدہ انسانی ایمرجنسی کے وجود کا اقرار کر کے اپنی ناکامی کو تسلیم' کیا ہے

امریکہ نے اسے 'اصل موقع' کہہ کر اعلان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ وینزولن عوام تک امداد پہنچانے کے اس طریقے میں بخوشی کچھ عطیہ ڈال سکتا ہے۔

بہت زیادہ مہنگائی اور اشیا میں کمی کی وجہ سے اکثر خوراک اور ادویات قوت خرید سے باہر ہو جاتی ہیں اور نتیجتاً غذائیت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

مڈورو اور گوائدو کا مسئلہ کیا ہے؟

دونوں ونیزویلا کا آئینی صدر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

جیسے ہی گوائدو نے خود کو عبوری صدر کہا، ان کے اثاثے منجمد ہو گئے اور سپریم کورٹ نے ان کے ملک سے باہر سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

لیکن 35 سالہ قائد حزب اختلاف نے حمایت حاصل کرنے کے لیے گذشتہ مہینے پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاطینی امریکہ میں موجود ممالک کا سفر کیا۔

گوائدو نے بارہا صدر مڈورو کو اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا کہا ہے اور سکیورٹی فورسز سے وفاداریاں تبدیل کرنے پر زور دیا ہے۔

اسی بارے میں