ترکی میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں: حزب اختلاف رہنما

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ترکی میں حزب اختلاف کے رہنما کمال کولچ دارولو نے ترکی میں انقرہ اور استنبول کی مقامی حکومتوں کے الیکشن کی پھر سے گنتی کے حکم کے بعد کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔

گذشتہ ہفتے ترکی میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حکمران جماعت اے کے اے زیادہ تر شہروں میں جیت گئی لیکن اسے دارالحکومت انقرہ، استنبول اور ازمیر کے بڑے شہروں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مزید پڑھیے:

’اردوغان شکست تسلیم کرنے کی بجائے بہانے بنا رہے ہیں‘

کیا اردوغان سعودی ولی عہد کی برطرفی چاہتے ہیں؟

صدر اردوغان کی جماعت نے ان انتخابی نتائج کو چیلنج کیا جسے الیکشن کمیشن نے مان کر استنبول اور انقرہ میں ووٹوں کی از سر نوگنتی کا حکم دے دیا ہے۔

حزب اختلاف کےرہنما نے کہا کہ وہ دوبارہ گنتی کے مخالف نہیں ہیں لیکن دوبارہ گنتی کا حکم قانون کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ قانون کے مطابق اسی وقت دوبارہ گنتی کا حکم دیا جا سکتا ہے جب بے ضابطگیوں کی کوئی شہادت موجود ہو۔

انھوں نے کہا اس دوبارہ گنتی کے عمل میں یا تو جمہوریت غالب آئے گی یا پھر مکمل طور پر ذبح ہو جائے گی۔

صدر اردوغان نے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے بعد الزام عائد کیا تھا کہ ملک میں 'منظم جرم' کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

استنبول میں حکمران جماعت کا امیدوار سولہ ہزار ووٹوں سے ہار گیا تھا۔ صدر اردوغان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو صرف سولہ ہزار ووٹوں کے فرق سے اپنی فتح کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔

صدر اردوغان کا سیاسی عروج استنبول کے میئر کےطور ہوا تھا جہاں سے انھوں نے اپنی شہرت بنائی اور پھر ملکی سیاست پر چھا گئے۔

صدر اردوگان نے استنبول اورانقرہ میں اپنی جماعت کے امیدواروں کی ہار کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان انتخابات میں ڈاکہ ڈالا گیا ہے اور بیلٹ باکسوں میں چوری ہوئی ہے۔

صدر اردوغان سولہ برسوں سے اقتدار میں ہیں اور ووٹروں کی ایک بڑی تعداد ان کو پسند کرتی ہے۔ لیکن ان کے مخالفین کا الزام ہے کہ انوں نے ملک میں جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں