لیبیا کی باغی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر کون ہیں؟

حفتر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چار دہائیوں سے زائد عرصے سے خلیفہ بلقاسم حفتر لیبیا کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم شخصیت کے طور پر چھائے ہوئے ہیں، لیکن ان کی حیثیت میں اتارر چڑھاؤ آتا رہا ہے۔

وہ کرنل معمر قذافی کی سربراہی میں افسران کے اس گروپ کے رکن تھے، جس نے سنہ 1969 میں لیبیا کے بادشاہ ادریس سینسوسی کے خلاف ہونے والی بغاوت کی تھی اور اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔

لیبیا میں کون لڑ رہا ہے؟

جنرل حفتر کا عروج و زوال

جنرل حفتر 1943 میں پیدا ہوئے تھے، انھوں نے 1973 میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔ سنہ 1987 میں ان کو ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر چاڈ کے خلاف فوجی کاروائی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ لیکن یہ تقرری ان کے فوجی کیرئیر کے خاتمے کا آغاز تھا۔ سنہ 1987 میں 300 سے زائد فوجیوں کے ساتھ انھیں چاڈ کی فوج کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وہ جنگی قیدی بنا لیے گئے۔

اسی بارے میں

لیبیا میں پھر سے خانہ جنگی، عالمی طاقتوں کی مذمت

کیا لیبیا میں عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہے؟

قذافی نے حفتر کو فارغ کر دیا۔ پھر وہ قذافی کے مخالف ہوگئے جنرل حفتر نے لیبیا کے رہنما کو ختم کرنے کے لیے اپنی زندگی کو وقف کردیا۔ سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں، حفتر نے امریکہ کا دورہ کیا جہاں وہ سی آئی اے کے قریبی آ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جلاوطنی سے واپسی

سنہ 2011 میں قذافی کے خلاف بغاوت کے آغاز کے بعد، وہ لیبیا واپس آ گئے اور جلد ہی ملک کے مشرقی علاقے میں حزب اختلاف کی فورسز کے اہم رہنماؤں میں سے ایک بن گئے۔

انھوں نے بغاوت کے دوران اسلامی حزب اختلاف کے گروہوں کے ساتھ لڑائی کی۔

بن غازی اور مسلح اسلامی گروہوں کے خلاف مشرق وسطی میں، اخوان المسلمین کے قریب گروہوں سمیت، لیبیا میں اسلام پسندوں کے مخالف ہونے کے طور پر اپنے آپ کو متحدہ عرب امارات اور مصر کی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی ملی۔

مختصر عرصے کے بعد، فروری 2014 میں حفتر دوبارہ اس مقام تک پہنچ گئے جب وہ ’ملک کو بچانے کے لیے اپنی منصوبہ بندی‘ پیش کرنے کے منصوبے کی وجہ سے مشہور ہو گئے۔ انھوں نے لیبیائیوں کو قومی نیشنل کانگریس بنانے کے لیے جمع کیا۔

لیبیا کے دوسرے بڑے شہر، بن غازی شہر کا کنٹرول کرنے کے اعلان کے بعد، اسلامی عسکریت پسندوں سمیت مقامی گروہوں نے ان کی حمایت شروع کردی۔

انھوں نے دارالحکومت طرابلس میں پارلیمنٹ کی عمارت پر بھی حملہ کیا تھا۔

مارچ سنہ 2015 میں، نئے ایوانِ نمائیندگان، جو نیشنل جنرل کانگریس کی جگہ قائم ہوا تھا، نے انہیں آرمی کا کمانڈر-ان-چیف مقرر کیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption السراج وحفتر

بن غازی سے زیادہ مسلح اسلامی گروہوں کو نکالنے کے تقریبا ایک سال بعدہ ان کے سیاسی عزائم

ستمبر 2016 میں، حفتر نے لیبیا کے جنوب کے بڑے تیل کی تنصیبات کو کنٹرول کرنے کے لیے فوجی کاروائی 'ضرب البراق الخالف' کی قیادت کی۔

حفتر نے قومی مصالحت حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے، جس کی سربراہی فائز السرراج کرہے تھے جنھیں بین الاقوامی برادری لیبیا کا وزیر اعظم تسلیم کرتی ہے۔ السراج نے اصرار کیا ہے کہ فوج کی قیادت ان کی حکومت کے ماتحت ہے۔

تاہم ایک مشترکہ سرکاری بیان کے مطابق، السراج اور حفتر نے مئی 2017 میں اتفاق کیا کہ ملک کے بحران کو ختم کرنے کے لئے مل کر کام کریں گے لیکن اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے.

2017 کے موسم گرما میں، ان کی صحت کے بارے میں افواہوں پھیل گئیں تھیں۔ لیکن بعد ہمیں پتہ چلا کہ کہ وہ فرانس میں ایک ہسپتال میں داخل ہیں۔ اس وقت فرانس کے وزیر خارجہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ حفتر کی صحت ٹھیک ہے اور وہ فرانسیسی فوجی ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔

جنرل حفتر اب طرابلس پر چڑھائی کر رہے ہیں لیکن جی 7 سمیت اقوام متحدہ نے انھیں انتباہ دیا ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ تمام مذمتوں کے باوجود مصر اور متحدہ عرب امارات جنرل حفتر کے حامی ممالک ہیں۔

اس دوران جنرل حفتر نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی ہے۔

اسی بارے میں