کرائسٹ چرچ واقعے کے تناظر میں فیس بک کا لائیو سٹریمنگ پر پابندیوں کا عندیہ

کرائسٹ چرچ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فیس بُک نے تسلیم کیا کہ 50 لوگوں کی موت کی وجہ بننے والے حملوں کی ویڈیو کو فیس بُک سے اتارے جانے سے قبل 4000 سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا

نیوزی لینڈ میں مساجد پر ہونے والے حملوں کے دو ہفتوں بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے لائیو سٹریمنگ پر ممکنہ پابندیوں سے متعلق جائزہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔

حملہ آور نے فیس بک کے لائیو سٹریمنگ فیچر کو استعمال کرتے ہوئے حملے کی براہ راست ویڈیو نشر کی تھی۔

چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سینڈبرگ کا کہنا ہے کہ فیس بک اس بات سے متفق ہے کہ ہمیں مزید اقدامات کرنے چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے

فیس بُک: سفید فام قوم پرست عناصر پر ’پابندی کا اعلان‘

کرائسٹ چرچ: ہلاک شدگان کی یاد میں 20 ہزار کا اجتماع

کرائسٹ چرچ حملوں کی اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم

کرائسٹ چرچ میں ہونے والے حملوں میں 50 افراد ہلاک ہوئے تھے اور فیس بک لائیو سٹریمنگ سے نشر ہونے والی حملے کی ویڈیو کو 4000 مرتبہ دیکھا گیا تھا۔ بعد ازاں اس کو فیس بک سے ہٹا دیا گیا تھا۔

دریں اثنا نیوزی لینڈ نفرت انگینز مواد کے سدِباب کے لیے موجود 'ناکافی' قوانین کا بھی جائزہ لے گا۔

وزیر انصاف اینڈیو لٹل کہتے ہیں کہ موجودہ قوانین 'بدی اور شرانگینز مواد جو کہ ہم آن لائن دیکھتے ہیں' پر قابو نہیں پا سکے۔ حکومت اور انسانی حقوق کمیشن اس بارے میں کام کر کے رواں برس کے آخر تک تجاویز دیں گے۔

15 مارچ کے حملوں میں ہلاک ہونے والے 50 افراد کی یاد میں جمعے کو کرائسٹ چرچ میں دعائیہ تقریب میں 20 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔

زخمی ہونے والے درجنوں افراد میں سے 21 اب تک ہسپتال میں ہیں جس میں سے تین انتہائی نگہداشت میں ہیں۔

فیس بک کا کیا کہنا ہے؟

نیوزی لینڈ ہیرالڈ کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں آفیسر شیرل سینڈبرگ نے لکھا ہے کہ 'فیس بک متاثرین، ان کے خاندانوں، مسلمان کمیونٹی اور پورے نیوزی لینڈ کے ساتھ ہے۔'

'آپ میں سے بہت سے افراد نے بالکل ٹھیک سوال کیا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز جیسا کہ فیس بک کو حملوں کی دہشت زدہ کر دینے والی ویڈیوز کو نشر کرنے کے لیے کیسے استعمال کیا گیا۔۔۔ ہم نے یہ آراء سنی ہیں کہ ہمیں مزید (اقدامات) کرنے چاہیں اور ہم اس سے متفق ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فیس بک کی چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سینڈبرگ کا کہنا ہے کے لائیو سٹریمنگ سے متعلق کیا ممکنہ پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں اس کا جائزہ لیا جائے گا

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ممکنہ پابندیوں کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کون لائیو جا سکتا ہے اور اس کی بنیاد پر کمیونٹی اسٹینڈرڈز کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ کو بھی بنایا جا سکتا ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ 200 سے بھی کم صارفین نے 17 منٹ طویل کرائسٹ چرچ ویڈیو کو دیکھا جب کہ یہ لائیو چل رہی تھی۔ اور اس کے خلاف صارف کی پہلی رپورٹ اس ویڈیو کے ختم ہونے کے 12 منٹ بعد آئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس حملے کی ویڈیو کے پھیلاؤ پر بروقت قابو پانے میں ناکام رہیں۔ اس کو انتہائی دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے افراد کے زیر استعمال مواد کو شیئر کرنے والی ویب سائٹ ایٹچین پر کاپی کیا گیا جہاں سے اس کو مزید 15 لاکھ مرتبہ مزید کاپی کیا گیا۔

چیف آپریٹنگ آفیسر نے پالیسی میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا ہے تاہم انھوں نے واضح کیا ہے کہ سوشل نیٹ ورکس کس طرح ان قوانین کو مضبوط کریں گے جو فیس بک لائیو سے متعلق ہیں اور اقدامات کیے جائیں گے کہ کس طرح شرانگیزی سے نمٹا جائے۔

Image caption فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کے سلسلے میں نیوزی لینڈ پولیس کی مدد کر رہے ہیں

کمپنی کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے سے فیس بک اور انسٹا گرام 'سفید فام قومیت پسندی اور علیحدگی پسندی کی تعریف، حمایت، اور نمائندگی' پر مبنی مواد کو بلاک کرے گا۔

نیوزی لینڈ میں فیس بک کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا ہے اور اس کی وجہ افسران کو حملے کے بعد فیس بک کی جانب ملنے والا سست ردعمل تھا۔

نیوزی لینڈ کے پرائیویسی کمشنر نے فیس بک کے اعلی عہدیداران کو گزشتہ ہفتے لکھا تھا کہ 'آپ کی خاموشی ہمارے دکھ کی بے عزتی ہے۔'

فیس بک کا کہنا تھا کہ وہ نیوزی لینڈ پولیس کو تفشیش میں مدد دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں