کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے: کیا ان حملوں کا آسٹریا سے کوئی تعلق ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرائسٹ چرچ کی النور مسجد جہاں حملے میں زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں

کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملے کے ملزم برینٹن ٹیرینٹ نے آسٹریا کی ایک انتہائی دائیں بازو کی جماعت کو 1500 یوروکا چندہ دیا تھا جس کے بعد آسٹریا میں حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس حملے میں آسٹریا کا کوئی شہری تو ملوث نہیں تھا۔

آسٹریا کے وزیر داخلہ ہربرٹ کِکل کے مطابق ملزم برینٹن ٹیرینٹ نے گذشتہ برس 27 نومبر سے 4 دسمبر کے دوران آسٹریا کا دورہ کیا تھا اور اب ان کے آسٹریا میں ممکنہ شدت پسندوں سے روابط کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پولیس نے دائیں بازو کی جماعت آئڈینٹیریئن موومنٹ اِن آسٹریا (آئی بی او) کے سربراہ مارٹن سیلنر کے گھر کی تلاشی لی ہے۔ انھوں نے یورپ میں اپنی جماعت کو شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان کی جماعت کثیر الثقافت کی سخت مخالف اور تارکین وطن، خاص طور پر مسلمانوں سے یورپ کا دفاع کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔

کرائسٹ چرچ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں مزید پڑھیے

کرائسٹ چرچ: ’میں جہانداد کی میت کیسے دیکھوں گی؟‘

’پانچ دن ہو گئے ہیں میرے بیٹے کا فون نہیں آیا'

نعیم رشید نے حملہ آور کو روک کئی جانیں بچائیں

'یہ لڑائی بندوقوں سے نہیں دل و دماغ سے لڑنی ہے'

’نیوزی لینڈ تو ذیشان کے خوابوں کی سرزمین تھی‘

سیلنر نے 15 مارچ کو مساجد میں ہونے والے حملوں کے ساتھ ہر قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے لیکن چندہ موصول کرنے اور جواب میں شکریہ کی ایک ای میل لکھنے کو تسلیم کیا ہے۔

انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا ہے ’میں کسی دہشت گرد تنظیم کا رکن نہیں ہوں۔ میرا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں سوائے اس کے کہ میں نے چندہ موصول کیا تھا‘

آسٹریا کے چانسلر سبیسچیئن کرز کا کہنا ہے کہ اگر اس گروہ کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ثابت ہوا تو اسے ختم کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آئڈینٹیریئن موومنٹ اِن آسٹریا (آئی بی او) کے سربراہ مارٹن سیلنر زیر تفتیش ہیں (فائل فوٹو)

آسٹرین تعلق

کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملوں کے ملزم کے کپڑے اور اسلحے پر تحریریں لکھیں اور علامتیں بنی ہوئی تھیں۔

ایک بندوق کے میگزین پر لکھا تھا ’ویانا‘۔

اور آسٹریا کی بعض تاریخی شخصیات کے نام بھی تحریر تھے جن میں 1683 میں سلطنت عثمانیہ کی جانب سے ویانا کے محاصرے کے دوران وہاں کے ملٹری کمانڈر سٹرہیمبرگ کا نام بھی تھا۔

مورخین کے مطابق سٹرہیمبرگ اور ان کے دستے کے 20 ہزار افراد نے خلافت عثمانیہ کی ایک لاکھ بیس ہزار فوج کے خلاف شہر کا دفاع کیا تھا جنھیں بلآخر پولش، ہیبزبرگز (آسٹریا اور یورپ کا معروف شاہی خاندان) اور رومن سلطنت نے مل کر شکست دے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا کرائسٹ چرچ کے انتقام میں گرجا گھر جلایا گیا؟

کرائسٹ چرچ قتل عام پر بعض انڈین افراد کا جشن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ستمبر 2017 کی اس تصویر میں آئی بی او کے ارکان سلطنت عثمانیہ کے خلاف 1683 کی فتح کا جشن منا رہے ہیں

اکثر مورخین 1683 میں ویانا کی جنگ کو اس حوالے سے یاد کرتے ہیں کہ یہی وہ جنگ تھی جس سے سلطنت عثمانیہ کو مغربی یورپ میں پیشت رفت سے روکا گیا اور جہاں سے یورپ پر کنٹرول کی مسلم/مسیحی کشمکش کا رخ بدلا۔

انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں یا گروہ اس جنگ کی یاد میں آج بھی جشن مناتے ہیں۔

دی ڈوکیومینٹیشن آرکائیو آف دی آسٹرین ریزیزٹینس (ڈی او ای ڈبلیو) جو انتہائی دائیں بازو کے گروہوں یا افراد کے اقدامات پر تحقیق کرتا ہے، کا کہنا ہے کہ آئی بی او اور کرائسٹ چرچ حملوں کے ملزم کے نظریات آپس میں ملتے جلتے ہیں۔

ادارے کے مطابق اس حملہ آور کے منشور کا موضوع ’دی گریٹ ریپلیسمینٹ‘ (جو تارکین وطن کو ’سفید فام‘ مغربی ثقافت کے لیے ایک خطرہ قرار دیتا ہے) کا نعرہ پہلے آئی بی او نے ہی لگایا تھا۔

آسٹریا کی حکومت میں دائیں بازو کا اثر

اس پورے معاملے سے نہ صرف آئی بی او بلکہ آسٹریا کی حکومت کو بھی مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔

آسٹریا کے چانسلر مسٹر کرز کی اپنی جماعت آسٹرین پیپلز پارٹی دائیں بازو کی جماعت فریڈم پارٹی کے ساتھ اتحاد میں ہے اور مغربی یورپ میں آسٹریا وہ پہلا ملک ہے جہاں حکومت میں انتہائی دائیں بازو کی موجودگی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسٹر ہائنز کرسچیئن (بائیں) نے چانسلر کرز (دائیں) کے ساتھ معاہدے میں اپنی جماعت کے لیے کئی اہم وزارتیں حاصل کی تھیں

فریڈم پارٹی کے لیڈر اور نائب چانسلر ہائنز کرسچیئن کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا آئی بی او سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تاہم آسٹرین میڈیا نے ایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں فریڈم پارٹی کو اس گروہ کے ارکان کے ہمراہ دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈی او ای ڈبلیو کے برنہارڈ وائڈنگر نے بی بی سی کو بتایا کہ فریڈم پارٹی اور آئی بی او کے درمیان تعلقات ہیں اور یہ ایک دوسرے کے ایونٹس میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔

آسٹریا کے وزیر داخلہ ہربرٹ کِکل کا تعلق بھی فریڈم پارٹی سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لینڈر رس کی جانب سے ویانا کی جنگ کی 1837 میں بنائی گئی ایک پینٹنگ

فریڈم پارٹی ہمیشہ سے 1683 کی ویانا کی جنگ کا جشن مناتی آئی ہے۔

اسی بارے میں