انسانی اعضا کی پیوند کاری: سہیلی کو گردہ عطیہ کرنے والی خاتون کی کہانی

سوئزرلینڈ
Image caption 50 سالہ سبائل نے اپنی دوست کو گردہ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے

سبائل اپنی عمر کی پچاس کی دہائی میں ہیں۔ وہ ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ شادی شدہ ہیں، ان کے دو بیٹے ہیں جو یونیورسٹی جاتے ہیں۔

وہ بہت سی ذمہ داریوں کے ساتھ ایک فعال زندگی گزار رہی ہیں اور اب انھوں نے ایک ایسے سفر کی ابتدا کی ہے جس کے بارے میں بہت سے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔

اگلے ہفتے وہ اپنی سکول کی ایک دیرینہ سہیلی کو اپنا ایک گردہ عطیہ کر رہی ہیں۔

ان کی سہیلی سوئٹزرلینڈ میں رہتی ہیں جہاں معیار زندگی دنیا میں سب سے بہتر اور صحت کی طبی سہولیات سب سے اچھی ہیں۔

مگر جب بات انسانی عضا کے عطیے کی آتی ہے تو وہاں تقریباً 100 افراد ہر سال اس کی کمی کے سبب مر جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سوئٹزر لینڈ میں انسانی اعضا کی پیوندکاری اور عطیہ کرنے کے نظام کے تحت وہاں زندہ افراد سے واضح رضامندی کی ضرورت پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

آسٹریلیا میں 'مردہ' دل کی کامیاب پیوند کاری

برطانیہ میں ایک خاتون کو دو نئے ہاتھ مل گئے

ڈونر کی ’دھوکہ دہی‘، اعضا کی پیوندکاری کا عمل معطل

جگر میں خلیوں کی کامیاب پیوند کاری

'نسوانی حُسن میں ناقص پیوند کاری'

سوئزرلینڈ میں انسانی اعضا عطیہ کرنے کی شرح کیوں کم ہے؟

پچھلے برس 158 افراد نے مرنے کے بعد اپنے اعضا کا عطیہ کیا تھا، لیکن 1400 سے زائد افراد انسانی اعضا کی پیوند کاری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان 158 افراد کو پیوند کاری سے پہلے اپنی زندگی کے بہترین وقت میں برسوں کی بیماری اور بے روزگاری کا سامنا رہا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی نیشنل آرگن ڈونیشن فاؤنڈیشن سوئس ٹرانسپلانٹ کا کہنا ہے کہ انسانی اعضا کے عطیے میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مرنے والوں کے آدھے سے زیادہ رشتہ داروں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پیاروں کی خواہشات کیا تھیں۔

سوئس ٹرانسپلانٹ کے فرانزسکا بیئلر نے بی بی سی کو بتایا ’خاندان والوں کی کم علمی کی وجہ سے اہلخانہ کے ساتھ بات چیت میں، انسانی اعضا عطیے کرنے کی 60 فیصد درخواستیں رد ہو جاتیں ہیں۔‘

قانون میں تبدیلی کی ایک تحریک جاری ہے، تاکہ لوگ فعال انداز میں انسانی اعضا عطیہ کرنے کا فیصلے کریں نا کہ زبردستی۔

تاہم قانون میں تبدیلی کے ریفرنڈم کو ابھی چند سال لگیں گے اور یہ ہی وجہ ہے کہ سبائل جیسے افراد ان مسائل کے زیادہ قابل عمل حل کا انتخاب کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سبائل نے مدد کا فیصلہ کیوں کیا؟

سبائل اور ان کی سہیلی ایک دوسرے کو ہائی سکول سے جانتی ہیں۔ اور ان کی دوستی چھ ہفتوں کے ’گھر گرہستی‘ کے کورس کے دوران مزید گہری ہوئی تھی۔ اس کورس کو سوئزرلینڈ میں سکول جانے والی بچیوں کو ایک مرتبہ ضرور کرنا پڑتا ہے۔

سبائل یاد کرتی ہیں کہ ’انھوں نے ہم سے بات کرنے کے لیے ایک واشنگ مشین کے ماہر کو بھیجا تھا جو ہمیں بہتر انداز میں یہ بتا سکے کہ گھر کو کیسے سجایا جا سکتا ہے۔‘

وہ ہمیشہ سے جانتی تھیں کہ ان کی سہیلی کو گردے کا مرض ہے، اور بڑھتی عمر کے ساتھ اس مرض میں اضافہ ہو گا۔

مگر وہ تب تک یہ نہیں جانتی تھیں کہ یہ کتنا سنجیدہ ہے جب چند سال پہلے وہ دونوں پہاڑ پر چڑھنے کے لیے گئیں تھی اور ان کی سہیلی نے ان کو بتایا کہ ڈاکٹر نے ان کو کہا ہے کہ انھیں گردے کی پیوند کاری کے منتظر افراد کی فہرست میں نام لکھوا لینا چاہیے۔

بنا کسی بہن بھائی، بچوں، بھانجے بھتیجیوں کے ان کے پاس خاندان میں سے گردہ عطیہ کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

سبائل نے وہ ساری رات جاگ کر گزاری اور اگلی صبح اپنی دوست کو بتایا کہ وہ انھیں گردے کا عطیہ دینے کے لیے تیار ہیں۔

لیکن سبائل کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے انھیں یہ جاننا تھا کہ کیا ان کے گردے ان کی سہیلی کے لیے مناسب اور کارآمد بھی ہیں۔ جس کی لیے انھیں متعدد ٹیسٹوں سے گزرنا پڑا۔ سبائل کہتی ہیں کہ ’مجھے کم از کم 25 مختلف ٹیسٹوں کے لیے خون کے نمونے دینے پڑے۔‘

ان ٹیسٹس کی جانچ پڑتال اور نتائج آنے میں مہینے لگے۔ اس کے بعد ان کو علم ہوا کہ وہ اپنی دوست کو گردہ عطیہ کر سکتیں ہیں اور انھیں اپنے خاندان کو بتانا ہے۔

ردعمل بلکل بھی مثبت نہیں تھا

ان کی ساس نے انھیں ان کے بچوں کی جانب ذمہ داریوں کی یاد دلائی۔ ان کے شوہر اور بیٹوں نے ان کے فیصلہ کو تسلیم کیا مگر مستقبل میں ان کے صحت پر پڑنے والے ممکنہ نتائج پر فکر مند ہوئے۔

سوئزرلینڈ کا باقی یورپ سے موازنہ کیسے کیا جاتا ہے؟

سوئٹزرلینڈ میں انسانی اعضا عطیہ کرنے کی شرح یورپ میں سب سے کم ہے۔ دس لاکھ افراد میں سے صرف 18 افراد اعضا عطیہ کرنے والے ہوتے ہیں۔

جبکہ سپین میں انسانی اعضا عطیہ کرنے والوں کی شرح یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔ جہاں دس لاکھ افراد میں 47 افراد اپنے اعضا عطیہ کرتے ہیں۔

سوئٹزر لینڈ میں مرجانے والے افراد کے اہلخانہ کی جانب سے اعضا عطیہ کرنے سے انکار کی شرح 60 فیصد ہے جبکہ فرانس میں اعضا عطیہ کرنے سے انکار کی یہ شرح 25 فیصد ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے برعکس زیادہ تر یورپی ممالک میں اب مر جانے والے افراد سے اعضا کا عطیہ لینے کے لیے ’فرضی رضامندی‘ کا نظام رائج ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SWISSTRANSPLANT
Image caption سوئس ٹرانسپلانٹ نے انسانی اعضا عطیہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک آن لائن رجسٹریشن کا نظام متعارف کروایا

فرضی رضامندی کا نظام ویلز میں رائج ہے اور سنہ 2020 تک یہ انگلینڈ میں بھی لاگو ہو گا۔ سکاٹ لینڈ اپنے قوانین میں اصلاحات پر غور کر رہا ہے جبکہ شمالی آئرلینڈ میں رضاکارانہ طور ہر ’عطیہ‘ کرنے کا نظام موجود ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی اعضا کے عطیہ اور پیوند کاری میں اعضا عطیہ کرنے والوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ تعاون اور اس کے بنیادی ڈھانچے کا بھی اہم کردار ہے۔

گذشتہ برس سوئس ٹرانسپلانٹ نے ممکنہ طور پر انسانی اعضا عطیہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک آن لائن رجسٹریشن کا نظام متعارف کروایا تھا۔ اس پروگرام میں مرنے والوں کے ڈاکٹروں اور خاندانوں سے یہ جاننے کی کوشش بھی کی گئی کہ کیا وہ اعضا عطیہ کرنا چاہتے تھے۔

اعضا عطیہ کرنے والوں کے فیصلے

سبائل کی کہانی جیسی کہانیاں بہت ہی کم ہیں مگر اعضا کی قلت کے باعث اب سوئس ڈاکٹروں کی پاس ایسے کیسز زیادہ آ رہے ہیں جہاں اعضا عطیہ کرنے والا زندہ ہے اور رشتہ دار نہیں ہے۔

ان کی ایک ساتھی بھی اپنے ساتھ دفتر میں کام کرنے والے ایک ایسے شخص کو اپنا گردہ عطیہ کر رہی ہیں جس کی خراب صحت نے اسے کام سے جلد ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا۔

یہ فیصلہ سازی کا ایک انتہائی حساس عمل ہے اور ڈاکٹرز بھی اس میں احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ اعضا عطیہ کرنے والے کی واضح اور مستقل مرضی بہت ضروری ہے۔

سبائل میں متعدد بار مختلف طریقوں سے یہ پوچھا گیا ہے کہ کیا وہ مکمل طور پر اپنے فیصلے سے مطمئن ہیں۔ ان کو بتایا گیا ہے کہ وہ آپریشن کے دن بھی اپنا فیصلہ بدل سکتی ہیں۔

انھیں اور ان کی دوست کو کونسلنگ سے گزرنا پڑا۔ سبائل کو آگاہ کیا گیا کہ وہ اس آپریشن کے بعد ڈپریشن میں جا سکتی ہیں اور ان کا تعلق ان کی دوست سے بدل سکتا ہے یا متاثر بھی ہو سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’اگر آپ اس کے بارے میں اچھا سوچتے ہیں تو میرے خیال میں آپ صرف یہ ہی کر سکتے ہیں، مجھے ڈاکٹروں پر مکمل اعتماد ہے اور میں بلکل بھی خوفزدہ نہیں ہوں۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ میرے پاس یہ اختیار ہے کہ میں کسی کو بہتر زندگی واپس لوٹا سکوں اور میں یہ کرنا چاہتی ہوں۔‘

اسی بارے میں