نوٹراڈام کیتھیڈرل کو دوبارہ تعمیر کریں گے: ایمینوئل میکخواں

پیرس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے آتشزدگی کی زد میں آکر تباہ ہوجانے والے کیتھیڈرل نوٹرا ڈام کی تعمیرِنو کا عہد کیا ہے۔

شدید آگ کی لپیٹ میں آنے کی وجہ سے پیرس کے اس تاریخی گرجا گھر کی چھت اور مخروطی چوٹی گر گئی تھی۔

آگ لگنے کے آٹھ گھنٹے بعد اس پر قابو پا لیا گیا اور آگ بجھانے والا عملہ اس 850 سالہ پرانی، گوتھگ عمارت کا پتھر سے بنا ڈھانچہ بچانے میں کامیاب ہو گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوئی تاہم جس وقت آگ لگی اس وقت وہاں تزئین و آرائش کا کام جاری تھا۔

Scene of blaze in Paris تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بارہویں صدی میں بننے والے اس گرجا گھر میں آگے لگنے کا منظر پیرس کے مکینوں اور سیاحوں نے بھی دیکھا

پیرس کے پراسیکیوٹر آفس نے اس واقعے کو ایک حادثہ قرار دیا اور کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔

اصل میں ہوا کیا؟

آگ لگنے کا یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے پیش آیا، جلد ہی آگ نے کیتھیڈرل کی چھت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس میں موجود شیشے اور لکڑی کی تزئین و آرائش کے کام کو تباہ کردیا۔

آگ لگنے کے بعد خدشہ تھا کہ کیتھیڈرل کا مشہور مینار بھی آگ سے بچ نہ پائے گا۔

پیرس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس تاریخی گرجا گھر میں لگنے والی آگ فرانسیسیوں کے ذہنوں پر اپنے نقش چھوڑ جائے گی

اگرچہ ٹاور کا کچھ حصہ آگ کی زد میں آیا لیکن فرانس کے وزیر داخلہ کے مطابق اسے مزید پھیلنے سے بچا لیا گیا۔

کیا کیا تباہ ہوا؟

آگ بجھانے والے عملے کے ترجمان کے مطابق عمارت کی چھت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، والٹ کا ایک حصہ گر گیا ہے اور عمومی طور پر گرجا گھروں کے اوپر پایا جانے والا احرام نماں ڈھانچہ جسے ’سپائر‘ کہتے ہیں وہ بھی اب نہیں رہا۔

فرانس کے اخبار لے مونڈ کو دئیے گئے ایک بیان میں فرانس کے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر آگ بجھانے والا عملہ وقت پر اندر داخل نہ ہوتا تو یقیناً یہ پوری عمارت تباہ ہوجاتی۔

پیرس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آگ بجھانے والے عملے کے ترجمان کے مطابق عمارت کا چھت مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے

تاہم فرانس کے وزیرِ ثقافت کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈھانچے کو بچا لیا گیا ہے لیکن یہ عمارت اب انتہائی مخدوش حالت میں ہے۔

آگ بجھائے جانے کے بعد کیا ہوا؟

بہت سے افراد اور گروہ نوٹرا ڈام کیتھیڈرل کی تعمیر میں مدد کے لیے متحرک ہوگئے ہیں اور لاکھوں یوروز کی امداد کا وعدہ کر لیا گیا ہے۔

فرانس کے ارب پتی افراد، مشہور کمپنیوں اور کاروباروں کے مالکان اور چیریٹیز لاکھوں یوروز کی مدد کا عہد کر رہے ہیں۔

پیر کی رات جائے وقوع کا دورہ کرتے ہوئے صدر ایمینوئل میکخواں کا کہنا تھا کہ بدترین صورتحال سے بچا لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے عہد کیا کہ وہ کیتھیڈرل کی تعمیرِنو کے لیے بین الاقوامی فنڈ ریزنگ مہم کا آغاز کریں گے۔

فرانس تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پیر کی رات جائے واقعہ کا دورہ کرتے ہوئے صدر ایمینوئل میکخواں کا کہنا تھا کہ بدترین صورتحال سے بچا لیا گیا ہے

انھوں نے اسے ایک خوفناک حادثہ قرار دیتے ہوئے مذید کہا ’فرانسیسی افراد یہی (تعمیرِنو) چاہتے ہیں اور ہماری تاریخ اس کی مستحق ہے۔‘

صدر ایمینوئل میکخواں نے آگ بجھانے والے عملے کے 500 افرار کی بے مثال بہادری کی تعریف بھی کی۔

کیتھیڈرل کے خزانے کا کیا ہوا؟

امدادی ٹیمیں قیمتی آرٹ ورک اور مذہبی اشیا کو بچانے میں کامیاب ہو گئیں۔ ان اشیا میں کانٹوں کا وہ تاج بھی شامل ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ پیغمبر عیسی نے صلیب پر چڑھائے جانے سے قبل پہنا تھا۔

اور وہ کُرتا جسے بادشاہ لوئی 10 نے اس کانٹوں کے تاج کو پیرس لاتے ہوئے پہنا تھا۔

پیرس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آگ لگنے کے بعد عمارت کی صورتحال

تاریخ دان کیملے پاسکل نے فرینچ براڈکاسٹر بی ایف ایم ٹی وی سے بات کر تے ہوئے کہا کہ ’قیمتی ورثہ تباہ ہو گیا ہے۔ نوٹرا ڈام کی گھنٹیوں سے صدیوں کے مبارک اور بدقسمت واقعات جڑے ہیں۔ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس سے ہم صرف خوفزدہ ہی ہو سکتے ہیں۔‘

دنیا بھر سے ردِعمل

ہزاروں افراد کیتھیڈرل کے آس پاس کی گلیوں میں جمع ہو گئے اور خاموشی سے آگ لگنے کے اس منظر کو دیکھتے رہے۔ کچھ افراد کو روتے ہوئے دیکھا گیا اور باقی غم کی نظمیں گاتے اور دعائیں کرتے رہے۔

پیرس کے بے شمار گرجا گھروں نے اس حادثے کے ردِعمل میں اپنے گرجا گھروں کی گھنٹیاں بجائیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسیحی افراد مقدس ہفتہ منا رہے تھے۔

پیرس کے آرچ بشپ مائیکل آپیٹیٹ کا کہنا تھا ’نوٹرا ڈام جل رہا ہے، فرانس اور پوری دنیا رو رہی ہے۔ یہ بہت جذباتی ہے۔‘

ویٹیکن نے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا جبکہ برطانیہ کی وزیرِاعظم تھیریسا مے نے اسے ’خوفناک‘ قرار دیا۔

اقوامِ متعدہ کے ادارے یونیسکو کو کہنا تھا ’اس قیمتی ورثے کو بچانے اور اس کی تعمیرِنو کے لیے ہم فرانس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خیال رہے سالانہ 13 ملین افراد اس تاریخی کیتھیڈرل کا دورہ کرتے ہیں۔

پیرس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سالانہ 13 ملین افراد اس تاریخی کیتھیڈرل کا دورہ کرتے ہیں

جرمنی کی چانسلر انجیلا مارکل نے نوٹرا ڈام کیتھیڈرل کو فرانس اور یورپی ثقافت کی علامت قرار دیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آگ لگنے کے اس منظر کو ’دیکھنے میں خوفناک‘ کہا۔ اور تجویز کیا کہ ہوائی جہاز کے ذریعے پانی گرا کر آگ بجھائی جاسکتی ہے۔

اس بیان کے ردِعمل میں فرانسیسی سول سکیورٹی سروس کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں تھا کیوں کہ اس سے پوری عمارت کے گر جانے کا خدشہ تھا۔

.