امریکہ نے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے یہ ایک ایسا اعلان ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دوسرے ملک کی فوج کو دہشت گرد تنظیم کہا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے دستے ’پاسداران انقلاب‘ عالمی سطح پر اس کی دہشت گردی کی مہم پھیلانے کا ایک ذریعہ ہیں۔

مزید پڑھیے

ایران اور اسرائیل کا مسئلہ ہے کیا؟

ایران پر پابندیوں کے اثرات: چارٹس میں

ایران پر پابندیوں سے استثنیٰ کی یورپی درخواست مسترد

صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے سے الگ کیے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ چکی تھی۔

ماضی میں پاسداران انقلاب اور ان سے وابستہ تنظیموں پر دہشت گردی پھیلانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بنیاد پر مختلف مواقع پر پابندیاں لگ چکی ہیں۔

امریکی صدر نے پیر کو اپنے بیان میں کہا کہ ’محکمہ خارجہ کی طرف سے یہ فیصلہ جس کی مثال نہیں ملتی اس حقیقت کی روشنی میں لیا گیا ہے کہ ایران نہ صرف دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے بلکہ پاسداران انقلاب ریاستی حکمت عملی کے طور پر دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں اور اس کے لیے فنڈنگ کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TTA KENARE/AFP/GETTY IMAGES

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے فیصلے کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔ انھوں نے کہا جو بھی پاسداران انقلاب سے رابطہ رکھے گا وہ دراصل دہشت گردی کو فروغ دے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ پاسداران انقلاب کے خلاف فیصلہ پر ایک ہفتے میں عمل درآمد ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ ایران پر بہتر رویے اپنانے کے لیے دباؤ بڑھاتا رہے گا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ امریکی اتحادی بھی ایسا ہی کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کی قیادت انقلابی نہیں ہے اور ’ہمیں ایران کی عوام کو ان سے آزاد کروانے کے لیے ان کی مدد کرنی چاہیے۔‘

امریکی فیصلے پر تنقید

ایرانی سیاست دانوں نے امریکہ کو اسی کی زبان میں جواب دینے کا عہد کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے اس فیصلہ کے بعد خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اس کے مخالفین اس کی فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے خلاف ایسے ہی اقدام کریں گے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی وزارت دفاع کے کچھ حکام اور فوج کے چیرمین جائنٹ چیف آف سٹاف جنل ہو ڈنفرڈ نے اس فیصلے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ فوجی حکام کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں ہونے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق سی آئی اے نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں