یوکرین کے صدارتی انتخابات: کامیڈین وولوڈومیر دوڑ میں آگے

وولوڈومیر زیلینسکی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یوکرین میں ایگزٹ پول کے مطابق صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ٹیلی ویژن پر طنزیہ مزاحیہ پروگرام پیش کرنے والے کامیڈین وولوڈومیر زیلینسکی نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

ایگزٹ پول کے مطابق وولوڈومیر زیلینسکی نے 30.4 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مقابل یوکرین کے صدر پیٹرو پروشینکو 17.8 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

دونوں امیدوار اگلے ماہ صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ لیں گے۔

یوکرین کی سابق وزیرِ اعظم ٹیموشینکو پہلے مرحلے میں صرف 14.2 فیصد ووٹ حاصل کر سکیں۔

زیلینسکی نے ایگزٹ پول کے نتائج کے بعد بی بی سی کے نامہ نگار جون فِشر کو بتایا ’میں بہت خوش ہوں تاہم یہ حتمی نتیجہ نہیں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

روس کا یوکرین کی تین کشتیوں پر قبضہ، حالات کشیدہ

’کرائمیا 15 لاکھ برس بعد روس سے جُڑ جائے گا‘

یوکرین کی وزراتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ سینکڑوں انتخابی خلاف ورزیوں کی اطلاع دی گئی ہے تاہم غیر ملکی مبصرین نے ووٹنگ کو شفاف قرار دیا ہے۔

یوکرین کے صدارتی انتخابات میں 39 امیدواروں نے حصہ لیا تاہم کوئی بھی 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا جس کے بعد اب 21 اپریل کو ان انتخابات کا دوسرا مرحلہ منعقد ہو گا جس میں 30.4 فیصد ووٹ حاصل کرنے والے وولوڈومیر زیلینسکی دوسرے نمبر پر آنے والے پیٹرو پروشینکو کا مقابلہ کریں گے۔ پیٹرو پروشینکو نے پہلے مرحلے میں 17.8 ووٹ حاصل کیے تھے۔

واضح رہے کہ یوکرین کے صدر کے پاس سکیورٹی، دفاع اور خارجہ امور میں کافی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ سابق سوویت یونین کی اس ریاست کے نظام کو سیمی صدارتی نظام کہا جاتا ہے۔

وولوڈومیر زیلینسکی کون ہیں؟

زیلینسکی ایک مقامی ٹیلی ویژن پرایک طنزیہ شو پیش کرتے ہیں جس میں ایک معمولی سا آدمی کرپشن کے خلاف لڑتے ہوئے صدر منتخب ہو جاتا ہے کو اب حقیقیت کا روپ دے رہے ہیں۔

کامیڈی شو کرنے والے مسخرے نے انتخابات کے تمام روایتی اصولوں اور ضابطوں کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ انھوں نے کوئی جلسے منعقد نہیں کیے، چند ایک انٹرویز دیے۔ ان کے بظاہر کوئی سیاسی نظریات نہیں ہیں سوائے اس کے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ میں پچھلے صدور سے مختلف اندز میں ملک چلاؤں گا۔

زیلینسکی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ فعال ہیں اس لیے نوجوان ووٹرز میں ان کی بہت اپیل ہے۔

اس وقت یوکرین میں یوکرینی اور روسی زبانیں بیک وقت بولنا کافی مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ملک علاقائی سیاست کی وجہ سے زبانوں کی سیاست پر تقسیم ہو چکا ہے۔

تاہم وولوڈومیر دونوں زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ یوکرین کے روسی زبان بولے جانے علاقوں میں کافی مقبول ہیں۔

سیاست اس مقام تک کیسے پہنچی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صدر پروشینکو، یوکرین کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک سیاستدان ہیں اور وہ اچانک ایک وسط مدتی انتخابات میں صدر منتخب ہو گئے تھے۔ اس وقت روس نواز صدر وکٹر یانوکووِچ کی حکومت کا سنہ 2014 کے 'میدان انقلاب' نامی تحریک کی وجہ سے خاتمہ ہوا تو اچانک نئے انتخابات کرائے گئے اور پروشینکو کو صدر منتخب کرلیا گیا تھا۔ بعد میں یوکرین میں روس کے حامیوں نے شورشوں کا آغاز کیا اور ماسکو نے یوکرین کے ایک حصے کریمیا کو روس میں ضم کر لیا۔

یوکرین کے اگلے صدر کو یوکرین کے مشرق میں اپنی فوجوں اور روسی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے درمیان خانہ جنگی کے ایک سلسلے کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس دوران یوکرین کو یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے کئی ایک اقتصادی اصلاحات کو بھی دیکھنا پڑ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یورپی یونین کے مطابق، اس وقت یوکرین کے تقریباً 12 فیصد ایسے ووٹرز ہیں جو حق رائے دہی سے محروم ہیں کیونکہ یہ لوگ کرائمیا میں رہتے ہیں جو اب روس کے قبضے میں ہے۔

یوکرین کے موجودہ صدر پروشینکو ان انتخابات میں قدامت پسند یوکرینینز سے 'فوج، زبان اور ایمان' کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی فوجی کارروائی کی وجہ سے مشرقی یوکرین میں علحیدگی پسندوں پر قابو پایا جا سکا ہے۔ انھوں نے یورپی یونین میں شامل ہونے کا معاہدہ بھی کیا ہے جس میں یوکرینینز کے لیے بغیر ویزے کے یورپی ممالک کے سفر کی سہولت بھی شامل ہے۔ انھی کے دور میں یوکرین کا آرتھوڈوکس چرچ روس کے کنٹرول سے آزاد ہوا۔

لیکن ان کی انتخابی مہم کرپشن اور دفاعی سامان کے سودوں میں گھپلوں کے الزامات کی وجہ سے زور نہیں پکڑ سکی۔ دفاعی سودوں میں گھپلوں کا الزام پچھلے ماہ ہی سامنے آیا تھا۔

یولیا ٹیموشینکو یوکرین کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔ وہ سنہ 2010 اور 2014 میں صدارت کا انتخاب لڑ چکی ہیں۔

انھوں نے سنہ 2004 میں 'اورینج ریوولوشن' میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ ریوولوشن یوکرین کی تاریخ میں یورپی یونین کی جانب بڑھنے کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں