سعودی عرب: امریکی شہریوں سمیت سات افراد گرفتار

سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس حالیہ گرفتاریوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں

لندن میں مقیم انسانی حقوق پر کام کرنے والی ایک تنظیم القسط کے مطابق سعودی عرب نے دوہری شہریت رکھنے والے دو افراد (جن کی سعودی عرب اور امریکہ کی شہریت ہے) اور ایک حاملہ خاتون سمیت کم از کم سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار کیے گئے افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ وہ نمایاں سماجی کارکن نہیں، لیکن وہ ایسے مصنفین اور بلاگرز ہیں جو ملک میں اصلاحات پر بحث و مباحثے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

القسط کا کہنا ہے کہ فروری سے ان افراد کو سفری پابندی کا سامنا بھی تھا۔

حالیہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت پر کی گئی ہیں جب جیلوں میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے پہلے سے موجود سماجی کارکنوں کے مستقبل سے متعلق تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی خاتون رہف القنون پناہ ملنے کے بعد کینیڈا پہنچ گئیں

سعودی بہنیں گھر سے بھاگیں مگر ہانگ کانگ میں پھنس گئیں

سنہ 2018 کے اوائل میں شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے بعد گذشتہ ماہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے 10 کارکنوں پر مقدمہ چلایا گیا۔ ان میں سے تین کو پچھلے ہفتے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے اور اقوامِ متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں 36 ممالک ان افراد کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

گرفتار کیے گئے افراد کون ہیں؟

حالیہ گرفتاریوں پر سعودی حکام کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

القسط کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں چھ مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق ان افراد کی تعداد آٹھ ہے۔

گرفتار افراد میں سے ایک خدیجہ الحربی ہیں جو حقوق نسواں کی حامی مصنفہ اور حاملہ ہیں اور امریکی اور سعودی شہریت رکھنے والے صلاح الحیدر، جن کی والدہ ان کارکنوں میں سے ایک ہیں جن کو حال ہی میں رہا کیا گیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق الحیدر کا خاندان امریکہ کی ریاست ورجنیا میں رہتا ہے لیکن وہ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

گرفتار کیے گئے دوسرے امریکی اور سعودی شہری بدد الابراہیم ہیں جو ایک مصنف اور ڈاکٹر ہیں۔

گذشتہ اکتوبر ترک دارالحکومت استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں صحافی جمال خشوجی کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو بہت باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رافیل القنون کے کیس نے سعودی عرب پر کی جانے والی تنقید کو بڑھاوا دیا ہے

اس قتل کی تفتیش کرنے والے ترک تفتیش کار اور بہت سے دوسرے افراد ولی عہد محمد بن سلمان کو اس قتل کا ذمہ دار مانتے ہیں، جنہیں سعودی عرب میں طاقت کا اصلی سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔

سعودی حکام اس قتل کو ایک باغی کارروائی مانتے ہیں اور اس میں محمد بن سلمان کی کسی بھی طرح کی مداخلت سے انکار کرتے ہیں۔ جنوری میں 11 افراد پر سعودی عرب میں اس قتل کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔

حالیہ گرفتاریوں کو ولی عہد محمد بن سلمان پر تنقید کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ادھر یہ بات بھی درست ہے کہ ولی عہد نے خود کئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔

سعودی عرب میں عوامی سطح پر اصلاحات کے باوجود، خواتین کے حقوق کے بارے میں عالمی برادری میں خاصی تفتیش پائی جاتی ہے۔

سنہ 2018 میں ورلڈ اکنامک فارم نے صنفی براری کی درجہ بندی کے لحاظ سے 149 ممالک میں سعودی عرب کو 141 نمبر پر پایا۔

سعودی خواتین آج بھی محرم کی اجازت کے بغیر سفر نہیں کر سکتیں، نہ انہیں شادی کرنے یا بینک اکاؤنٹ کھولنے کی آزادی ہے۔

اس سال کے آغاز میں اپنے خاندان سے بھاگ جانے والی ایک سعودی نوجوان لڑکی کا کیس بھی خاصی عالمی توجہ کا مرکز بنا تھا۔

تھائی لینڈ کے امیگریشن حکام نے جب انہیں سعودی عرب واپس بھیجنے کی کوشش کی تو 19 سالہ رافیل القنون نے بنکاک کے ایک ہوٹل کے کمرے میں خود کو بند کر لیا تھا۔

بلآخر انہیں اقوامِ متحدہ کی جانب سے مدد فراہم کی گئی اور وہ تب سے کینیڈا میں پناہ گزین کے طور پر رہ رہی ہیں۔

اسی بارے میں