ترکی میں انتخابات: صدر اردوغان کی جماعت کو دھچکا، دارالحکومت انقرہ میں شکست

ترکی انتخابات تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption ترک صدر رجب اردوعان کے امیدواروں کو سخت مقابلے کا سامنے تھا

ترکی میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں صدررجب طیب اردوغان کی جماعت کو دارالحکومت انقرہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان انتخابات کو صدر اردوغان کے بارے میں ریفرینڈم قرار دیا جا رہا تھا اور اس شکست کو 16 برس سے برسراقتدر صدر اردوغان کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

ترکی کے الیکشن کمیشن کے مطابق استنبول میں متحدہ اپوزیشن کومیئر کے انتخابات میں برتری حاصل ہے۔ البتہ صدر اردوغان کی جماعت اے کے پی نے انقرہ اور استنبول کے انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق توقع کی جارہی ہے کہ اے کے پی انتخابات کے نتائج کو استنبول اور مشرقی صوبے اگدیر میں بھی چیلنج کرے گی۔

اے کے پی نے دعوی کیا ہے کہ 'انقرہ کے 12 ہزار 158 پولنگ سٹیشنز میں سے بیشتر میں غلط ووٹ اور بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں'

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جماعت کے جنرل سیکرٹری فاتح ساحن نے کہا ہے کہ 'ہم اپنے قانونی حق کا بھرپور استعمال کریں گے اورانقرہ میں ہم لوگوں کی مرضی کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ترک میڈیا کے مطابق حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے متحدہ امیدوار منصور یاوش انقرہ میں واضح انداز میں فتح یاب ہوئے ہیں اور انھوں نے صدر اردوغان کے امیدوار محمود اوژشکی کو شکست دی ہے۔

ملک بھر میں رجب طیب اردوغان کی جماعت اے کے پی اور اس کی سربراہی میں قائم سیاسی اتحاد نے مقامی حکومت کے انتخابات میں 51 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کرائسٹ چرچ حملے کی ویڈیو دکھانے پر اردوغان پر تنقید

’اردوغان نے پیاز کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا‘

کیا اردوغان سعودی ولی عہد کی برطرفی چاہتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

یہ پہلی بار ہے کہ گذشتہ 25 سال کی تاریخ میں حکمران جماعت کو انقرہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بی بی سی کے مارک لوون کا کہنا ہے کہ یہ شکست صدر اردوغان کے لیے ایک پریشان کن دھچکے کی صورت میں سامنے آئی ہے خصوصی طور پر اس بات کے پیش نظر کہ صدر اردوغان نے ان انتخابات کو ترکی کی بقا کے لیے بہت اہم قرار دیا تھا۔

متحدہ اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ازمیر جو کہ ترکی کا تیسرا بڑا شہر ہے اس میں بھی وہ فتح یاب ہوئے ہیں۔

نتائج سامنے آنے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا تھا کہ'اگر کہیں کوئی کوتاہیاں ہیں تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو ٹھیک کیا جائے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'کل صبح ہی سے ہم اپنی خامیوں کی نشاندہی کے لیے اپنا کام شروع کر دیں گے اور ان کو ٹھیک کریں گے۔‘ تاہم انھوں نے یہ واضح کیا کہ ان کی جماعت ہی انتخابات میں 'سرفہرست' ہے۔

صدر اردوغان کا کہنا تھا 'نتائج بتاتے ہیں کہ بحیثیت اے کے پی جماعت، ہم ہی ان انتخابات میں سرفہرست ہیں جیسا کہ 3 نومبر 2002 کے الیکشن سے ہوتا آیا ہے۔'

ترکی میں نئے صدارتی نظام کے نافذ ہونے کے بعد اتوار کو پہلی مرتبہ مقامی حکومتوں کے لیے انتخابات ہوئے ہیں جس میں صدر رجب طیب اردوغان کی جماعت کو مالیاتی بحران کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایک خاتون اپنے بیٹے کے ہمراہ ووٹ ڈال رہی ہیں۔ ترکی کی مقامی حکومتوں کے انتخابات میں پونے چھ کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

ترکی میں پونے چھ کروڑ سے زیادہ ووٹرز مقامی حکومتوں میں اپنے نمائندے منتخب کر رہے تھے۔

ترکی میں سنہ 2017 کے ریفرنڈم میں نیا صدارتی نظام اپنایا گیا تھا۔ صدر طیب اردوغان کی جماعت انصاف پارٹی کو سنہ 2014 کے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

تاہم اس مرتبہ ترکی کی کرنسی لیرا کی قیمت گر جانے اور پھر اس کے بعد مالیاتی بحران اور افراطِ زر کی وجہ سے مہنگائی کے بظاہر نہ ختم ہونے والے سلسلے نے ان کی مقبولیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ترکی میں اس وقت مہنگائی کی شرح بیس فیصد بتائی جا رہی ہے جبکہ لیرا مالیاتی بحران سے پہلے کے دنوں کے مقابلے میں ایک تہائی قیمت کھو چکا ہے۔

ترکی کی کرنسی کی قیمت گزشتہ برس اس وقت گری تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے ترکی کی برآمدات پر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

’بہترین پارٹی‘ کی رہنما میرل اکشے نر سے جب ایک مقامی صحافی نے ووٹ ڈالتے وقت پوچھا کہ آپ کیا محسوس کر رہی ہیں تو انھوں نے کہا ’ایک اچھا نتیجہ آئے گا۔‘

’ملیتِ حریت پارٹی‘ یا ایم ایچ پی کے رہنما دولت بحچلی جمہوری عوامی پارٹی کے رہنما کلیچ دار دولو نے انقرہ میں ووٹروں کو روک روک کر اپنے امیدوار کے لیے مہم چلائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption استنبول کے مئیر کے عہدے کے لیے حزب اختلاف کے متحدہ امیدوار اکرن امام اولو اپنے اہلیہ کے ہمراہ ووٹ ڈال رہے ہیں۔

لیکن مبصرین کے مطابق، اب افراطِ زر، مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے ایسا نظر آرہا ہے کہ تُرک عوام انھیں اور ان کی جماعت انصاف پارٹی کو ایک سزا دینا چاہتے ہیں۔

حزب اختلاف کے ایک جلوس میں شامل ایک ووٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'لوگوں کی زندگی اقتصادی مسائل کی وجہ سے اجیرن ہو گئی ہے۔ ’میں ایک دکاندار ہوں، اور ریٹائرڈ زندگی گزار رہا ہوں، لیکن میں نے اس سے پہلے اتنی بری حالت نہیں دیکھی۔'

انقرہ کے ایک ووٹر نے روئیٹرز کو کہا کہ 'میں شاید آج ووٹ نہ دیتا، لیکن جب میں نے دیکھا کہ حکمران جماعت انصاف پارٹی گِر رہی ہے تو میں نے سوچا کہ اب وقت آگیا ہے کہ انھیں آخری دھکا دیا جائے۔'

ایک سینتالیس برس کے شخص نے کہا 'اس وقت ہر شخص ناخوش ہے اور بمشکل گزارا کر پا رہا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر اردوعان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنی حمایت میں اضافے کے لیے نیو زی لینڈ کی مسجد میں حملہ آور کی سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی قتل و غارت والی فوٹیج کا کُھل کر استعمال کیا۔

حکمران جماعت انصاف پارٹی سنہ 2002 سے ہر انتخاب جیتتی چلی آرہی ہے لیکن اس مرتبہ ان کے حامیوں کو بھی اپنی کامیابی کا پورا یقین نہیں ہے۔

اب جب کہ ملک کا زیادہ تر میڈیا حکومت کے کنٹرول میں ہے، تو آزاد تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف اپنی لڑائی کا آغاز ہی ایک غیر متوازن میدان میں کر رہی ہے۔

حزب اختلاف کی ایک اور جماعت کردش ڈیموکریٹک پارٹی نے پہلے ہی ان انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دے کر اپنے امیدوار کئی شہروں میں میدان میں اتارے ہی نہیں۔

کردش ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی رہنماؤں کو دہشت گردی کے الزام کے تحت قید میں رکھا گیا ہے۔ یہ رہنما ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران ٹیلی ویژن چینیلوں پر زیادہ تر اردوغان کی کوریج دیکھنے میں نظر آئی۔ سنیچر کو انھوں نے اپنی جماعت کے حامیوں اور قدامت پسند گروہوں کو یقین دلایا کہ ہر معاملہ ان کے کنٹرول میں ہے۔

ان کا کہنا تھا 'اس وقت اس ملک کی معیشت کا میں صدر کی حیثیت سے حاکم ہوں۔'

انھوں نے ترکی کے اقتضادی مسائل کا مغربی ممالک اور خاص کر امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

اس دوران ترک صدر پر اس وجہ سے بھی تنقید کی گئی ہے کہ انھوں نے کرائسٹ چرچ کے قتلِ عام کے مناظر کو ترک ٹیلی ویژن چینیلوں پر دکھانے کی کھلی چھٹی دیے رکھی ہے۔ ان حملوں میں پچاس مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔

صدر طیب اردوغان نے نیوزی لینڈ کے حملہ آور کے بارے میں عوام کو خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے لوگ اب ترکی میں آسکتے ہیں۔

اردوغان کے اِس بیان سے ایک سفارتی تنازعہ بھی پیدا ہو گیا ہے کیوں کہ اِس سے اُن ہلاک شدگان ترکوں کی یاد تازہ ہو رہی ہے جو 1915 کی جنگِ گیلی پولی میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں