کانگو: دو گوریلے جو نیشنل پارک کے اہلکاروں کو اپنے ماں باپ سمجھتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ RANGER MATHIEU SHAMAVU
Image caption سیلفی، اور وہ بھی میرے بغیر۔ یہ تو نہیں ہو سکتا!

سیلفیاں تو آپ نے بہت دیکھی ہوں گی اور بنائی بھی، لیکن شاید ایسی سیلفی نہیں دیکھی ہو گی جس میں دو گوریلے بالکل انسانوں کی طرح پوز بنا کر بڑی آرام سے کیمرے کے کلک کا انتظار کر رہے ہوں۔

یہ منظر ہے کانگو کے ’ویرنگا نیشنل پارک‘ کا جہاں یہ سیلفی نشینل پارک کے ان اہلکاروں میں سے ایک نے بنائی ہے جنھوں نے ان گوریلوں کو شکاریوں سے اس وقت بچایا تھا جب یہ بہت چھوٹے تھے۔

گوریلوں کا غیر قانونی شکار کرنے والوں نے ان دونوں کے والدین کو مار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

گوریلے کی ہلاکت: ’بچے کی ماں پر الزام نہیں‘

گوریلے سے تمباکو نوشی چھڑوانے کی کوشش

’ریچھ پکڑنے کے لیے پہلے اس کی ماں کو مارا جاتا ہے‘

نیشنل پارک کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دونوں نے اپنے رکھوالوں کی نقل اتارنا سیکھ لیا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر انوسنٹ مبورناوا کا کہنا تھا کہ یہ دونوں گوریلے سمجھتے ہیں کہ یہ اہلکار ہی ان کے والدین ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی 2007 میں دونوں ننھے گوریلوں کی ماؤں کو شکاریوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ اس وقت ایک کی عمر صرف دو ماہ تھی جبکہ دوسرا چار ماہ کا تھا۔

واقعے کے کچھ ہی دن بعد یہ ننھے گوریلے جنگلی حیات کے بچاؤ کے لیے کام کرنے والے اہلکاروں کو مل گئے۔ وہ انھیں جنگلی حیات کی بحالی کے ایک مرکز میں لے آئے اور تب سے یہ دونوں اسی مرکز میں رہ رہے ہیں۔

’چونکہ یہ دونوں ان ہی اہلکاروں کے ہاتھوں میں بڑے ہوئے ہیں اس لیے یہ انسانوں کی نقل اتارتے ہیں اور دونوں ٹانگوں پر کھڑا ہونا انھوں نے انسانوں سے ہی سیکھا ہے۔

لیکن ڈپٹی ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ ایسا عموماً ہوتا نہیں ہے۔

اسی لیے ’جب میں نے انھیں ایسا کرتے دیکھا تو بہت حیران ہوا، یہ بڑے مزے کی بات ہے۔ یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ گوریلے کیسے انسانوں کی نقل اتارتے ہوئے دو ٹانگوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔‘

تاہم، اگر آپ ان گوریلوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں تو یہ ہمیشہ مزے کی بات نہیں کیونکہ یہ کام خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔

گزشتہ سال نیشنل پارک کی حدود کے اندر مبینہ باغیوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران عملے کے پانچ اہلکار مارے گئے تھے جبکہ سنہ 1996 سے اب تک ویرنگا کے علاقے میں نیشنل پارک کے 130 رینجرز مارے جا چکے ہیں۔

یاد رہے کہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقے میں حکومت اور کئی مسلح گروہوں میں لڑائی ایک عرصے سے جاری ہے۔ ان مسلح گروہوں میں سے کچھ کے ٹھکانے پارک کی حدود کے اندر ہیں جہاں سے وہ اکثر جنگلی حیات کو غیر قانونی طور پر پکڑتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں