ہفتے وار احتجاج کا ایک برس مکمل ہونے پر غزہ میں مظاہرے

غزہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیلی سرحد پر ہونے والے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلے کا ایک برس مکمل ہونے پر ہزاروں فلسطینی باشندے غزہ میں مظاہرے کر رہے ہیں۔

مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا اور ٹائروں کو آگ لگائی گئی جواباً اسرائیل نے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کی ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

یہ مظاہرے فلسطینی پناہ گزینوں کے اپنے آبائی گھروں میں واپس جانے کے حق کی تائید میں کیے گئے ہیں۔ فلسطینیوں کے یہ آبائی گھر اسرائیل میں واقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے

سولہ فلسطینیوں کی ہلاکت پر یوم سوگ

امریکہ نے فلسطین کی امداد روک دی

اقوام متحدہ کے مطابق مظاہروں کے اِس سلسلے میں دسمبر 2018 تک ایک اسرائیلی اور 189 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک تفتیش نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شاید اسرائیلی فوجیوں نے مظاہروں کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہو۔ تاہم اسرائیل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

اب تک کیا ہو چکا ہے؟

اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے مطابق مظاہرین کی تعداد 40 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

آئی ڈی ایف کا کہنا ہے مظاہرین کی جانب سے سرحد پر نصب حفاظتی باڑ پر دھماکہ خیز مواد پھینکا گیا اور اسرائیلی فوج نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو بھگانے کے لیے اقدامات کے طور پر گولیاں چلائیں۔

فلسطین حکام کے مطابق ایک 17 برس کا لڑکا اس واقعے میں ہلاک ہوا ہے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ان مطابق ایک اور فلسطینی بھی اسرائیلی گولیوں کا شکار بنا۔

حماس کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرین کو سرحد کی حفاظتی باڑ سے محفوظ فاصلے پر رکھنے کی کوشش کرے گا جبکہ اقوام متحدہ اور مصر مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔

یہ مظاہرے کشیدگی سے بھرپور ہفتے کے بعد شروع ہوئے ہیں جس کے دوران فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ برسائے گئے جبکہ اسرائیلی فضائیہ نے اس کا جواب غزہ میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے کر کے کیا۔

پہلے ہونے والے مظاہروں میں کیا ہوا تھا؟

30 مارچ 2018 سے فلسطینی باشندے ان مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس مہم کو 'دی گریٹ مارچ آف ریٹرن، یا واپسی کے لیے عظیم مارچ کا نام دیا گیا ہے۔

اسرائیلی حکومت حماس کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتی ہے اور اس کے مطابق حماس اس مظاہروں کو اسرائیل کی حدود میں داخل ہونے اور عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اسرائیل نے فوجیوں کو سرحد کے ساتھ تعینات کیا ہے اور ان کو احکامات دیے گئے ہیں کہ فائرنگ صرف اس وقت کی جائے جب ایسا کرنا انتہائی ناگزیر ہو یا جب کوئی خطرہ منڈلا رہا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اس حوالے سے ایک انکوائری کمیشن بھی بنایا ہے۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے 189 افراد میں 35 بچے، تین امدادی کارکن اور دو صحافی بھی شامل ہیں۔

اس انکوائری کے مطابق اس بات کے قابلِ قبول شواہد موجود ہیں کہ اسرائیلی نشانچیوں نے بچوں، امدادی کارکنان اور صحافیوں کو نشانہ بنایا۔

ان مظاہروں کے دوران چار اسرائیلی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق مظاہروں کی جگہ سے دور ایک اسرائیلی فوجی کے ہلاک ہونے کی خبر بھی ہے۔

اسرائیل کے قائم مقام وزیر خارجہ نے کمیشن کی اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہیومن رائٹس کونسل نے ایک مرتبہ پھر ایک ایسی رپورٹ مرتب کی ہے جو کہ جھوٹ پر مبنی، مخالفانہ اور اسرائیل کے خلاف تعصب سے بھری ہوئی ہے۔'

'کوئی بھی اسرائیل کو اپنے دفاع کرنے، اپنے شہریوں اور سرحد کی حفاظت کرنے کے حق سے محروم نہیں کر سکتا۔'

اسی بارے میں