’مصر دنیا کی ماں کی حیثیت رکھتا ہے‘
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

#Being17: ایک مصری نوجوان کی زندگی

کیا اس دور میں نوجوان ہونا پہلے سے زیادہ مشکل ہے؟

علی الطیب کا خاندان کئی نسلوں سے سنگ مرمر کے گلدان اور دیگر مصنوعات بنا رہے ہیں۔

کچھ سال پہلے اپنے والد کی وفات کے بعد 17 برس کے علی الطیب کا اپنے خاندانی پیشے کو جاری رکھنے کا عزم مزید پختہ ہوا گیا تھا۔

اس کے باوجود کہ گذشتہ چند سالوں سے مصر میں سیاحت کا شعبہ کافی مشکلات سے دوچار ہے، علی کافی پر امید ہیں کہ جلد ہی لوگوں کی بڑی تعداد ایک بار پھر مصر کا رخ کرے گی۔ ان کا یہ خواب ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو وسیع کریں اور مصری سنگ مرمر کی مصنوعات پوری دنیا میں فروخت کریں۔

ہم نے علی الطیب کے ساتھ ایک دن گزارا جہاں انھوں نے ہمیں یہ دکھایا کہ مصری نوجوان کی روزمرہ زندگی کیسی ہوتی ہے۔

اسی سیریز کی مزید ویڈیو دیکھیے

‘ڈر ہے کہ میں اپنے والدین جتنے پیسے نہیں کما پاؤں گی`

‘سربین میری مقامی زبان ہے لیکن میں انگریزی بھی بولتی ہوں`

17 سال کے بچوں کے لیے کام کرنا بہت انوکھی بات ہے‘

’ہمارا ملک ویسا نہیں جیسا خبروں میں بتاتے ہیں‘

’سب کچھ بدل چکا ہے، لڑکیاں سب کر سکتی ہیں‘

متعلقہ عنوانات