بیرون ملک ملازمت کی بڑی قیمت، بچوں سے دوری

گذشتہ موسم بہار میں کینبک اور ان کی بیوی نسرولو شمالی کرغستان کے ایک گاؤں کو چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں روس چلے گئے۔ سوچ یہی تھی کہ روس میں کام کر کے اتنے پیسے بچا لیں گے کہ بچوں کی تعلیم پوری ہو جائے گی اور گاؤں میں جو ادھورا مکان ہے اسے مکمل کر لیں گے۔ جتنا عرصہ وہ روس میں رہیں گے چار بچے، جن کی عمریں چار، پانچ، آٹھ اور گیارہ سال تھیں، وہ اپنی 54 سالہ نانی کے پاس رہیں گے۔

کینبیک اور ان کی بیوی نورصلو نے گذشتہ موسم بہار میں شمالی کرغزستان میں واقع اپنا گاؤں گریگورک چھوڑ کر روس میں کام تلاش کیا۔

یہ معمول کی بات ہے۔ کرغزستان میں ہر آٹھ میں سے ایک شخص ملک سے باہر روز گار کررہا ہے۔ یہ لوگ جو پیسہ ملک میں بھیجتے ہیں وہ کرغزستان کی کل قومی پیداوار کا ایک تہائی ہے۔ اور دنیا میں کم اور درمیانی آمدن والے ممالک میں ترسیلِ زر کے اس رجحان میں تیزی آنے والی ہے لیکن اس پیسے کی ایک قیمت ہے اور وہ یہ کہ چھوٹے بچوں کی ایک پوری نسل اپنے رشتہ داروں کے سہارے رہنے مجبور ہو چکی ہے جن میں اکثر عدم توجہی اور زیادتیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

واحد راستہ:

کینیبیک اور نسرولو کو ماسکو میں صفائی کا کام مل گیا۔ یہ دونوں ایک کرائے کے فلیٹ میں رہنے لگے اور فولڈنگ بستر پر گزارہ کرتے رہے۔ وہ جو کچھ بھی بچا پاتے گھر بھجوا دیتے لیکن چند ہی ماہ میں ان کے ساتھ ایک حادثہ پیش آ گیا۔

ان کی آٹھ سالہ بچی مدینہ کسی جگہ سے گری اور اس کا انتقال ہو گیا۔ ماں باپ کے پاس اس کے جنازے پر پہنچنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ دونوں میاں بیوی اس کا الزام نانی پر نہیں لگاتے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر وہ دونوں گھر پر ہوتے تو اسے فوری طبی امداد پہنچانا آسان ہوتا۔ اس کے باوجود ان کا یہی کہنا ہے کہ حادثہ تو کہیں بھی اور کسی وقت بھی پیش آ سکتا ہے۔

ابھی ماں کے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے کہ دونوں کو کام پر واپس ماسکو لوٹنا پڑا۔ مجبور ماں باپ کے پاس کوئی اور متبادل نہیں تھا۔

مدینہ کی موت اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں تھا اور اس سے سنگین اور کئی واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔

ایک دو سالہ لڑکے کو بستر میں پیشاب خطا ہو جانے پر اس کی ایک سرپرست رشتہ دار نے اتنا پیٹا کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔ اس کے علاوہ وسطی کرغزستان میں ایک چار سالہ بچی کو ریپ کر کے اس کے سات سالہ بھائی اور نانی سمیت قتل کر دیا گیا۔

صاف ظاہر ہے کہ یہ حادثات صرف ان گھرانوں کے ساتھ پیش نہیں آ رہے جن کے والدین ملک سے باہر ہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ والدین کی عدم موجودگی سے بچے بہت غیر محفوظ ہوجاتے ہیں۔

ماہرِ عمرانیات گلنارہ ابراوا کہتی ہیں کہ بیرون ملک والدین کی ہجرت ان کے بچوں کے لیے ہمیشہ بری ثابت نہیں ہوتی لیکن وہ ممالک جہاں یہ تارکیں وطن کام کرتے ہیں وہ ان کی اولاد کو قبول نہیں کرتے۔ 'اکثر ایسے میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ رہنے پر مجبور ہوتے ہیں اور انھیں اپنے اپنے کام کی جگہ کے قریب رہنا پڑتا ہے۔ اور یہ ایک دوسرے سے بھی کم ہی مل پاتے ہیں۔'.

’امریکی طرز زندگی کا خواب‘

ززگل ماداگازیموا کی عمر انتیس برس ہے۔ ان کی والدہ جب روزگار کی تلاش میں روس گئی تھیں تو ززگل صرف تیرہ برس کی تھیں۔ کرغزستان سے دوسرے ممالک سے کام کرنے والے تارکین وطن میں پینتالیس فیصد خواتین ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت کا کہنا ہے خاص طور پر بیرونی ملک کام کرنے والی خواتین کے زیادتیوں کا نشانہ بنے اور معاشرے سے کٹ جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں بلکہ ان کے بچے اور خاندانوں کو ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ززگل کو والدہ گھر سنبھالنے کے لیے پیچھے چھوڑ گئی تھیں۔ تین سال بعد زرگل کے والد بھی کام کی غرض سے روس چلے گئے۔ پھر ان دونوں کو واپس لوٹنے میں دس سال لگ گئے۔

اس دوران جو انھوں نے پیسے کمائے اس سے وہ اپنا قرض اتارنے میں کامیاب ہو گئے، ادھورے گھر کی تعمیر بھی مکمل کر لی اور بچوں کی تعلیم بھی پوری ہو گئی۔ ہاں التبہ ایک چیز جو وہ نہیں کر سکے وہ تھا اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا۔

ززگل کو اپنے والدین سے کوئی گلہ نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے خاندان کے پاس یہ ہی راستہ تھا۔ تمام تارکین وطن ایک امریکی زندگی کا خواب دیکھتے ہیں یعنی وہ اپنا گھر بنا لیں، ایک گاڑی خرید لیں، شادی کریں، بچے پیدا کریں اور اپنے بچوں کو اچھے سکولوں میں داخل کروائیں۔'

لیکن اکثر اس خواب کی تعبیر میں برسوں لگ جاتے ہیں اور اس دوران ان کے بچے بڑے ہوجاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ World bank

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں