ایتھوپین ایئرلائنز حادثہ: ’طیارے نے گرنے سے پہلے ’لگاتار غوطے کھائے‘

ایتھوپین ایئر لائینز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 10 مارچ کو ایتھوپین ایئر لائینز کا یہ طیارہ ادیس ابابا سے اڑان بھرنے کے بعد گرا تھا اور اس میں موجود تمام 157 لوگ ہلاک ہو گئے تھے

ایک نئی تفتیشی رپورٹ کے مطابق ایتھوپین ایئرلائنز کے گذشتہ مہینے تباہ ہونے والے جہاز نے گرنے سے پہلے متعدد دفعہ غوطے کھائے تھے۔

اس حادثے پر سامنے آنے والی پہلی سرکاری رپورٹ کے مطابق پائلٹس نے ’لگاتار‘ بوئنگ کے بتائے گئے طریقہ کار پر عمل کرنے کی کوشش کی۔

ٹرانسپورٹ کے وزیر ڈاگماویٹ موگز کا کہنا ہے کہ پائلٹس کی کوششوں کے باوجود وہ ’جہاز کو قابو میں نہیں لا پائے‘۔

10 مارچ کو یہ طیارہ عدیس ابابا سے اڑان بھرنے کے بعد گرا تھا اور اس میں موجود تمام 157 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ بوئنگ 737 میکس طیارے کا پانچ مہینوں میں دوسرا حادثہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بوئنگ 737 میکس طیارے دنیا بھر میں گراؤنڈ

بوئنگ 737 میکس طیاروں پر پابندی کا سلسلہ جاری

5 مہینوں میں دوسرا حادثہ، بوئنگ کو سخت سوالات کا سامنا

گذشتہ اکتوبر میں لائن ایئر کی فلائیٹ جے ٹی 610 کے انڈونیشیا کے قریب سمندر میں گرنے سے 189 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ادیس ابابا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاگماویٹ کا کہنا تھا ’عملے کو جو طیارہ ساز کمپنی کی طرف سے ہدایات دی گئیں تھیں انھوں نے اس پر عمل کیا لیکن پھر بھی جہاز ان کے قابو میں نہ آیا۔‘

ایتھوپین ایئر لائینز کے اس حادثے کے بعد تمام 737 میکس طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا گیا جس سے تقریباً 300 سے زائد جہاز متاثر ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جہاز گرنے کی وجوہات

اس ابتدائی رپورٹ میں جہاز گرنے کی مخصوص وجوہات پر روشنی نہیں ڈالی نہ ہی اس فلائیٹ کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔

لیکن اس میں یہ کہا گیا ہے کہ بوئنگ اپنے طیاروں کے کنٹرول سسٹم کا جائزہ لیں اور یہ کہ ایویشن حکام 737 میکس کو دوبارہ اڑنے کی اجازت دینے سے پہلے اس بات کی تصدیق کریں کہ مسئلہ حل ہو چکا ہے۔

ایتھوپین ایئر لائینز کے سربراہ تیولدے گیبرے مریم نے بیان میں کہا ہے کہ وہ ان ’پائلٹس کی کارکردگی پر فخر‘ کرتے ہیں۔

’بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ جہاز کے لگاتار غوطوں سے اس کو بچا نہیں پائے۔‘

تفتیش کاروں نے 737 میکس کو گرنے سے بچانے کے سوفٹ ویئر منوورنگ کیرکٹرسٹکس اوگمنٹیشن سسٹم (ایم سی اے ایس) کو نشانہ بنایا ہے۔

یہ سوفٹ ویئر اس صورت میں حرکت میں آتا ہے جب جہاز کے سامنے لگے ہوئے سینسر اسے بتاتے ہیں کہ طیارہ بہت اونچے زاویے پر چڑھ رہا ہے جس سے گرنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

لائن ایئر کی فلائیٹ کو کیا ہوا تھا؟

لائن ایئر کے حادثے پر تحقیق بتاتی ہے کہ سسٹم خراب ہونے کے باعث سمندر میں گرنے سے پہلے طیارے کا منہ 20 دفعہ سے زیادہ نیچے گیا۔

ابتدائی رپورٹ میں انڈونیشین تفتیش کاروں نے کہا کہ خراب سینسر کی وجہ سے پائلٹ کو معلوم ہوئے بغیر جہاز کا ایم سی اے ایس حرکت میں آتا رہا۔

لائن ایئر حادثے کے بعد سے بوئنگ ایم سی اے ایس سوفٹ ویئر کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ سسٹم کو بند کیا جا سکتا ہے جس سے کوئی مسئلہ ہونے کی صورت میں پائلٹ طیارے کو واپس اپنے قابو میں لا سکتے ہیں۔

لیکن ایتھوپین حکام کے نئے بیان کے بعد یہ لگ رہا ہے کہ بوئنگ کی تمام ہدایات پر عمل کرنے کے باوجود پائلٹس ایسا نہیں کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Airteam Images
Image caption یہ جہاز بوئنگ نے ائیر بس اے 320 کے مقابلے میں بنایا تھا

بوئنگ پر کیا اثرات ہوں گے؟

پانچ مہینے، دو حادثات اور 346 ہلاکتیں۔

دونوں ابتدائی رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ 737 میکس کے نئے ڈیزائن میں خرابی آئی تھی جس سے جہاز کو لگاتار غوطے ملے۔

ایک مقدمہ درج کر دیا گیا ہے جبکہ مزید مقدموں کے امکانات بھی ہیں۔

جن کے پیارے ہلاک ہوئے ان کا درد کا اندازہ تو نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن طیارہ ساز کمپنی کے مالی نقصان اور بدنامی کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔

سینکڑوں 737 میکس طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔ ہزاروں آرڈرز روک دیے گئے ہیں اور کچھ شاید منسوخ کر دیے جائیں۔

یہ جہاز بوئنگ نے ایئر بس اے 320 کے مقابلے میں بنایا تھا، ایک ایسا جہاز جو چھوٹے سفر کے لیے استعمال ہو اور کم ایندھن کھائے۔

لیکن ایک تجربہ کار 737 پائلٹ کے مطابق اس طیارے میں لگایا گیا نیا سسٹم خراب تھا۔

بوئنگ اس کو ٹھیک کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ان کو یہ جہاز دوبارہ اڑانے سے پہلے اس کو محفوظ مقرر کروانا پڑے گا۔

بوئنگ نے حادثے کے بعد سے کیا کیا ہے؟

بوئنگ نے پائلٹس کو ایم سی اے ایس کو چلانے کے لیے رہنمائی دی ہے۔

یہ 737 میکس طیارے میں ایک اضافی تنبیہی نظام لگانا چاہتے ہیں جو کہ پہلے صرف اختیاری تھا۔

بوئنگ پائلٹس کی 737 میکس کے فلائیٹ سسٹم اور عملے کی ہدایات کے حوالے سے ٹریننگ مزید بڑھا رہی ہے۔

لیکن طیارہ ساز کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بہتری اس بات کی منظوری نہیں کہ یہ جہاز ایم سی اے ایس کی وجہ سے ہی گرے تھے۔

اسی بارے میں