’سعودی عرب نے ایمازون کے سربراہ کا فون ہیک کیا تھا‘

ایمازون تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی کمپنی ایمازون کے سربراہ جیف بیزوس کے لیے تفتیش کا کام کرنے والے ایک اہلکار نے الزام عائد کیا ہے کہ جیف بیزوس کا فون سعودی عرب نے ہیک کیا اور ان کے فون میں موجود ڈیٹا تک رسائی بھی حاصل کی تھی۔

ایمازون کے سربراہ بیزوس نے گیون دی بیکر نامی اس تفتیش کار کی خدمات یہ پتہ لگانے کے لیے حاصل کی تھیں کہ ان کے فون میں موجود ذاتی پیغامات اور ڈیٹا نیشنل انکوائرر نامی اخبار تک کیسے پہنبچیں۔

تفتیش کار بیکر نے اس ہیکنگ کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی کوریج کے ساتھ جوڑا ہے۔

سعودی عرب نے ابھی تک اس الزام پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ جیف بیزوس واشنگٹن پوسٹ اخبار کے مالک ہیں اور دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔

یہ بھی پڑھیے!

’سعودی عرب نے خاشقجی قتل کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالیں‘

خاشقجی قتل: سعودی ولی عہد کے مبینہ کردار کی تحقیقات کا مطالبہ

خاشقجی قتل: ’امریکہ نے ابھی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا‘

بیکر کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی تحقیقات رپورٹ امریکی وفاقی اہلکاروں کے حوالے کر دیں ہیں۔

ڈیلی بیسٹ نامی ویب سائٹ پر انھوں نے لکھا ہے کہ ہمارے تفتیش کار اور متعدد ماہرین مکمل وثوق سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’سعودی عرب نے بیزوس کے فون تک رسائی حاصل کی تھی اور ان کے ذاتی پیغامات کو چرایا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بیکر کی تحقیقات، ایمازون کے مالک بیزوس کی جانب سے گزشتہ ماہ امریکن میڈیا کمپنی جو کہ نیشنل انکوائرر کی بھی مالک ہے پر بلیک میلنگ کا الزام عائد کرنے کے بعد سامنے آئیں ہیں.

جیف بیزوس نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر وہ یہ نہیں کہتے کہ اس اخبار کی رپورٹنگ سیاسی مقاصد کے لیے نہیں ہے تو وہ ان کی غیر مناسب تصاویر شائع کر دے گے۔

مسٹر ڈی بیکر نے کہا کہ اے ایم آئی نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ کہیں کہ ان کی تفتیش کا نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ اے ایم آئی نے اپنی خبر کے لیے کسی قسم کی الیکٹرانک جاسوسی یا ہیکنگ نہیں کی۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب نے واشنگٹن پوسٹ اخبار کو نشانہ بنایا تھا، جس کے لیے خاشقجی لکھتے تھے۔

ڈی بیکر کا کہنا ہے کہ ’کچھ امریکی یہ جان کر حیران ہوں گے کہ سعودی حکومت پچھلے اکتوبر سے جیف بیزوس کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے، جب واشنگٹن پوسٹ نےخاشقجی کی ہلاکت پر اپنی غیر معمولی کوریج کا آغاز کیا تھا۔‘

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے مزید کہا، ’یہ واضح ہے کہ ایم بی ایس واشنگٹن پوسٹ کو ایک بڑا دشمن مانتے ہیں.‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خاشقجی کے قتل کے لیے سعودی شہزادے محمد بن سلمان کی منظوری کی ضرورت ہوگی، لیکن سعودی عرب نے ان کے اس معاملے میں ملوث ہونے سےانکار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے ڈی بیکر کے الزامات کے بارے میں تبصرہ کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا ہے.

سودی وزیر خارجہ نے گزشتہ ماہ اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’جیف بیزوس کے معاملات ہر نیشنل انکوائرر کی خبروں سے سعودی عرب کا قطعی کوئی تعلق نہیں ہے.‘

ڈی بیکر کے الزامات پر اے ایم آئی نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے. البتہ کمپنی نے پہلے ہی کہا تھا کہ اس نے جیف بیزوس کی ذاتی زندگی کی رپورٹنگ میں قانونی طور پر کام کیا ہے.

اسی بارے میں