بریگزٹ میں تاخیر کے لیے قرارداد ایک ووٹ سے کامیاب

ٹریزا مے تصویر کے کاپی رائٹ HOC
Image caption ٹریزا مے کی جانب سے جیریمی کوربن کو مذاکرات کی پیشکش پر ٹوری پارٹی میں بریگزٹ کے حامیوں نے برہمی کا اظہار کیا

برطانوی اراکینِ پارلیمان نے ایک ووٹ کی برتری سے وزیر اعظم ٹریزا مے کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ بریگزٹ کی تاریخ میں توسیع کے لیے یورپی یونین سے رجوع کریں تاکہ ڈیل کے بغیر یورپی یونین سے علیحدگی سے بچا جا سکے۔

لیبر پارٹی کے ایویٹ کوپر نے بدھ کو یہ تحریک پیش کی جسے دارالعوام نے اسی روز منظور کر لیا۔

اس تجویز کو قانون بننے کے لیے دارالامرا سے منظوری کی ضرورت ہو گی اور پھر یہ یورپی یونین پر منحصر ہو گا کہ آیا وہ توسیع دے یا نہیں۔

ایک حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ 'مایوس کن` تھا کہ اراکین پارلیمان نے اس بل کی حمایت کی۔ یہ بل ٹریزامے اور اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن کی بریگزٹ پر ہونے والی بات چیت کے بعد پیش کیا گیا تھا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو 'مثبت' کہا گیا تھا اور یہ امید ہے کہ مذاکرات جمعرات کو بھی جاری رہیں گے۔

دریں اثنا چانسلر فلپ ہیمنڈ نے کہا ہے کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ برسلز ایک طویل توسیع پر زور دے گا ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حتمی معاہدے پر عوامی رائے دہی 'مکمل طور پر قابل اعتماد راستہ ہو گا۔'

یہ بھی پڑھیے

بنا معاہدے کے بریگزٹ سے اب بھی بچا جا سکتا ہے‘

بریگزٹ پر ٹریزامے کا معاہدہ تیسری بار مسترد

بریگزٹ سے غیرملکیوں کے لیے کیا بدلے گا؟

بریگزٹ میں تاخیر کا بل

کسی ڈیل کے بغیر یورپی یونین سے علیحدگی سے بچنے کے لیے ایویٹ کوپر کا پیش کیا جانے والا بل 313 ووٹوں سے پاس ہوا جبکہ اس کی مخالفت میں 312 ووٹ پڑے۔

مجوزہ قانون کی روشنی میں اب وزیر اعظم ٹریزا مے کو ایک قرارداد پیش کرنا ہو گی جس کے ذریعے وہ آرٹیکل 50 میں توسیع اور اپریل 12 سے آگے کی کسی بھی تاریخ کی منظوری کے لیے اراکینِ پارلیمان کی منظوری لیں گی۔

بریگزٹ کے حامی کنزرویٹو جماعت کے ارکان نے اس بل کے حوالے سے غیر معمولی طریقہ کار پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جس میں صرف چند گھنٹوں میں اس بل نے دارالعوام میں تمام مرحلے طے کر لیے۔

اس بل کے اختیارات کو محدود کرنے کی حکومتی کوششوں کو 180 ووٹوں سے شکست ہوئی تھی۔ یہ حالیہ دور میں حکومت کو ہونے والی اس نوعیت کی دوسری بڑی شکست تھی۔

مجوزہ قانون کو اب جمعرات کو دارالامرا میں پیش کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption جیریمی کوربن نے تسلیم کیا کہ ٹریزا مے نے ان کی طرف قدم بڑھایا تھا اور اب ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ مذاکرات کے سلسلے میں ٹریزا سے بات چیت کریں۔

مثبت مذاکرات

ادھر بریگزٹ معاملے پر ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے برطانوی وزیراعظم ٹریزامے اور اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو مثبت کہا جا رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں ارکان پارلیمان کو ووٹ دینے کے لیے رضامند کرنے پر اتفاق رائے ہوا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کے ایک ترجمان کے مطابق فریقین نے اپنے اپنے موقف میں لچک دکھائی ہے اور ’بریگزٹ پر غیر یقینی کی صورتحال کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔‘

البتہ ملاقات کے بعد جیریمی کوربن نے بتایا کہ وزیراعظم کے مؤقف میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ملاقات 'مفید لیکن بےنتیجہ' تھی تاہم مذاکرات کو جاری رکھا جائے گا۔

جیریمی کوربن کے مطابق انھوں نے وزیر اعظم ٹریزا مے کے سامنے مستقبل کے کسٹم انتظامات، تجارتی معائدوں اوربریگزٹ پر ایک اور ریفرینڈم کرانے کے آپشن سمیت کئی معاملات اٹھائے ہیں۔

بی بی سی کی پولیٹکل ایڈیٹر لورا کوئنزبرگ کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کا مطلب شاید یہ ہے کہ ٹریزا مے یورپی یونین کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات رکھنے پر رضامند ہو جائیں گی یعنی ان کے ماضی کے دعووں کے برعکس، نرم شرائط پر مبنی بریگزٹ۔

برطانیہ کے پاس یورپی یونین کو بریگزٹ کا لائحہ عمل تجویز کرنے کے لیے 12 اپریل تک کا وقت ہے۔ منصوبہ قبول نہ ہونے کی صورت میں برطانیہ کسی معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے نکل جائے گا۔

نومبر 2018 میں ٹریزا مے نے یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے پر اتفاق کر لیا تھا مگر اس معاہدے کو دو مرتبہ برطانوی پارلیمنٹ میں مسترد کیا جا چکا ہے جبکہ جمعے کو صرف علیحدگی کے معاہدے کو 58 ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔

پارلیمانی ارکان نے بریگزٹ پر آمادگی ظاہر کرنے کے لیے دو مرتبہ ووٹ بھی کروائے مگر کسی بھی معاہدے کو اکثریت نہ ملی۔

برطانیہ نے 29 مارچ کو یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنی تھی لیکن ٹریزا مے نے یہ جانتے ہوئے مختصر توسیع پر اتفاق کیا کہ پارلیمان ڈیڈلائن تک معاہدے پر رضامند نہیں ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

بریگزٹ: ٹریزا مے کا معاہدہ 149 ووٹوں سے مسترد

بریگزٹ یا نیا وزیراعظم؟

ایک بیان میں وزیراعظم ٹریزا کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی تھیں کہ مزید توسیع 'کم سے کم وقت کی ہو' اور 22 مئی سے پہلے تک ہو تا کہ برطانیہ کو یورپی انتخابات میں حصہ نہ لینا پڑے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ جیریمی کوربن کے ساتھ نئے منصوبے پر اتفاق کرنا چاہتی ہیں اور 10 اپریل سے پہلے پارلیمنٹ میں اس منصوبے پر ووٹنگ کروانا چاہتی ہیں۔ 10 اپریل کو یورپی یونین بریگزٹ پر ایمرجنسی میٹنگ کرے گا۔

بی بی سی یورپ کی ایڈیٹر کیٹیا ایڈلر نے تنبیہ کی ہے کہ ان کے مطالبات 'بالکل تبدیل نہیں ہوئے' اور وہ کسی بھی قسم کی مزید تاخیر سے نمٹنے کے لیے 'بہت سخت شرائط' تیار کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا 'حالانکہ ٹریزا مے کہتی ہیں کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتیں، یورپی یونین کے رہنما ان سے کہیں گے کہ وہ برطانیہ کو مئی کے آخر میں ہونے والے یورپی پارلیمانی انتخابات کے لیے تیار کریں کیونکہ انھیں یقین نہیں ہے کہ وہ (ٹریزا مے) اس سے پہلے بریگزٹ پر کوئی لائحہ عمل طے کر پائیں گی۔'

بریگزٹ سے متعلق اہم واقعات کی ٹائم لائن

  • جون 2016: ریفرینڈم میں برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا
  • نومبر 2018: برطانیہ کا اخراج کے معاہدے اور یورپی یونین سے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں لائحہ عمل پر رضامندی کا اظہار
  • دسمبر 2018: ٹریزا مے نے یورپی اتحاد کو مذید یقین دہانی کروانے کے لیے پہلے 'میننگ فُل ووٹ' ملتوی کر دیے
  • 15 جنوری: دارالعوام نے بریگزٹ معاہدے کو 239 ووٹوں سے مسترد کر دیا
  • 13 مارچ: پارلیمانی ارکان نے دوسری مرتبہ 149 ووٹوں سے بریگزٹ معاہدے کو مسترد کر دیا
  • 22 مارچ: یورپی اتحاد نے بریگزٹ میں 29 مارچ سے آگے تک تاخیر کرنے کا فیصلہ کیا لیکن برطانیہ کی طرف سے ایک ہفتے تک معاہدہ نہ طے پانے کی صورت میں 12 اپریل تک تاخیر کی جائے گی۔
  • 29 مارچ: پارلیمانی ارکان نے 58 ووٹوں سے اخراج کا معاہدہ مسترد کر دیا
  • 2 اپریل: برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ یورپی اتحاد سے مزید 'مختصر توسیع' حاصل کریں گی

اسی بارے میں