مصر کے آئین میں تبدیلی سے سیسی ’2030 تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں‘

سیسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2014 میں پہلی بار سیسی صدر منتخب ہوئے اور گذشتہ سال 97 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے بعد انھیں دوبارہ منتخب کیا گیا

مصر کی پارلیمان نے آئینی ترامیم منظور کی ہیں جن کے مطابق صدر عبدل فتع ال سیسی 2030 تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔

سنہ 2022 میں اپنی دوسری چار سالہ مدت کے اختتام پر سیسی کو اقتدار چھوڑنا تھا۔

لیکن ان ترامیم کے باعث، جن پر 30 دن کے اندر ریفرینڈم کرایا جانا ہے، ان کی حالیہ مدتِ اقتدار بڑھ کر چھ سال ہو جائے گی اور انھیں ایک اور مدت کے لیے انتخابات میں کھڑے ہونے کی اجازت مل جائے گی۔

یہ ترامیم صدر سیسی کو عدلیہ پر مذید اختیارات دیں گی اور سیاست میں فوج کا کردار یقینی بنائیں گی۔

سنہ 2013 میں صدر سیسی نے مصر کے پہلے منتخب کردہ جمہوری صدر محمد مورسی کے اقتدار کے خلاف جاری احتجاج کے پیشِ نظر فوج کی قیادت میں اقتدار حاصل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

صدارتی انتخابات میں 'السیسی کی بھاری اکثریت سے جیت'

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو رہا کر دیا گیا

مصر: سابق صدر مرسی کی عمر قید کی سزا کالعدم

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان کی نگرانی میں مخالف آوازوں کو دبانے کی بے مثال کوششیں کی گئی ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جیلوں میں قید ہیں۔

سیسی سنہ 2014 میں پہلی بار صدر منتخب ہوئے اور گذشتہ سال 97 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے بعد انھیں دوبارہ منتخب کیا گیا۔ انھیں کسی سخت مقابلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ ان کے اکثر ممکنہ حریفوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا یا، ان کو گرفتار کر لیا گیا۔

پارلیمان میں بھی صدر سیسی کے حمایتیوں کا غلبہ ہے اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں یہ کہہ کر اسے تنقید کا نشانہ بناتی ہیں کہ یہ ان کے اقدامات کی رسمی منظوری کا ہی کام کرتی ہے۔

قانون ساز محمد حمید، جنھوں نے آئینی ترامیم کے لیے مہم چلائی، نے خبر رساں ایجینسی اے ایف پی کو بتایا کہ سیسی ایسے صدر تھے جنھوں نے اہم سیاسی، اقتصادی اور حفاظتی اقدامات لیے اور لیبیا اور سوڈان جیسے ہمسائیہ ممالک میں جاری بدامنی کے پیشِ نظر انھیں اصلاحات کی اجازت دینی پڑی۔

لیکن لیبرل ’ال دستور‘ پارٹی کے خالد داؤد نے اسے مضحکہ خیز کہہ کر مسترد کر دیا اور بی بی سی کو بتایا کہ یہ اصلاحات صدر سیسی کی جانب سے اقتدار پر قبضے کی کوشش کو ظاہر کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منگل کو پارلیمان کی جانب سے منظور کردہ اصلاحات کے پیشِ نظر صدر کی مدتِ اقتدار بڑھ کر چھ سال تک ہو جائے گی

انٹرنیٹ مانیٹر نیٹ بلاک کا کہنا ہے کہ ایک کیمپین کی ویب سائٹ تک رسائی کو محدود کرنے کی کوشش میں جس نے مبینہ طور پر ترامیم کے خلاف 250000 دستخط جمع کیے تھے، مصری حکام نے 34000 ویب سائٹس کو جزوی یا مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔

صدر 2030 تک کیسے اقتدار میں رہ سکتے ہیں؟

مصر کے موجودہ آئین کے آرٹیکل 140، جسے ایک ریفرنڈم کے ذریعے 2014 میں منظور کیا گیا تھا، کے مطابق صدر نے چار سالہ مدت پوری کر لی ہے اور انھیں صرف ایک بار اور منتخب کیا جا سکتا ہے۔

لیکن منگل کو ایم پیز کی جانب سے منظور کردہ اصلاحات کے پیشِ نظر صدر کی مدتِ اقتدار بڑھ کر چھ سال تک ہو جائے گی۔

آرٹیکل 241 میں بیان کردہ ایک عبوری انتظام کے تحت صدر سیسی کی موجودہ مدت میں دو سال تک کا اضافہ ہوگا اور اس کے ساتھ یہ انھیں 2024 میں ایک اضافی چھ سال کی مدت کے لیے کھڑے ہونے کی اجازت بھی دیتا ہے۔

صدر کو ایک یا دو نائب صدور مقرر کرنے کی بھی اجـازت ہوگی۔ اس عہدے کو 2012 کے آئین کی منظوری کے بعد ہٹا دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قاہرہ کے تحریر سکوائر میں لگے بینرز لوگوں کو کسی بھی ریفرنڈم میں حصہ لینے پر زور دے رہے ہیں

فوج کے اختیارات

سیسی کے صدر بننے کے بعد سے فوج کی اقتصادی اور شہری سرگرمیاں پہلے ہی وسیع ہو گئی ہیں۔ بڑے انفراسٹکچر پروجیکٹس کا انتظام ان کے پاس ہے اور حکومت میں اہم عہدوں پر جرنیلوں کا قبضہ ہے۔

آرٹیکل 200 یہ کہنے کے لیے میں اصلاحات کی جائیں گی کہ ملک کی حفاظت اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ فوج کا فرض ہے کہ آئین اور جمہوریت کی حفاظت کریں، ریاست اور اس کے شہری طرز کے بنیادی ستونوں اور عوامی مفادات کو برقرار رکھیں اور شہریوں کے حقوق اور آزادی کی حفاظت کرے۔

تاہم آرٹیکل 234 میں اصلاحات دفاعی وزیر کی منظوری کے لیے مسلح افواج کی سپریم کونسل کے کردار کو یقینی بنائیں گی۔

عدلیہ کیسے متاثر ہو گی؟

آرٹیکل 185، 189 اور 193 میں ترامیم یہ یقینی بنائیں گی کہ مصر کے صدر کی سربراہی میں ایک ایگزیکٹیو باڈی عدلیہ کی نگرانی کرے گی اور صدر کو اہم عدالتوں میں تقرریوں کا اختیار دے گی۔ ان میں کیسیشن عدالت، عدالتِ عظمی اور عوامی پراسیکیوٹر بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصر کی عدالتِ عظمی نے بعض پابندیوں کے قوانین کو چیلنج کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی آزادی کو کمزور کر دے گا۔

آرٹیکل 190 میں اصلاحات بڑے پیمانے پر سٹیٹ کونسل ججز کے اس اختیار کو ختم کر دیں گی جس کے تحت وہ قانون سازی میں کسی ترمیم پر قانون بننے سے قبل نظر ثانی کر سکتے تھے۔

فوجی عدالتوں کو وسیع دائرہ اختیار فراہم کرنے کے لیے آرٹیکل 204 میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔ ان تبدیلیوں کے بعد فوجی عدالتیں، فوجی تنصیبات، فیکٹریوں، سازوسامان، زونز، سرحدوں اور فوجی عملے کے علاوہ کسی بھی ایسی عمارت جو فوج کی حفاظت میں ہو پر حملے کے جرم میں سویلین افراد پر بھی مقدمہ چلا سکیں گی۔

سنہ 2011 سے اب تک ہزاروں سویلین افراد پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جا چکے ہیں۔

کیا پارلیمنٹ میں بھی کوئی تبدیلی آئے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایوانِ زیریں جسے ایوانِ نمائندگان بھی کہتے ہیں، میں نشستوں کی تعداد 596 سے کم ہو کر 450 ہو جائے گی

نئے آرٹیکل دوبارہ سے ایک ایوانِ بالا قائم کریں گے جو 2014 میں ختم ہو گیا تھا۔

صدر نئے چیمبر کے 180 ارکان میں سے ایک تہائی کا انتخاب کریں گے، جو سینٹ کے نام سے جانا جائے گا۔ باقی براہ راست منتخب ہوں گے۔

ایوانِ زیریں جسے ایوانِ نمائندگان بھی کہتے ہیں، میں سیٹوں کی تعداد 596 سے کم ہو کر 450 ہو جائے گی۔ ان میں سے کم از کم 25 فیصد خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں