ایجنٹ اورنج: امریکہ ویتنام کے زہر آلود ہوائی اڈے کو صاف کرے گا

ویتنام بچے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویتنام جنگ میں ایجنٹ اورنج نامی زیریلی گیس کے استعمال کے بعد ڈیڑھ لاکھ بچے پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہوئے

امریکہ نے ویتنام میں اس ہوائی اڈے کو صاف کرنے کا کام شروع کر دیا ہے جہاں اس نے ویتنام جنگ کے دوران ایجنٹ اورنج نامی گیس سٹور کررکھی تھی ۔

ویتنام کی جنگ کے دوران امریکی فضائیہ نے اُن گھنے جنگلوں میں ڈائی اوکسین ایجنٹ اورنج نامی گیس کا سپرے کیا تھا جہاں شمالی ویتنام کے جنگجو پناہ لیتے تھے۔ اس گیس سے متاثر ہونے والے کئی لوگ آج بھی ذہنی اور جسمانی عارضوں میں مبتلا ہیں۔

وینتام جنگ کے خاتمے کےچالیس سال بعد امریکہ نے اس ہوائی اڈے کو صاف کرنے کا دس سالہ پروگرام شروع کیا ہے جس پر 183 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔

’امریکہ نے ویتنام میں ان گنت وحشیانہ جرائم کیے‘

چالیس سال بعد جنگل چھوڑنے پر تیار

ویت نام: مضرِ صحت مادے کی صفائی شروع

ویتنام کے شہر ہو چی من سٹی کے قریب بئین ہوا ایئرپورٹ کو ویتنام کا سب سے زیادہ بناتاتی زہریلی گیس سے آلودہ جگہ تصور کیا جاتا ہے۔

ویتنام کا کہنا ہے کہ دسویں لاکھ لوگ اس ایجنٹ اورنج گیس سےمتاثر ہوئے ہیں جن میں ایک لاکھ پچاس ہزار بچے بھی شامل ہیں جو شدید جسمانی نقائص کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔

بئین ہوا ایئر پورٹ پر جمع کیا گیا نباتاتی گیس کا زخیرہ زمین میں جذب ہو کر قریبی دریاؤں میں پھیل چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بئین ہوا ایئرپورٹ کو ملک کا سب سے زیادہ زہریلی گیس سے آلودہ جگہ تصور کیا جاتا ہے

بئین ہوائی اڈے پر ڈائی اوکسین کی تعداد ڈا نانگ ہوائی اڈے سے چار گنا زیادہ ہے جہاں بھی ایجنٹ اورنج گیس کو سٹور کیا گیا تھا

یو ایس ایڈ کی جانب سے جاری ہونے ایک بیان کے مطابق بئین ہوائی اڈا ویتنام میں ڈائی اوکسن کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

ویتنام میں امریکی سفیر ڈینئل کرٹنبرنک نے کہا ہے کہ ماضی کے دو دشمن ایک پیچیدہ کرنے پر اکٹھے ہوئے ہیں ایک تاریخی واقع ہے۔

ویتنام کی جنگ کے دوران امریکی فوج نے ویتنام کے گھنے جنگلوں پر اسی ملین لیٹر سے زیادہ ایجنٹ اورنج نامی نباتاتی گیس کو سپرے کیا تھا۔

ویتنام میں 1960 کے بعد پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں اضافے کے علاوہ ملک میں کینسر کا مرض بھی تیزی سے پھیلا ہے۔

امریکہ ایجنٹ اورنج گیس سے متاثر ہونے والے اپنے سابقہ فوجیوں کو ہرجانہ ادا کرتا ہےلیکن اس نے ہمیشہ ویتنامی شہریوں کو معاوضہ ادا کرنے سے انکار کیا ہے۔